Dhanbad News

جھارکھنڈ میں الگ امارت کی ضرورت کیوں ؟

از __آفتاب ندوی
8002300339

ماہ رواں دسمبر کی چودہ تاریخ کو مدرسہ محمودیہ سرسا مڑما رانچی جھارکھنڈ میں مجلس علماء کی طرف سے منعقد ہ اجلاس علماء و ائمہ کے آخری چند لمحوں میں جو کچھ ہوا اسے بد قسمتی ہی کہا جاسکتا ھے ، ھوا یہ کہ حیدر آباد سے تشریف لائے مولانا عمر عابدین صاحب قاسمی ، دیوبند کے مولانا فرید الدین صاحب قاسمی ، لکھنؤ سے تشریف لائے مولانا علا ء الدین صاحب ندوی ، اور مولانا نذر توحید صاحب مظا ھری ، مولانا عبد الرحمان صاحب گڈا کی تقریریں اور راقم کی گفتگو ھوچکی تھی ،بیشتر لوگ اسٹیج چھوڑ چکے تھے ، مجلس علماء کے صدر مولانا صابر صاحب مظاہری اعلامیہ پڑھکر سنا رہے تھے کہ جمشید پور میں مقیم بہار کے مولانا نشاط صاحب نے صدر مجلس سے مائک لیکر امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے قیام اور امیر شریعتِ کے انتخاب کا ایک ہی سانس میں اعلان کردیا ، اور پھر مولانا نذر توحید صاحب لوگوں سے بیعت کے الفاظ کہلوانے لگے ،مولانا نذر توحید صاحب کے دوست اور سمدھی مولانا منظور صاحب قاسمی اور کچھ دوسرے لوگ جذباتی انداز میں مائک پر چلانے لگے کہ یہ ایک تار یخی گھڑی ھے ،مبارک و مسعود موقع ہے ، ،،، یہ حادثہ اتنا اچانک ہو ا کہ بیشتر لوگ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ھوا کیا ، البتہ کچھ لوگ اپنی ناراضگی کا اظہار کر نے لگے کہ یہ بہت غلط ھوا ، انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ اچانک نہیں پری پلان ہوا ،‌ اعلان سنکر کچھ لوگ اسیٹیج کی طرف دوڑے ، راقم بھی دسترخوان چھوڑ کر افتاں وخیزاں اسٹیج پر چڑھ گیااور صدر مجلس مولانا صابر صاحب اورجنرل سکریٹری مولانا طلحہ صاحب سے کہا یہ کیا ہوا ، ، مجلس علماء اگر اس میں شریک نہیں ھے تو مجلس اس بات کا اعلان کرے ، مولانا طلحہ نے اعلان کیا کہ ابھی جوکچھ ہوا نہ اس پروگرام کا یہ حصہ تھا ، نہ مجلس کا اس سے کچھ لینا دینا ہے ، مجلس اس سے براء ت کا اعلان کرتی ھے ،‌صدر مجلس نے بھی میڈیا والوں سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجلس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ، لیکن چونکہ جوکچھ ھوا ایسا لگتا ھے پلان کے تحت ھوا ، اسلئے میڈیا والوں سے بات کرتے ہوئے اور پریس ریلیز جاری کرکے مولانا نذر توحید صاحب کے لوگوں نے اور خود انہوں نے بھی جھارکھنڈ باسیوں کو خوشخبری دی کہ میں جھارکھنڈ کا امیر بن گیا ھوں ، خود مولانا نے لوگوں کو فون کرکے تہنیت کا مطالبہ کیا ، اور اس انداز سے پروگرام کے مختلف منا ظر کو ، مولانا نشاط صاحب کے اعلان امارت اور مولانا نذر توحید صاحب کے الفاظ بیعت کو سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا کہ لوگوں نے سمجھا کہ مجلس علماء کے ذریعہ جھارکھنڈ کے مسلمانوں یا کم ازکم علماء اور دانشور وں سے مشورہ کے بعد یہ ہوا ھے ، مجلس علماء کا اعلان براءت اور اس حرکت کے خلاف علماء کا رد عمل اور بیانات اس طرح وائرل نہیں ھو سکے جس طرح مضحکہ خیز انداز کا انتخاب امیر کی خبر وائرل ہوئی ، ایسا کیوں ہوا اور کس طرح مولانا نذر توحید صاحب اور انکے لوگوں کو اس حرکت کی جسارت ھوئی ، اسکا پس منظر کیا ہے اسکا جاننا ضروری ھے ،، مولانا ولی رحمانی صاحب کے انتقال کے بعد نئے امیر کے انتخاب اور طریقۂ انتخاب سے کہانی شروع ہوتی ہے ،‌مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی ، مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی ، مولانا نذر توحید صاحب مظاہری اور مولانا ولی رحمانی کے بیٹے مولانا احمدولی فیصل رحمانی کے نام امیر کے امیدوار کے طور پر مشتہر ھوئے ، مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی اور مولانا نذر توحید صاحب نے انتخاب سے پہلے اپنے نام واپس لے لئے ، مولانا انیس الرحمان ا ور موجودہ امیر صاحب کیلیے لوگوں نے ووٹ ڈالے ، انتخابی عمل کی انجام دہی ا ور نگرانی کیلیے گیارہ رکنی ایک کمیٹی بنائی گئ تھی ، اس کمیٹی میں مولانا نذر توحید صاحب اور مولانا انیس الرحمن صاحب بھی شامل تھے ، انتخاب کے بعد ان حضرات نے اپنے دستخط ثبت کئے کہ انتخاب درست طریقہ پر انجام پایا ، مولانا احمد فیصل رحمانی صاحب کو سب سے زیادہ ووٹ ملے اور آٹھویں امیر کے طور پر مولانا احمد فیصل صاحب کے نام کا اعلان کردیا گیا ، شروع سے انتخاب تک مولانا ‌نذر توحید صاحب ھر کاروائی میں شریک رہے ، ارباب حل وعقد کی خالی جگہوں کو پر کرنے کیلئے انہوں نے بھی اپنے لوگوں کے نام دئیےاور وہ شامل کئے گئے ، مولانا خالد سیف اللہ صاحب کے علاوہ ھر امیدوار نے اپنے اپنے وسائل کے مطابق اور اپنے اپنے انداز سے امیر شریعت کے منصب کیلئے کوششیں کیں ، آج بہت سے لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ، کوئی کہ رہا ھے کہ وہ امیر بننے ہی کے لائق نہیں تھے ، کوئی الزامات اور تہمتوں کی بارش کر رہا ھے ،‌ جب باقاعدہ بہار ، جھارکھنڈ اور اڑیسہ کے مسلمانوں کے ںمائندوں کے ذریعہ انتخاب عمل میں آیا اور خود مولانا نذر توحید صاحب نگراں کمیٹی کے رکن تھے اور دستخط کرکے سند دی کہ انتخاب صحیح ہوا تو پھر بعد میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے کا کیا جواز ہے ، اب آتے ہیں مڑما کے اجلاس علماء منعقدہ چودہ دسمبر کی طرف : ھوا یوں کہ مجلس علماء نے یہ دیکھتے ھوئے کہ دنیا ذہنی ، فکری و نفسیاتی طور پر ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ھے ، خود اپنے ملک کے حالات میں ایک انقلابی مگر منفی تبدیلی رونما ہوچکی ہے ، وقت کے تقاضے بدل چکے ہیں ا ور نئے چیلنجززھمارے سامنے کھڑے ہیں ، ان بدلے ھوئے حالات میں علماء کا کردار کیا ہواور قوم وملت کی خدمات اور اصلاح کا کیا طریقۂ کار ہو ، مڑما اجلاس کا کا واحد ایجنڈا یا موضوع یہی تھا ،چودہ دسمبر کی تاریخ مولانا خالد سیف اللہ صاحب کی دی ھوئی تھی ، آنے جانے کا ٹکٹ بن گیا تھا ، مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے سوچا کہ رانچی جا ہی رہے ہیں ، کیوں نہ پرسنل لا بورڈ کا تفہیم شریعت کے موضوع پر ایک پروگرام کر لیا جائے ، مولانا نے رانچی کے ڈاکٹر مجید عالم صاحب ا ور ھائی کورٹ کے وکیل عبد العلام صاحب وغیرہ کو اس پروگرام کا ذمہ دار بنایا اور اس طرح تیرہ دسمبر کو تفہیم شریعت کے موضوع پر ایک پروگرام طے ہوگیا ، ان حضرات نے شاندار پروگرام کا نظم کیا ، دعوت نامہ میں مجلس علماء کے ذمہ داروں میں سے کسی کا نام نہیں ڈالا گیا ، حالانکہ مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی کی رانچی آمد کی اصل محرک وداعی مجلس علماء علماء تھی , امیر شریعتِ صاحب کو بورڈ نے تفہیم شریعت پروگرام کا بہار و جھارکھنڈ کے لئے کنوینر مقر ر رکھا ھے ،پروگرام کے منتظمین نے نہ مولانا احمد فیصل رحمانی کو دعوت دی ، نہ اس اجلاس کی انہیں اطلاع دی گئ ، خدا جانے غفلت میں ایسا ہوا یا جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ، امیر شریعت صاحب نے بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ صاحب سے اسکی شکایت کی اور راوی کابیان ہیکہ انہوں نے انہیں تفہیم شریعت کے پروگرام میں شرکت سے منع کردیا ،‌اس طرح صدر بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی مڑما کے اجلاس میں شرکت نہیں ہوسکی ، اسکی وجہ سے مجلس کے ذمہ داروں نیز عام علماء میں ناراضگی بلکہ اشتعال پیدا ہوگیا ، غصہ و اشتعال کے اسی ماحول میں جھارکھنڈ کیلیے الگ امارت اور امیر کا مطالبہ سامنے آیا ، مجلس نے الگ امارت کا عزم ظاہر کیا ،‌ امارت اور امیر کا اعلان کرنے والوں نے ماحول کو سازگار پاکر اجلاس کے اختتام پر وہ کیا جو سوشل میڈیا کے ذریعہ علماء کے بیچ موضوع بحث بنا ہوا ہے ،امارت شرعیہ سے تین صوبوں کے لوگ ایک صدی سے وابستہ ہیں ، چودہ دسمبر کے اجلاس مڑما میں افسوسناک ، مضحکہ خیز اور ڈرامائ انداز میں اعلان امارت اور انتخاب امیر کی کوشش نے تصور میں راقم کو ایک صدی قبل پٹنہ کی پتھر کی مسجد میں پہنچا دیا ، بانئ ندوہ العلماء مولانا محمد علی مونگیری معذرت کر رہے ہیں کہ میں کمزور اور بوڑھا ھوں ، مجھے معاف رکھا جائے ، جبکہ لوگ انکی بزرگی ، انکی عظیم الشان ملی خدمات اور حالات حاضرہ وملت اسلامیہ کو درپیش چیلینزز سے واقفیت کی وجہ انہی کو امیر بنا نا چاہتے تھے ، لیکن انکا انکار لو گوں کے اصرار پر غالب آیا اور انہوں نے اس وقت کے مشہور صاحب علم صوفی شاہ بدر الدین زیب سجادہ خانقاہ مجیبیہ پھلو اری شریف پٹنہ کو امیر بنانے کا مشورہ دیا اور اتفاق رائے سے امارت کے پہلے امیر منتخب ھوئے ،آج انتخاب کو جیتنے کیلئے باقاعدہ مہم چلائی جاتی ھے ، گزشتہ انتخاب میں متعدد امیدواروں کی طرف سے یہ عمل کیا گیا ، وسائل کے اعتبار سے کسی نے کم کسی نے زیادہ محنت کی ، مڑما اجلاس میں امارت اور امیر کا جس انداز سے اعلان ھوا یہی کہا جاسکتا ھے کہ پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے ، اس سے اسکا بھی اندازہ ہوتا ہےکہ امارت ا ر امیر کا ھمارے ذہنوں میں کیا تصور ہے،‌ ایک آدمی نے مائک چھین کر اعلان کردیا سمجھ لیا کہ سوسالہ امارت زمیں بو س ھوگئ اور مولانا نذر توحید صاحب لوگوں کو فون کرکے تہنیت مانگنے لگے ا ور وفد لےکر دورے کرنے لگے کہ بیعت کرو، مجہے امیر مانو ،‌ چند امور قابل غور اور چند سوالات ہیں جو جواب چاہتے ہیں ،،،، اس میں شک نہیں کہ اسلام میں اتحاد واتفاق کی جو اہمیت ہے اور انتشار و افتراق کیسا جرم ھے اسے عام مسلمان بھی جانتا ھے ، قرآن وحدیث میں سیکڑوں جگہ اسکی تاکید کی گئ ہے ، اور افتراق و انتشار کوعظیم گناہ بتاکر اس سے بچنے کی ہدایت کی گئ ھے ،‌تفرقہ بازی کو قتل سے بھی زیادہ سنگین بتایا گیا ،‌ خود خالق کائنات نے حالت جنگ میں بھی ایک امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے کی تاکید کی اور اسکا طریقہ بتایا ، علماء سے اس موضوع پر عام مسلمان مدلل بیانات وتقاریر سنتے رہتے ہیں ، لیکن یہ بڑا المیہ ہیکہ افتراق بڑھتا جارہا ہے خاص طور پر خواص اور علماء میں یہ مرض تیزی سے بڑھ رھا ھے یہاںتک کہ اب اہل علم و دانش بھی اسکو دلیل کے طور پر پیش کرنے لگے ہیں کہ دیکھو وہ ادارہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ،‌فلان تنظیم میں بکھراؤ ھے ،‌ فلاں ادارہ میں جھگڑا ھے ، سوسالہ امارت کو اگر بانٹ لیتے ہیں تو کیا قیامت آجائیگی ، تعجب ہیکہ تعلیم یافتہ لوگ افتراق کے جواز کیلئے اس طرح کی دلیلیں دے رھے ہیں ،اسکا مطلب تو یہ ھوا کہ قرآن وحدیث میں نعوذ باللہ اتحاد پر اتنا زور بلا وجہ یا غلط دیا گیا ہے ، کیا افتراق زیادہ بہتر ھے کہ اس سے امت کو زیادہ نفع پہنچ رہا ہے ،‌ ، غلط عمل کو دلیل راہ بنایا جارہا ہے ،اگر کسی کا عمل یا کسی کی کوئی بات غلط ہے تو وہ غلط ھے ،‌چاھے وہ کوئی ہو ، جمعیہ علماء اور بعض دوسری تنظیموں کا نام لیا جارہا ہیکہ جھارکھنڈ کے قیام کے ساتھ جھارکھنڈ جمعیت قائم ہوگئ ، اسے مثال میں پیش کرنا صحیح نہیں ، ریاستی جمعیت ہر ریاست میں الگ ھے ، اسلئے جھارکھنڈ کے قیام کے ساتھ جھارکھنڈ جمعیت قائم ھوگئ ، امارت شرعیہ کا معاملہ یہ ہیکہ شروع ہی سے امارت شرعیہ برائے بہار و اڑیسہ ھے ، جھارکھنڈ بہار ہی کا حصہ تھا ، اسوقت کے علماء کے پیش نظر تھا کہ امارت کو بعد میں کل ہند سطح کا بنا یا جائیگا لیکن ایسا نہیں ہوسکا ، بلکہ اب اسکی ترقئ معکوس کیلیے جدو جہد کا آغاز ہوگیا ہے ،‌، اسی طرح ترقی اردو یا سرکاری اداروں کی بھی مثال دی جارہی ہے جو یہاں بالکل بے جوڑ اور ان فٹ ہے ، یہ ادارے تو ھر اسٹیٹ کیلیے ضروری ہیں ، جب بھی کوئی نئ ریاست بنے گی یہ ادارے وجود میں آئینگے ، ، جو لوگ جھارکھنڈ امارت شرعیہ بنا نا چاہتے ہیں انہیں کوءی نہیں روک سکتا ، انہیں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ، نہ پروپیگنڈہ کی حاجت ہیکہ جھارکھنڈ سے صرف چندہ وصول کیا جاتا ھے لیکن یہاں کے مسلمانوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ، ، یہاں امارت کا کوئی کام نہیں ھے ، کافی عرصہ سے اسکا ذکر ھورھا ھے ، ابھی امارت نے تفصیل بتائی کہ پچھلے سال امارت کو جھارکھنڈ سے تقریبا 77لاکھ چندہ ملا ، اور امارت نے مختلف مدوں میں جھارکھنڈ کے مسلمانوں پر ایک کروڑ سے زیادہ خرچ کیا ، جھارکھنڈ میں امارت کے چاروں اسکولوں میں پورا اسٹاف جھارکھنڈ ہی کا ہے ،جھارکھنڈ کے سولہ دار القضاء کے تین چار کے علاوہ تمام قاضی اور ملازمین جھارکھنڈ کے ہیں ،بہار اور بنگال کے متعدد دار القضاء میں جھارکھنڈ کے قاضی اور مفتی ہیں ، مولانا نظام الدین صاحب کئ دھائ تک امارت کے ناظم پھر امیر رھے ،بورڈ کے ابتک جتنے صدر رہے سب کے سب ھندی بیلٹ ا ور ایک ہی مکتبۂ فکر سے ہوئے ، تو کیا؟سکی وجہ سے ھر خطہ کا الگ بو رڈ بنے ، عام طور پر ہوتا یہ ہیکہ جو لوگ کسی ادارہ کے سربراہ اور منتظم ہوتےہیں وہ جن سے واقف ھوتے ہیں انہی کو ادارہ کیلیے ترجیح دیتے ہیں ،‌یہ سمجھکر کہ یہ ادارہ کیلیے زیادہ مفید ہوگا ،بعض لوگوں نے ریٹائرمنٹ کے نظام کو بھی ھدف ملامت بنایا ھے ، کچھ نے امارت کے ان کارکنان کا تذکرہ کیا ہے جو کچھ روز پہلے امارت چھوڑکر دوسرے ادارہ میں چلے گئے ہیں ، کسی نے رحمانی تھرٹی کو بھی گھسیٹ لیا ھے ، سنجیدگی سے اگر غور کیا جائے تو یہ امور ایسے نہیں ہیں کہ جھارکھنڈ کیلیے الگ امارت قایم کرنے کا جواز فراہم ھوجائے ، اس میٹنگ کا بھی ذکر ھورھا ھے جو مولانا نظام الدین صاحب سابق امیر شریعت کے ساتھ ھوئ تھی ،‌سوال یہ ہیکہ امارت کو جھارکھنڈ کیلیے جو کام کرنے تھے وہ اگر نہیں ہوئے یا کچھ ہوئے کچھ نہیں ھوئے تو یہ بات امارت کے ذمہ داروں سے کرنی چاھئے تھی ، امارت ایک منظم ادارہ ہے ، ھر کام کیلیے ایک نظام بنا ہوا ہے ،
جھارکھنڈ یا کسی بھی ریاست میں کوئی بھی فرد یا کوئی بھی تنظیم امارت قائم کرنے کا اعلان کرسکتی ھے کہ فلاں شخص ریاست
یا پورے ملک یا پوری دنیا کے امیر بنائے گئے ہیں ، بغاوت یا کسی جرم کا کوئی کیس درج نہیں ہوگا ،‌ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے ،‌ دوسری بات یہ کہ سلیقہ سے باضابطہ ریاست کے مسلمانوں سے مشورہ کے بعد امارت کا اعلان ہو جائے تو کیا کل دوسرا شخص امیر بنکر کھڑا نہیں ھوجائیگا ،کبتک جھارکھنڈ میں ایک امیر کی امارت رہے گی ، کل کوئی دوسرا اور تیسرا مدعی امارت نہیں ہوگا ، جھارکھنڈ امارت کیلیے جو دلیلیں اسوقت دی جارہی ہیں وہی دلیلیں دوسری اور تیسری امارت کیلئے بھی کل کے دن دیجائینگی ،مثلا ضلع کی امارت ضلع کے لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچائیگی ، اور امارت میں صرف چترا یا اٹکی کے لوگ بھرے ھوئے ہیں ، کیا اس تقسیم در تقسیم کو کوئی روک سکتا ھے ، ھر گز نہیں ، اور کیا امارت اور امیر کی کوءی حیثیت ہوگی ، ،، دوسری بات یہ کہ الگ امارت کے بغیر کونسا کام آپ نہیں کرسکتے ،‌کیا مسلمانوں کی آپ مدد نہیں کرسکتے ، کیا مسلم بچوں اور بچیوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کیلیے مہم نہیں چلا سکتے ، کیا سماجی خرابیوں کے ازالہ کیلیے کوءی پروگرام ترتیب نہیں دے سکتے ، کئی دہائیوں سے مجلس علماء جھارکھنڈ سرگرم ہے ، لیکن ابھی تک جھارکھنڈ کے ایک چوتھائی خطہ تک بہی یہ نہیں پہنچ سکی ، مجلس علماء میں کرسی نہیں ملی تو مرکزی مجلس علماء وجود میں آگئ ، اس میں کرسیاں کم پڑگئیں تو مسلم مجلس علماء ، کا اعلان ہوگیا ،دار القضاء اور دار الافتاء کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے ، جبکہ ضرورت کے مطابق یہاں دارا لقضاء موجود ہیں ، ضرور ت مسلمانوں کو دار القضاء سے اپنے معاملات کو حل کرنے پر آمادہ کرنا ہے ، کتنے مسلمان اپنے مقدمات کو لیکر دار القضاءپہنجتے ہیں ، کام کے میدان خالی پڑے ھوئے ہیں ، امارت شرعیہ کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو شریعت کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنے معاملات کو شریعت کی روشنی میں حل کی ترغیب دینا ہے ، اور صرف ترغیب وتشویق کے ذریعہ ، کیونکہ امارت لاٹھی سے محروم ہے ، اسی لئے اہل علم کا ایک طبقہ امارت کو تسلیم نہیں کرتا ھے کہ قوت نافذہ کے بغیر وہ معتبر نہیں ھے ،امارت کا کام بے روزگاروں کو روز گار فراھم کرنا ، یا جو گھر سے محروم ہیں انہیں گھر مہیا کرانا نہیں ھے ،‌اگرچہ اس طرح کے کام بھی امارت حسب وسائل انجام دیتی ھے ، امیر شریعت کے سایۂ عاطفت کے بغیر صرف قاضی شریعت کے فیصلے نافذ نہیں ہوتے ہیں ، بقیہ کوءی بھی تنظیم یا فرد مسلمانوں کی بھلائی و خوشحالی کا کوئی بھی فلاحی ، تعلیمی اور سماجی کام کرسکتا ھے ، بعض لوگوں کا کہنا ہیکہ جو کچھ ہوا اللہ کی مرضی سے ہوا ، تعجب ہیکہ علماء ایسی باتیں کہ رھے ہیں ، اس دلیل سے تو کسی کو نہ مجرم قرار دیا جاسکتا ھے نہ کسی کو سزا دی جاسکتی ھے ، کوءی بھی جرم کرلے اور کہدے کہ اللہ کی مرضی سے ہوا ،،،اور اگر بغیر کسی دلیل و بغیر کسی سبب کے کوءی جھارکھنڈ امارت قائم کرنا چاہتا ھے تو شوق سے کرے ، کوئی مسلم مملکت یہاں نہیں ہے ، کوءی ڈنڈے والا حاکم بہی نہیں ہیکہ اسے کوءی سزا ملے گی ، علماء اور اہل فکرو دانش سے گزارش ہے کہ خوب غورکریں کہ جھارکھنڈ امارت بنانا مفید و درست ھے یا نقصان دہ و نامناسب ، اور جس طرح امیر بننے اور امیر بنانے کی کوشش ہورہی ہے کیا اسے کسی بھی اعتبار سے درست قرار دیا جاسکتا ھے ،، مولانا نذر توحید صاحب بھی سوچیں کہ کیا اس انداز سے امیر بننے کی کوشش آپکو زیب دیتی ھے ؟!
نیاز مند ،، آفتاب ندوی دھنباد جھارکھنڈ موبائل 8002300339

Leave a Response