Sunday, April 21, 2024
Giridih News

حق گوئی اور جرأت مندی کا دوسرا نام تھا مولانا طاہر گیاوی: مولانا الیاس مظاہری

 

حضرت مولانا و علامہ طاہر گیاوی کی شخصیت اور خدمات کو اہل علم نے پیش کیا خراج عقیدت

   آج مورخہ 25/ جولائی ٢٠٢٣ بروز  منگل بمقام جامعہ عثمان بن عفان جامعہ نگر کھوری مہوا  گریڈیہہ جھارکھنڈ میں ملک ھندوستان کے مشھور و معروف عالمِ ربّانی، بے مثل و مایاناز خطیب، فکر دیوبند کا ترجمان و عظیم شارح،  عقائد باطلہ کے سامنے قرآن و حدیث سے دلائل کا انبار لے کر ڈٹ جانے والا عظیم سپاہی، مناظر اسلام *حضرت مولانا و علامہ سید طاہر حسین گیاوی رحمۃ اللہ علیہ* کی وفات پر  ایک تعزیتی مجلس، عثمانیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کھوری مہوا کےزیرِ اہتمام *حضرت مولانا محمد الیاس صاحب مظاہری ناظم اعلیٰ جامعہ عثمان بن عفان کھوری مہوا ونائب صدر جمعیت علماء گریڈیہہ * کی صدارت اور *حضرت مولانا اشفاق صاحب قاسمی امام و خطیب مکی مسجد کھوری مہوا* کی سرپرستی میں منعقد کی گئی۔
تعزیتی مجلس کا افتتاح *قاری محمد رئیس صاحب امام وخطیب ڈومرڈیہا * نے چند آیات کی تلاوت سے کیا، تلاوت قرآن پاک کے بعد *حضرت قاری عبدالحسیب  صاحب مدرس جامعہ عثمان بن عفان کھوری مہوا* نے نعت کے چند اشعار حاضرین کے سامنے پیش کیا. 
  *فاضل نوجوان جناب حضرت مولانا الیاس صاحب مظاہری ناظم اعلیٰ جامعہ عثمان بن عفان کھوری مہوا ونائب صدر جمعیت علماء گریڈیہہ* . نے بتایا کہ حضرت مولانا صرف عقائد باطلہ کے خلاف ایک متحرک سپاہی نہیں تھے بلکہ اکثر غیر مسلموں کی طرف سے کیے جانے والے سوالات کا علمی جوابات بھی دیتے رہتے تھے۔ انہوں نے آگے بتایا کہ ایک مرتبہ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے قرآن کے ترجمے میں علماء عرب نے 19 جگہ غلطی کی نشاندہی کی تھی جس کے لئے ہندوستان کے تقریبا 500 علماء کو جمع کیا گیا اور اس کا جواب تحریر کرنے کے لیے کہا گیا لیکن جس جواب سے تمام لوگ مطمئن تھے اور جو علماء عرب کو بھیجا گیا وہ جواب حضرت مولانا سید طاہر حسین گیاوي صاحب نے تحریر فرمایا تھا۔
*حضرت مولانا عبدالجبار صاحب خطیب نوری مسجد گھوڑتھمبہ* نے حضرت مولانا کی زندگی اور ان کے علمی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس دنیا کی حقیقت فنا ہے ہر ایک کو اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا جانا بعد کے لوگوں کے لئے ایک بڑا غمگین اور تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے، ان میں سے ایک حضرت مولانا سید طاہر حسین گیاوی کی ذات مبارکہ ہے، حضرت کا ذہن تحقیقی تھا، ، بدعت کے گڑھ میں اکثر ان کی تقریریں ہوا کرتی تھی، ان کی تقریر دلائل سے بھرپور ہوا کرتی تھیں،  سامعین کو مطمئن کر دیتے تھے۔
*حضرت مولانا اشفاق صاحب قاسمی امام وخطیب مکی مسجد کھوری مہوا* نے کہا کہ جو اس دنیا میں آیا ہے اس کو جانا ہے لیکن حضرت والا کا جانا اس امت کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے، مولانا کے بارے میں انہوں نے بتایا جہاں ایک طرف مناظر اور بدعت کے خلاف متحرک تھے اور دوسری طرف جرات مند اور بہت دلیر تھے، صرف مناظر نہیں تھے بلکہ آپ کی حقیقی خاصیت یہ تھی کہ حق کو حق کہنے کی طاقت رکھتے تھے۔ انہوں نے ایک واقعہ کا تذکرہ کیا ایک دور میں جب مولانا حج میں تشریف لے گئے تو وہاں عام طور پر مسجدوں میں فجر کی جماعت کے وقت فجر کی سنت پڑھنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے، اس پر مولانا نے جب عمل کیا تو وہاں کے مسجد کے امام نے ان سے سوال جواب کیا، چونکہ مولانا حج پر تھے اس لئے مولانا نے بحث و مباحثہ نہیں کیا۔ لیکن واپسی کے بعد اس پر دلائل کا انبار لگا دیا اور اس کو بھیجا جو اس وقت کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن باز کی خدمت میں پیش کیا گیا اور انہوں نے بھی اس کو تسلیم کیا، حضرت نے صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ مکہ و مدینہ میں، انگلینڈ میں اور دنیا کے مختلف ملکوں میں اسلام کا دفاع کیا، سنت کو عام کرنے کا کام کیا، انہوں نے اگے بتایا کہ علماء کا کام دفاع اسلام کا ہے اور تبلیغی جماعت کے ساتھیوں کا کام اشاعت اسلام کا ہے دونوں اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اگے انہوں نے بتایا کہ مولانا موصوف کو ممبئی میں جب بلایا گیا تو صرف تین دن کا سفر تھا لیکن مولانا کا بیان اتنے مدلل ہوتے تھے کہ مسلسل 27 دن تک بیان ہوا اور عقائد باطلہ کی بنیاد ہلا کر رکھ دیں۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا کو فقہ میں بھی زبردست پکڑ تھی لیکن جس طرح حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولایت ان کی سیاست کے پردے کے پیچھے چھپ گئی اسی طرح سے حضرت مولانا کی فقاہت ان کی مناظرانہ و خطیبانہ زندگی کے پیچھے چھپ کر رہ گئی۔ مولانا نے تقریبا 15 سے زائد کتابیں تصنیف کی جن میں دو کتابیں عربی زبان میں بھی ہیں اس کے علاوہ بھی مولانا کی تقریریں مختلف جگہوں پر محفوظ ہیں۔
*حضرت قاری ضمیرالدین* نے مولانا کے سلسلے میں فرمایا کہ مولانا کا مقام اصلا خطیب  اور مناظر کا تھا، 
  حضرت مولانا موصوف کی ایک صفت بیان کی کہ ان کو صرف مناظر یا خطیب کہنا شاید ان کے ساتھ نا انصافی ہوگا ان کے لیے صحیح جملہ یہ ہے کہ انہوں نے احقاق حق میں اپنی پوری زندگی لگا دی
آخر میں  *حضرت مولانا اشفاق صاحب قاسمی* کی دعا پر مجلس کا اختتام کیا گیا۔
اس نشست  میں علماء کرام کافی تعداد میں   موجود تھے ، خصوصاً جناب منظور عالم صاحب مظاہری صدرمدرس مدرسہ تعلیم القرآن بسگی تاراناکھو.  جناب  مولانا آفتاب عالم امام وخطیب لگٹھاہی.   جناب قاری ممتاز عالم خریڈیہہ. جناب حافظ انصار  صاحب امام  مہوا ٹانڈ.  حافظ ثناءاللہ.  حافظ عزرائیل مولانا خلیل . موجود تھے

* *شاعر اسلام جناب قاری آفتاب رہبر کلکتوی* نے مولانا موصوف پر اپنی تحریر کردہ مرثیہ پیش کیا جس نے حاضرین کو مزید غمگین کردیا

Leave a Response