Friday, April 19, 2024
Bihar News

امارت شرعیہ کے امیرشریعت احمدولی فیصل رحمانی ازخودمعزول

شریعت اوردستورامارت شرعیہ کی روشنی میں عزل امیر پرایک تحقیقی نظر

ملازمین امارت،عوام وخواص کسی کے لئے اب ان کی اطاعت جائز نہیں ان کو امیر سمجھنا شریعت،اسلام اور دستورکے خلاف1

دستورامارت شرعیہ کے مطابق امارت کے امیراحمدولی فیصل رحمانی معزول ہوگئے ہیں۔کیوں کہ

دستورامارت کہتاہے:امیرشریعت سے خدانخواستہ کفربواح کاظہورہوتوخودبخودمعزول قرارپائے گا۔ص11

دستورنے کفربواح کی تشریح بھی کی ہے:کہ کفرمتفق علیہ اورقطعی ہو۔حاشیہ ص11
(ظاہر ہے فیصل رحمانی کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتنا سنگین الزام لگانا قطعی کفر ہے جس کا تذکرہ اگلی سطور میں ہے اور وہ اس پر وضاحت سے بھاگ رہے ہیں)

دستورکے ص11کے حاشیہ میں حضرت عبادہ بن الصامت کی روایت درج ہے جس کے مطابق امیرکی اطاعت اسی وقت تک کی جائے گی جب تک اس سے کفربواح صادرنہ ہو۔

چوں کہ فیصل رحمانی پرالزام ہے کہ انہوں نے شان رسالت میں گستاخی کرتے ہوئے کہاہے:

حضرت حسین اپنے ناناجان کی تلوارسے قتل ہوئے۔۔۔۔۔۔۔یہ دعویٰ امارت کے ایک سابق ملازم اورعالم دین مولاناعادل فریدی نے لگایاہے۔

اوراب تک اس جملہ کی وضاحت فیصل رحمانی نے نہیں کی ہے،باربارمطالبہ کے بعدوضاحت سے بھاگنایہ ثابت کرتاہے کہ بات میں صداقت ہوسکتی ہے۔دستورنے اس شق پریہ واضح کیاہے کہ اگرکفربواح کاظہورہوتوخودبخودمعزول ہوگا۔یعنی شوریٰ اوردیگرکارروائی کی ضرورت ہی نہیں ہوگی،(بقیہ دوسری شق کے مطابق شوریٰ اورارباب حل وعقدکی ضرورت ہوگی،لیکن پہلی صورت میں وہ ازخودمعزول ہوچکے ہیں۔)اس روسے فیصل رحمانی معزول ہوچکے ہیں۔(ازخودکامطلب بالکل عیاں ہے)اب ان کی اطاعت یاان کوامیرکہناغلط اورجرم ہے یاپھرامارت کے علاوہ کسی دارالقضامیں مقدمہ داخل کرکے مدعی اورمدعی علیہ کے دلائل سناجائے اورجب تک حتمی فیصلہ نہ ہوانہیں معزول سمجھاجائے۔اور اس درمیان ان کا کوئی حکم نافذالعمل نہیں سمجھاجاسکتا

دستورامارت کی دو سری شق کہتی ہے:امیرشریعت کے اعمال میں اس حدتک تغیرہوجائے کہ محارم متفق علیہاکاارتکاب کرنے لگے تومستحق عزل ہوگااورتنبیہ کے بعدبھی اس سے بازنہ آئے تومعزول کیاجائے گا، ص11(تصویرکشی،غیرمحرم کے ساتھ تصویر،خانقاہ رحمانی میں گٹکھا،کھینی والی تقریر،بیت المال پرغلط نظریہ،حضرت حسین پرغلط بیانات کے تناظرمیں دوسری شق کے اعتبارسے فیصل رحمانی کومعزول کرناہوگا)

تیسری شق کہتی ہے:اگرامیرشریعت اپنے فرائض کی انجام دہی میں قاصروعاجزثابت ہوبہ سبب عدم اہلیت یابہ سبب غفلت اوراس سے بہترشخص بہارواڈیسہ کے اندرمتصف بہ جمیع صفات مذکورہ دفعہ10موجودہوتواس صورت میں مستحق عزل ہوگا۔ص12

تیسری شق کے مطابق فیصل رحمانی اپنے فرائض کی انجام دہی میں قاصراورعاجزثابت ہوچکے ہیں،ان کی نااہلی ،غفلت کانتیجہ ہے کہ جھارکھنڈامارت شرعیہ بہارسے الگ ہوگیا۔ان کے دورمیں امارت کے اندرعہدوں کاغلط استعمال کرکے اقرباپروری اوررشتہ داروں کی بحالی کاقاضی شریعت پراورامیرشریعت پرسنگین الزام لگاہے جس کی کئی مثالیں ہیں۔اوران سے بہترشخص جودفعہ 10میں مذکوراوصاف امیرکاحامل ہو،اسے امیرمنتخب کیاجاناچاہئیے۔

یہ بھی یادرہے کہ فیصل رحمانی میں اوصاف امیرنہیں ہیں۔وہ عالم نہیں ہیں۔اورامیرکے لیے دوسرے اوصاف بھی لازم ہیں۔جودستورمیں درج ہیں: عالم کی شرط کے ساتھ یہ بھی لکھاہے کہ اغراض ومصالح شریعت اسلامیہ اورفقہ اسلامی وغیرہ سے واقف ہواوراحکام شریعت پرعمل پیراہو(ص10)

دستورکہتاہے :سیاسیات، سیاسیات عالم اسلام سے واقف ہواورحتی الامکان تجربہ سے اکثرصائب الرائے ثابت ہوچکاہو۔(جب کہ دوسال تین ماہ کاتجربہ یہی ہے کہ کبھی صائب الرائے ثابت نہیں ہوئے)

دستورکہتاہے :حق گو،حق شنواورصاحب عزیمت ہو(فیصل رحمانی نہ حق سنتے ہیں ،نہ حق بولتے ہیں ،نہ ان میں عزم ہے نہ عزیمت)

دستورکہتاہے :فقہی تعبیرمیں اس کی ذات کومایزول بہ مقصودالامارۃ سے تعلق نہ ہو(فیصل رحمانی کی فقہی بصیرت خانقاہ رحمانی میں گٹکھا،کھینی والی تقریرسے سمجھی جاسکتی ہے۔فیصل رحمانی نے 2022میں خانقاہ رحمانی کی فاتحہ خوانی میں مسجدمیں جوتقریرکی ہے وہ سننی چاہئیے،حرام کام کے لئے نیت خالص کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں)

دوسال کے تجربہ سے پورے بہارجھارکھنڈکومعلوم ہوچکاہے کہ فیصل رحمانی اوصاف امیرسے خالی ہیں۔نیزاب وجوہ عزل بھی پائی جاتی ہیں،پہلی شق کے مطابق وہ معزول ہوچکے ہیں۔باقی شق کے مطابق بھی وجوہ عزل ثابت ہیں۔نائب امیرشریعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوتہائی اراکین شوریٰ کے مشورہ سے ارباب حل وعقدکااجلاس طلب کریں۔اوراس مجلس میں مسائل شرعیہ میں صرف علماکی بحث ہوگی اورفیصلہ کثرت رائے کی بنیادپرنہیں ہوگابلکہ قوت دلیل کی بنیادپرہوگا۔اوراگرساری باتیں ثابت ہوجاتی ہیں تواسی اجلاس میں معزول کرکے نئے امیرکاانتخاب کیاجائے گا۔اگرنائب امیراجلاس نہیں بلاتے ہیں توشوریٰ کے دوتہائی اراکین اپنے دستخط سے ارباب حل وعقدکااجلاس طلب کریں گے۔عزل امیرکی بحث نائب امیریااراکین شوریٰ (اس میں اراکین شوریٰ کی تعدادنہیں لکھی ہے یعنی چنداراکین شوریٰ کے سامنے بھی یہ زیرغورہوتوبھی یہی شق نافذہوگی)کے سامنے زیرغورہوتواس دورمیں امیرارکان شوریٰ یانائب امیرکومعزول نہیں کرسکیں گے۔(دستورامارت شرعیہ)(اراکین شوریٰ میں بھی ایک خاص ذہن کے لوگوں کوجگہ دی گئی ہے،اس فہرست میں شفافیت نہیں ہے،یہاں تک کہ نائب امیرنے اپنے بھائی کورکن شوریٰ بنایاہے۔ اس لئے دوتہائی کی بات محل نظرہے۔اس لئے کچھ اراکین شوریٰ بھی اجلاس طلب کرسکتے ہیں)

بہرحال نائب امیر،اجلاس ارباب حل وعقد بلائیں یانہیں،پہلی شق کے مطابق فیصل رحمانی ازخودمعزول ہوچکے ہیں اورامارت شرعیہ کے ملازمین،بہار، جھارکھنڈ،اڈیشہ کے عوام کسی کے لئے اب ان کی اطاعت جائزنہیں ہے۔اور ان کو امیر سمجھنا دستور امارت اورشریعت کے خلاف ہے

عبیداللہ مظاہری،مغربی چمپارن

  1. ↩︎

Leave a Response