Tuesday, May 21, 2024
Dhanbad News

از خواب گراں خیزاز :-آفتاب ندوی دھنباد

ذیل کی تحریر بعنوان ،،
ھلال عید ،،،راقم نے سال گزشتہ لکھی تھی ، فلسطین میں انسانیت کو شرم سار کرنے والے اور ھر صاحب ضمیر وغیرت کے خون کو کھولانے والے صہیونی ظلم وبربریت اور قتل وغارت گری کا ننگا ناچ اسکے بعد شروع ہوا ، تمام انسان ایک ماں باپ کی سنتان اور آپسمیں سب بھائی بھائی ہیں ، اور آخری آسمانی مذھب کے تمام پیرو کار اور ایک قبلہ کی طرف رخ کرکے اپنے خالق ومالک کو یاد کرنے والے ایک جان دو قالب نہیں بلکہ انکے محبوب آقا نے انہیں ایک جان ایک قالب قرار دیا ہے ،محمد عربی کی امت کا ایک فرد مشرق میں اور دوسرا مغرب میں چاہے رہتا ہو دونوں ایک جان ایک قالب ہیں ، اگر جسم کے کسی حصہ میں درد ہو ، مصیبت میں ہو ، آنکھ میں کوئی تکلیف دہ چیز پڑجائے ، پھنسی ھوجائے ، تلوے میں کانٹا چبھ جائے ، انگلی کٹ جائے تو کیا جسم کے بقیہ اعضاء درد وچبھن سے لا تعلق رہ سکتے ہیں ، بے چینی وتکلیف میں شریک نہیں ہونگے؟! جسم کا رواں رواں وہی جلن وہی الم وہی بے قراری محسوس کرے گا جو آنکھ اور جسم کا کوئی زخمی انگ محسوس کر رہا ہوگا ، لیکن آج قوم مسلم کے جسم کی بناوٹ اور ساخت کس طرح ھوگئ ہے کہ تمام اعضاء و جوارح ایک دوسرے سے لاتعلق ھوگئے ہیں ، کسی کو کسی سے کوئی مطلب نہیں ، کسی کو کسی کی کوئی فکر نہیں ، ھر عضو انتہائی خود غرض اور غمخواری و انسانیت اور غیرت و حمیت سے ایسا عاری ھوگیا ہے کہ آنکھوں میں سوئیاں چبھی ھوئی ہیں ، ہاتھ پیر ٹکڑے ہورہے ہیں ، پر دوسرے اعضاء پر کوئی اثر نہیں ، وہ سکھ چین میں ہیں ، انہیں آنکھوں کی تکلیف و بے خوابی سے کوئی لینا دینا نہیں ، بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں آرمینیا ، طرابلس اور بلقان کے مسلمانوں پر فوج کشی ہوتی ھے ، لوگ مارے جاتے ہیں ،اسکی خبر غلام ھند وستان پہنچتی ہے ،آپ جانتے ہیں کیا ہوا ، کیا اہل ایمان اور اہل ضمیر نے صرف اخباروں میں خبریں پڑھ لیں اور دوسرے کاموں میں مشغول ھوگئے ،کچھ لوگوں نے زبانی یا تحریری تبصروں پر اکتفاء کیا ؟ ھر گز نہیں ، الہلال ، کامریڈ اور مدینہ بجنور کی فائلیں گواہ ہیں کہ غلام ہندوستان کے غلام مسلمان تڑپ اٹھے ، قلم کے شہنشاہوں نے قلم کو تیغ جوھر دار کے طور پر استعمال کیا ، جذبات متلاطم ھوگئے ، نہیں معلوم ہوتاتھا کہ ہزاروں میل دور کہیں اور یہ واقعات رونما ہورہے ہیں ، ڈاکٹر زخمیوں کے علاج مرہم پٹی کیلئے نکل پڑے ، مفکر پیر مغان شبلی شدت جذبات میں نوجوان ڈاکٹر کے بوٹ چوم لیتا ھے ، جب خلافت پر خطرات منڈلانے لگے ،، جان بیٹا خلافت پہ دیدو ،،سے پورے ملک میں ایسی آگ لگتی ھیکہ برادران وطن بھی جان بیٹا خلافت پہ دیدو الاپنے لگتے ہیں ، کانپور کی ایک مسجد کی دیوار اٹھانے والے مسلمانوں پر انگریز حاکم نے گولی چلوادی اور بڑوں کے ساتھ کچھ طفل خورد سال نے بھی جام شہادت نوش کیا ، پورے ملک میں جذبات بھڑک اٹھے ، اہل قلم نے اسے مشھد اکبر کا نام دیا ، شعراء نے ایسے دلسوز مرثیے لکھے کہ آج بھی انہیں پڑھکر آنسو چھلک پڑتے ہیں ،آہ ہم کتنے بدل گئے ، چھ ماہ سے اہل فلسطین پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ھیں ،معصوم کلیوں کو مسلا جارہا ھے ، مائیں بہنیں شھید ہورہی ہیں ، بوڑھوں نوجوانوں کے بموں سے چیتھڑے اڑ رہے ہیں ، دانے دانے اور بوند بوند کیلئے لوگ ترس رہے ہیں ، العطش العطش کہتے کہتے آوازیں خاموش ہوجارھی ہیں ، لیکن تیمور کے گھرانے سے حمیت رخصت ھوچکی ہے ، غیرت مرگئی ہے ، مبارک سرزمین کے چاروں طرف جہاں یہ قیامت برپا ھے انسان نہیں مسلمان بستے ہیں ، انکا قرآن ، انکا قبلہ اور انکا نبی وہی ہے جو غزہ کے مظلوم مسلمانوں کا ہے ، لیکن یہ ایسے بزدل ،بے بس اور بے غیرت ہیں کہ بچوں کیلئے دودھ اور مریضوں کیلیے دوا اور ماؤں بہنوں کیلئے چادر بھی نہیں پہنچا سکتے ، پوری دنیا میں عالیشان مسجدیں تعمیر کروانے والوں کی غیرت و حمیت کو ہزاروں مسجدوں کی شہادت بھی بیدار نہیں کرپا رہی ھے ، غزہ میں گھاس پھوس کا جوس بھی نصیب نہیں اور شیخ حرم پوری دنیا سے ناچنے گانے والوں کو بلا کر انکی تعظیم وتکریم میں لگا ہوا ہے ، جشن منائے جارھے ہیں ، وامعتصماہ سے تڑپ اٹھنے والے حکمران کہاں گم ھوگئے , جسطرح یہ حکمراں اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے اسی طرح ہم عام مسلمان بھی شائد نہ بچ سکیں ، کیا آقا نے نہیں کہا تھا کہ جو اپنے بھائیوں کی خبر گیری نہ کرے وہ ھم میں سے نہیں ، کیا ھم اپنے ان ستم رسیدہ بھائیوں کے بارے میں سوچتے ہیں ، کیا ہم لند ن ، جرمن ، امریکہ ، آسٹریلیا کے عیسائیوں ،یہودیوں اور بے دین لوگوں کی طرح احتجاج بھی نہیں کرسکتے ، ملی غیرت و حمیت کہاں دفن ھوگئ ، قوم مسلم ایک عالمی قوم ہے ، ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست جس کا کبھی نعرہ تھا، آج وہ اپنی ذات میں سمٹ کر رہ گیا ہے ،گھروندوں میں بند ہوگیا ہے ،حدودو ثغور کی تنگنائیوں میں قید ہوگیا ہے ، اونٹوں کے چرانے والوں کو جس دین نے دنیا کی قیادت کا قرینہ دیا ، عالمی سوچ سے روشناس کیا ، جس دین کی برکت سے دنیا پہلی مرتبہ گلو بائزیشن سے متعارف ھوئی آج اس دین کے ماننے والے اسکے نام لیوا اپنے دینی بھائیوں سے اس طرح لاتعلق ھوجائینگے تصور نہیں کیا جاسکتا تھا ،ھمیں جگانے کیلئے اب کونسی قیامت آئیگی ،عالم عربی میں کل اور ایک دن کے بعد جمعرات کو برصغیر میں عید منائی جائیگی ،
ھلال عید —- عید خوشی اور مسرت کادن ہوتا ہے ، لیکن آپ جانتے ہیں کہ خوشی کا تعلق انسان کے اندرون سے ھوتا ھے ، دل سے ہوتا ھے ، ایک زمانے سے ھمیں سچی خوشی حاصل نہیں ، خوش ہونے کا ہم رسم ادا کرتے ہیں ، نئے کپڑے سلوا لیتے ہیں ، بال بچوں کیلئے نئے جوڑے خریدلیتے ہیں ، نئے چپل جوتے بازار سے لے آتے ہیں ، سویاں ، دہی بڑے ، اور دو سرے اچھے اچھے پکوان کا انتظام کرلیتے ہیں ، خود کھاتے ہیں ، دوست احباب اور رشتہ داروں کو کھلاتے ہیں ، ایک د وسرے کے یہاں آنا جانا ہوتا ہے ، بچوں کو عیدی مل جاتی ھے ،‌ یہ سب رسمیں ہیں ، مسلم کلچر کا حصہ ہیں ، رواج ہیں ، لیکن وہ خوشی کہاں ہے جسکو حقیقتا خوشی کہا جاتا ہے ، سچی خوشی اندر سے ابلتی ہے ، روئیں روئیں سے پھوٹتی ہے ،حقیقی خوشی ملے بھی تو کیسے ، کیا ایسے وقت سچی خوشی مل سکتی ھے جب جان مال عزت وآبرو محفوظ نہ ہو ، جب سماج کے ایک بڑے طبقہ کو زندگی کی بنیادی سہو لتیں میسر نہ ہوں ، جب سماج کو پینے کیلئے صاف پانی ، کھانے کیلئے مناسب غذا نہ ملے ، مہنگائی کی وجہ سے لاکھوں لوگ علاج نہ کروا سکیں ، جنکے پاس پیسہ ہے وہ خوف ہراس کی زندگی گزاریں ، ایک بہت بڑی تعداد بچوں کو تعلیم نہ دلوا سکے ،جہاں انصاف بکتا ھو ، جہاں مجرم اور قاتل سے پوچھ کر فیصلے لکھے جاتے ہوں ،جہاں ڈاکؤوں اور مافیا ؤوں کے گلے میں ھار ڈالا جاتا ہو ، کیا ایسے سماج میں حقیقی اور سچی خوشی حاصل ہوسکتی ہے ؟ہرگز نہیں ، یہاں خوشی کا مظاھرہ ھو سکتا ھے ، ھم کھانے پینے اور کپڑے لتے سے یہ بتانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ ہم خوش ہیں ، ہمارے بچے بچیاں ارتداد کا شکار ہورہے ہیں ، تعلیم وتربیت کی کمی کی وجہ سے آخری دین کو چھوڑکر نماز پڑھنے والے اور حج کرنے والوں کی اولادشرک و کفر کی آگ میں جارہی ہے ، قرآنی حقائق کا انکار کر رہی ہے ، اورستم تو یہ ہیکہ ہمیں احساس بھی نہیں ھیکہ ھم زوال وپستی کی کس کھائی میں گرچکے ہیں ، جس دین کو اللہ کے نبیوں اور پیغمبروں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے ہم تک پہنچایا تھا وہ دین ہم سے نکلا جارہا ھے ، ایسے میں عید اور عید کی خو شیاں کیسی ، او ہلال عید ، او عید کا چاند آسمان کی بلندی سے ہماری دنیاکی حالت بھی ذرا دیکھ لے ، او ہلال عید ! دوسری قوموں کی تیز رفتاری اور ہماری سستی کاہلی ، اور ہماری جہالت کو تو نہیں دیکھ رہا ہے ،دیکھ مسجد میں شکست رشتۂ تسبیح شیخ ،بت کدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ ، لوگو سوچو کہ اس صورت حال سے ھم کس طرح نکلیں ، اپنی بیماریوں کا علاج کس طرح کریں ، زوال و پستی سے باہر آنے کیلئے کیا تدبیر اپنائیں ، خرابیاں بہت ہیں ، بیماریاں طرح طرح کی ہیں ، اسلئے علاج بھی ہمیں کئی طرح کے اپنانے پڑینگے ،
لوگو پہلا علاج اور یہ بنیادی علاج ہیکہ ہمارا عقیدۂ توحید بہت پختہ ہو ، اللہ ایک ہے ، وہی ہمارا خالق و مالک ھے ، اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے اور اسی کے ہاتھ میں موت ہے ،‌دنیا کی تمام طاقتیں ہمیں نہیں مارسکتیں اگر اسکا حکم نہیں ہوگا ، موت کا وقت مقرر ہے ،‌نہ ایک سیکنڈ پہلے نہ ایک سیکنڈ بعد آتی ھے ، اور ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ اللہ نے اسلام کی دولت سے نوازا ، ہمیں محمد رسول اللہ کی غلامی عطاء کی ، یہ اتنی بڑی نعمت ہیکہ اسکے مقابلہ میں زمین و آسمان کی بھی کوئی قیمت نہیں ،‌ اور ہمارا یہ بھی ایمان ہونا چاہئے کہ اللہ کے ‌نزدیک قابل قبول صرف دین اسلام ہے ، اب اسلام کے سوا کو ئی مذہب قابل قبول نہیں ، اپنے بچوں کے ذہن ودماغ میں اس فکرو عقیدہ کو پیوست کردیں ، اس طرح کہ لاکھ آندھی آئے طوفان آئے قدم نہ ڈکمگائے ، جان چلی جائے پر ایمان نہ جائے ، عقیدہ نہ جا ئے ،
ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ سارے لوگ یکساں نہیں ہیں ، سب لوگ جان بوجھ کر ہم سے دشمنی نہیں کرتے ہیں ، ہم سے انکی نفرت کی ایک وجہ یہ بھی ہیکہ ہمارے عمل نے لوگوں کو بدگمان کیا ، ہم میں اور دوسرے لوگوں میں کوئی فرق نہیں رہ گیا ،‌ خیانت ، رشوت ، بد معاملگی اور وعدہ خلافی میں ہم کسی سے کم نہیں بلکہ کچھ لوگوں کا خیال ہیکہ ہم آگے ہیں ، اسکی وجہ سے ہم مبغوض و ناپسندیدہ بن گئے ہیں ، دو سری بڑی وجہ یہ ہیکہ ان سے ہماری دو ری نے بدگمانی کو مزید ہوا دی , ھمارے دین سے وہ واقف نہیں ، ھم انسانوں کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں ، اسکو کتنا اونچا مقام دیتے ہیں وہ نہیں جانتے ، آج حقوق انسانی کا بڑا چرچا ھے ، لیکن وہ نہیں جانتے کہ ھم تمام انسانوں کو برابر کا درجہ دیتے ہیں ،قرآن نے ایک بے گناہ کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ھے ،‌ ضرورت ہیکہ دوسرے لوگ ہمارے عقائد ، ھماری روایات سے واقف ہو ں ، واقف کرانے کے بہت سے طریقے اور ذرائع ھو سکتے ہیں ، ھم اپنے پروگراموں میں انہیں اہمیت کے ساتھ دعوت دیں ، اسلام کے تعارف کیلئے اچھے قلم کاروں کی کتابیں انہیں دین ، ھندی میں ترجمۂ قرآن بھی انہیں دینا چاھئے ، اپنے مدرسوں اور اسکولوں کے پروگراموں میں انہیں مدعو کریں ، انکی غمی اور خوشی میں ہمیں شریک ہونا چاھئے ، پڑوسی ھوں تو انکے ساتھ ایک ذمہ دار اور صاحب ایمان کا سا ھمارا رویہ ھونا چاھیئے ، اور سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہےکہ ہم اپنی زندگی کو بدلیں ، ایک شریف اور ذمہ دار شہری کی طرح جینے کی کوشش کریں ، آج بھی سچائی میں طاقت ھے ، آج بھی انسانیت ، ہمدردی ، غمخواری ، امانت داری اور ضرورت مندوں کی اعانت میں وہ جادو ہیکہ پتھر موم ھوجائے ، چٹانوں سے چشمے جاری ھوجائیں ، ، ھم ایک داعی قوم ہیں ، ہمارا فرض ھیکہ ھم اس آخری دین کے مطابق خود بھی اپنی زندگی کو ڈھالیں اور اپنے معاشرہ کو بھی صالح اور اچھی قدروں پر استوار کریں اور اپنے حسن اخلاق اور اور حکمت ودانائی اور اپنی شیریں کلامی سے اس آخری دین کے پیغام کو دنیا والوں تک پہنچائیں ،،،اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کی بنیادی تعلیم وتربیت سے قطعا غفلت نہ برتیں ، بچپن ہی میں اسلام ا ور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو گھٹی میں پلادیں
، ع از خواب گراں خواب گراں خواب گراں خیز ،آفتاب ندوی جھارکھنڈ
8002300339

Leave a Response