Bihar News

سیکولرکہلانے والی پارٹیوں نےمیری قوم کوکنگال بنایا : مولاناغلام رسول بلیاوی

صراط صبر پرثبات قدم کامظاہرہ کریں ملک ہندکے مسلمان :امین شریعت مفتی عبدالمنان کلیمی

نیک کام کا ارادہ کرتے ہی نیکیوں کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے :صدر مفتی محمدحسن رضا

مطالبات کی تکمیل پرماضی کی تاریخ رقم کرنے پرکریں گے عہد : مولاناقطب الدین رضوی

اچھی نسلوں کے لئے اچھی مٹی تلاش کیجئے : مفتی امجدرضاامجد

رسم محمدی کی ادائیگی مسلمانوں کی پہنچان ہے : مولانااحسن رضا

محمدعربی نے پوری کائنات کونسخہ کیمیاغارحراسے دیاہے: نعمان اختر

تاریخ پڑھنے والاہی تاریخ رقم کرسکتاہے: مفتی غلام حسین ثقافی

ضلع سیتامڑھی کے مرغیاچک میں ادارہ شرعیہ تحریک بیداری کاہوازبردست اجلاس،امنڈتاہواعوامی سیلاب سے بلیاوی کاہوا انقلابی خطاب،حمایت میں اٹھے لاکھوں ہاتھ،تحفظ ناموس رسالت ومسلم سیفٹی ایکٹ بنانےپرزور،ملازمت واقتدار میں حصہ داری کامطالبہ،اسکول کالج یونیورسٹی بنانےپرکی اپیل۔

ضلع سیتامڑھی بہار(7/دسمبر2023)
آج مؤرخہ7/دسمبر2023ء کومرکزی ادارہ شرعیہ کے صدر،سابق ممبرآف پارلیمنٹ حضرت علامہ غلام رسول بلیاوی کی قیادت میں علماء،خطباء اورشعراء کاقافلہ ضلع سیتامڑھی کےعلاقہ مرغیاچک میں پہونچایہاں کے باشندوں نےتحریک کازبردست استقبال کیا.کانفرنس کی صدارت حضرت مفتی اسلم القادری قاضی ادارہ شرعیہ سیتامڑھی کی۔
مرکزی ادارہ شرعیہ کےصدر،قائد تحریک غازی ملت حضرت علامہ غلام رسول بلیاوی نے اپنے آفاقی اور انقلابی خطاب میں اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہاعرس،صندل،چادریہ ہماری عقیدت ہےاور اپنےایمان و عقیدہ کے تحفظ کے ساتھ زندہ رہنا یہ میری ضرورت ہے۔مزید کہا کہ کیڑوں کو روز مرتے دیکھا ہے روز جیتے دیکھا ہےاب آپ جاگ جائیں اور آج کی اس کانفرنس سے ہی اپنی زندگی کے اسٹائل کو بدل دیجئے،آپ نے پانچ سال اگر یہ نقشہ بدل دیا تو ہر محکموں میں ہر سکول،کالج،یونیورسٹی،فوج اور اقتدار میں حصہ داری یقینی ہوگی،علامہ بلیاوی نے اپنی قوم کو جھنجوڑتے ہوئے کہا کہ ابھی ہواؤں کی صداؤں کو ہم نے سنا ہے ابھی پورا طوفان آناباقی ہے وقت انے پر ہم 75 سال کی وہی تاریخ طے کریں گے جو بیت المقدس کی بازیابی کے لیے ہوئ ہے۔
علامہ بلیاوی نے بہار کی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ بہار ہی وہ صوبہ ہے جو پورے ملک کو نیا راستہ بتاتا ہے اور ہمیں فخر ہے کہ اسی بہار سے ازادی کا سورج نکلاہے۔
قائدتحریک نےسیاسی رنگینیوں کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب تک لوگوں کو سیاسی ورکروں سے پلہ پڑا ہے نبی کے عاشقوں سےپلہ نہیں پڑاہے۔ جن سیاچی پارٹیوں کو ہماری قوم نے بورا بھر کر کے ووٹ دیا تھا وہ بھی اس قوم کےبچوں کےحق کی لڑائی لڑنے کو تیار نہیں ہیں نہ ان کی ضرورت کو عدلیہ تک پہنچانے کے لیے تیار ہیں۔کہا کہ میں روز ڈھونڈتا ہوں کہ کاش میری قوم میں کوئی عبداللہ عبدالرحمن کوئی لیڈر ہوتا جو مسلمانوں کی آواز کو ان آواز تک پہنچاتا ہے جو آواز سے آواز کو بند کرتے ہیں،میں نے اب عہد کر لیا ہے کہ جب کوئی باپ اپنے پاگل بیٹے کے لیے کسی سے ہاتھ ملا سکتا ہے توقوم مسلم بھی قوم کے بچوں کی مستقبل کے لیے کسی سے ہاتھ ملا سکتاہے۔سیکولر پارٹی کے کسی نے بھی ہمارے بچوں کے نسلوں کے لیے اج تک نہیں سوچا ہے انہوں نے ہی میرے قوم کے بچوں کو کنگال بنایا اخر میں انہوں نے دینی جلسوں کے حوالے سے کہا کہ میں اپنےاکابرعالموں سےگزارش کرتا ہوں کہ جلسہ کوکاروبارنہ بننے دیں۔ آخر میں کہا کہ میں پارٹ ٹائم سیاست کرتا ہوں فل ٹائم مسلک رضا کی اشاعت و ترویج میں لگا رہتا ہوں اور علماء کرام سے مخاطب ہو کر کے کہا کہ خدا کے واسطے جلسے کو کاروبار نہ بنائیں اخر میں کانفرنس میں ائے ہوئے تمام باشندوں سےجہیز نہ لینا،سنت رسول پر عمل کرنا،قران پاک کی تلاوت مسجد و مدارس کے تحفظ پر عہدلیا،سارے شرکاء نے ہاتھ تو اٹھا کر استقبال کیا عہدکیاباور تحریک کو کامیاب کرنے کی حمایت دی۔
ادارہ شرعیہ کے امین شریعت حضرت علامہ ومولانامفتی عبدالمنان کلیمی صاحب نے اپنے دعائیہ انقلاب آفرین پیغام میں کہاکہ آج قومی صورتحال ہراعتبارسے تشویش ناک ہے۔آج ضرورت ہے کہ صراط صبرپر ثبات قدم کامظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔جذبات واحساسات کوابھارین نہیں بلکہ صبرسےاپنی مضبوط ومستحکم قوت پیداکریں۔
ادارہ شرعیہ کےصدرمفتی،فقیہ ملت،مفتی حسن رضا نوری نےکہاکہ جو آپ نے وعدہ کیاہےجب بھی نیک کام کاارادہ کریں ثواب اسی وقت سے شروع ہوجاتاہے۔انہوں نے حدیث رسول کاحوالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایک شخص جب حج،عمرہ کرنے والوں کودیکھکر تمناکیامگراس نے کسی کام کوانجام نہیں دیاتب بھی اس کاثواب انہیں ملتاہے۔
مرکزی ادارہ شرعیہ کے قاضی شریعت مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد نےاپنی مفکرانہ گفتگومیں کہاکہ زمانہ کےجس طرح تین اصول ہیں ماصی،حال،مستقبل ٹھیک اسی طرح زندگی کے احوال تین ہے بچپن،جوانی،بوڑھاپا،ضرورت ہے تینوں احوال پرگہری نظررکھیں،لورتابناك کرنےکی کوشش کرین،انہوں نے کہا کہ اگربچہ کے پاؤں میں کانٹاچبھ جائے توانسان پریشان ہوجاتاہے لیکن جب خنجرچلےتوحال کیاہوگا.صدرادقاضی نے کہاکہ رسول نے فرمایاکہ محشرمیں کثرت امت کی وجہ سے میں فخرکروں گااس لئے ضروری ہے کہ ایسی خاتون کاانتخاب کریں۔تاکہ آنے والی نسلیں کم سےکم سرکارکے فخرکاذریعہ ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ دنیاکی سب سے بہترین پونجی نیک اورصالحہ عورت ہیں انہوں نے کہاکہ اچھی نسل کے لئے اچھی مٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے زوردیتے ہوئے کہاکہ شادی کرنے والوں کوچاہئے کہ وہ بیوی تلاش نہ کریں بلکہ اپنے بچوں کی ماں تلاش کریں۔
ہندوستان کے مشہورخطیب مولانا سیف اللہ علیمی نے اپنےخطاب میں کہاکہ باراتی وہی جائے جونمازی ہو۔کہاکہ صحیح زندگی گزار وصحيح اولادپیداكرو،تاڑی،نشہ،سٹہ سےاپنی اولادوں کوبچاو۔وہی گھرانہ تلاش کروجوعبادت،ریاضت،تقوی،پرہیزگاری معیارکاہو،انہون نے کہاکہ بچوں کوحلال خوربناو،حرام خور مت بناو،انہوں نے حکومتی حکمران کوجھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ ہم جہاں وضوکے لئے بیٹھ جائیں تووہیں لال قلعہ بنتاہے اورجہاں دل لگالوں وہیں تاج محل بنتاہے۔
ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کےناظم اعلی حضرت علامہ قطب الدین رضوی نے قرارداد پیش کرتے ہوئےکہاکہ ہم اپنی قوم کے تحفظ وبقاکےلئے اپنے مطالبات کی تکمیل کے لئے اس وقت تک تحریک جاری رکھیں گے جب تک مطالبات پورے نہ ہوجائین اس کے لئے ہم اپنے ماضی کی تاریخ دوہرا سکتے ہیں۔اسکول،کالج،یونیورسٹی کے قیام کی مانگ کے ساتھ تعلیم پرمکمل سہولتیں فراہم کرنے کی اپیل کی۔ساتھ ہی قوم کومتحدہوکراوازکواوازدینےکی تلقین کی۔
ادارہ شرعیہ تحریک بیداری قافلہ کےسرگرم رکن مولانانعمان اخترفائق الجمالی نے کہاکہ اس وقت تحریک بیداری علامہ بلیاوی کے فکرکے پاکیزہ سائبان میں پورے ملک میں جاری ہےانہون نے کہاکہ قوم وہی کامیاب ہوتی ہے جس کے پاس ویزن ہو،خوبصورت لائحہ عمل ہو،اوراس قوم کی کامیابی کی لکیررحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاکیزہ تیورسے کھینچاہے۔جسے لفظ اقراء سے شروع کیا۔تعلیم وتربیت جب جمع ہوتی ہے تب علم ہوتاہے علامہ جمالی نے زوردیتے ہوئے کہاکہ ساری کائنات کونسخہ کیمیامحمدعربی نے غارحراسے دیاہے۔کہاکہ قرآن صرف نماز،روزہ،حج،زکوۃ صرف بتانے والی کتاب نہیں ہے بلکہ زمین آسمان کی بات بتانے والی کتاب ہے۔اس لئے زمین پررہناہے توزمین پرغورکرو،آسمان کوشامیانہ چاہئے تو آسمان پر غورکیجئے۔آخرمیں کہاکہ عالم کوچاہئے کہ خالق سے رشتہ مضبوط کریں،عالم صرف خوشنودی الہی حاصل نہیں کرتاہے بلکہ ڈاکٹربن کربھی قومی خدمت انجام دے کرخوشنودی الہی،ورضائے مصطفی کوحاصل کرسکتاہے۔
حضرت مولاناقاری نثاراحمدکلکتوی نے شادیوں میں تعدادباراتی کے حوالہ سےکہاکہ باراتی لے جانے کے وقت مت کہوکہ میراخاندان بڑاہے بلکہ جب قوم کی غریب بیٹی کی شادی ہوتواس وقت کہوکہ کہیں ہاتھ مت پھیلاؤ میراخاندان بہت بڑاہے۔انہوں نے کہاکہ مصیبت کے وقت کام آنامصطفی کے غلاموں کام ہے۔
ادارہ شرعیہ تحریک بیداری کے سرگرم رکن مفتی أحسن رضاسیتامڑھی نے اپنے بیان میں کہاکہ عوام اہلسنت کے درمیان اس وقت تحریک بیداری کی لہردوڑگئ ہے۔آج ضرورت ہے کہ علامہ بلیاوی کے حوصلوں کو،ان کے عزائم کو،ان کی ہمت،عزیمت کواتنابڑھادیں گے کہ وہی تاریخ رقم کریں گے جو محمدبن قاسم،عبیدہ ابن جراح،محممدبن طارق نے رقم کیاتھ،انہوں نےمزیدکہاکہ کہ فن حدیث،فن تفسیر،درس وتدریس کی خدمات اپنی جگہ مسلم لیکن اسے کے وقارکوبچالینا یہ وقت کی ضرورت ہے،تحریک بیداری کی کانفرنس سے انہوں نے پیغام دیاکہ کے مسلمانوں کے یہاں کوئی رسم نہیں چلے گی،چلے گی تورسم محمدی چلے گی۔
مرکزی ادارہ شرعیہ کے نائب قاضی مفتی غلام حسین ثقافی نے موضوع تحریک سے متعلق انقلابی اندازمیں کہاکہ جس دن معاشرہ جاگ جائےگا،توان کاجاگناایک سوال ہوگا پھریہ سوال کئ سوال پیداکرےگا،اورجب سوال کرنے والے کےذہن میں سوال پیدا ہوگاتوسوالوں کی شمع روشن ہوگی ،پھرکتنوں کےگھرجلیں گےکوئ نہین جانتا.
حسین ثقافی نے کہاکہ مسلمانوں کوچاہئے کہ وہ نبى پاک کے عاشقوں کی تاریخ پڑھیں،تاریخ حوصلہ دےگی،ہمت دے گی،بہادری ملے گی تاریخ وہی رقم کرسكتاہے جوتاریخ پڑھتاہے۔
ڈاکٹر ممتاز قادری نے اپنے دانشمندانہ بیان میں کہاکہ نہ شریعت بے اثرہےنہ ہی ادارہ شرعیہ بےاثرہے نہ مسلمان بے اثراہے۔ضرورت ہے کہ ہم جاگ جائیں،اسوقت تحریک بیداری کااثراندازیہ ہےکہ آج قوم کاہرفردعلامہ فضل حق خیرآبادی بننے کوتیارہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ جب قومیں زندہ رہتی ہیں تواس کی مسجد،مدرسہ،سماج محفوظ رہتاہےاورپورامعاشرہ زندہ رہتاہے۔جوقوم مرجاتی ہے توتواسے نہ دانا،پانی،کھاناکی ضرورت ہےحتی کہ انہیں قبرستان میں بھی جگہ نہیں ملے گی۔
خطیب ایشیا ویورپ حضرت مولانا عیسی مصباحی نے کہاکہ رئیس القلم کی فکر اس وقت منشاء شہودپر علامہ بلیاوی کی فکرمیں شکل میں دیکھنےکومل رہاہے۔انہوں نےکہاکہ کہ جس دن ہم شریعت کے مطابق اپنی زندگی گزارنا شروع کردیں گےتوجوبھی تحریک بیداری کے ایجنڈے ہیں اس کی تکمیل پرکوئ وقت نہیں لگے گا۔
شعرا کرام نے موضوع تحریک سے متعلق انقلابی اشعارپیش کیا۔
استاذ الشعراء الحاج دلکش رانچوی نے ،لیے دل میں جذبہ،ادارہ شرعیہ سوئے قوم نکلا ،رئیس القلم کام جو کرتے رہے، وہی سب کام کرے گاادارہ شرعیہ،بلبل ہندجناب سبطین عظیم آبادی نےتوہین رسالت سے لگے زخم ہے گہرے، ناموس رسالت پہ تحفظ کے ہوں پہرے، مجرم کے لیے طے ہو عدالت کے کٹہرے، مسلم کےتحفظ کے لیے ایکٹ ہوجاری یہ ہے تحریک ہماری۔شاعرانقلاب جناب توقیررضاالہ آبادی نے
پسینہ اس میں رئیس القلم کا شامل ہے، ادارہ شرعیہ کی تحریک رک نہیں سکتی ۔جیسے زبردست کلام پیش کئے۔
حافظ وقاری ولی الرحمن صاحب کی تلاوت سے کانفرنس کاانعقادہوا،نظامت کے فرائض حضرت علامہ قطب الدین رضوی انجام دیا،خطبہ استقبالیہ حضرت علامہ مفتی اسلم القادری قاضی ادارہ شرعیہ سیتامڑھی،نعت کاگلدستہ جناب ضیاءشبنم نے پیش کیا.کانفرنس کااختتام سلام ودعاپرہوا۔

Leave a Response