جھارکھنڈ کے سر سید مولانا نسیم انور ندوی کی شخصیت اور ان کی علمی خدمات


جھارکھنڈ کے سر سید مولانا نسیم انور ندوی کی شخصیت اور ان کی علمی خدمات (ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی 7004951343)
قوم و ملت کی فلاح و بہبود کی خاطر کبھی کبھی ایک شخص اپنی بے سروسامانی کے باوجود تن تنہا جو کام کر جاتا ہے وہ بڑی بڑی تنظیموں اور اداروں کے لوگ تمام تر سہولیات اور ہر قسم کی مالی فراوانی کے باوجود بھی نہیں کر پاتے ہیں ، مولانا نسیم انور ندوی صاحب ایک ایسی ہی شخصیت کا نام ہے جنھوں نے اپنی بے سروسامانی اور کسی ادارے یا تنظیم کی مالی پشت پناہی کے باوجود فاطمہ گرلس اکیڈمی قائم کر کے اور اسے جدید تقاضوں کے مطابق وسعت دے کر عملی طور پر کر دکھایا ہے ، مسلمانوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی طرف متوجہ کرنے کی سر سید احمد خان کی علیگڑھ تحریک سے بھلا کون واقف نہیں ہے جنھوں نے مسلمانوں کو انگریزی علوم و فنون حاصل کرنے کی پُرزور وکالت کی جس کی پاداش میں نام نہاد اور لکیر کے فقیر مفتیوں نے ان پر کفر کا فتویٰ تک صادر کر دیا اور اپنے طور پر اسلام سے خارج بھی کردیا ، لیکن آج سر سید احمد خان اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی علمی و ادبی خدمات ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک علمی سرمایہ ہے ، ایسے ہی ہمارے جھارکھنڈ میں بھی ایک عالم دین نے سر سید کی طرح اپنی تعلیمی فراغت کے بعد مسلم بچیوں کو دینی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ عصری علوم و فنون عصری تقاضوں کے مطابق حاصل کرنے کی عملی تحریک چلائی جسے آج فاطمہ گرلس اینڈ بوائیز اکیڈمی کے نام سے شہرت و مقبولیت حاصل ہے ، لحیم و شحیم اور صاف و شفاف کرتہ پاجامہ اور کالی مخملی ٹوپی میں ملبوس اس بااخلاق و ملنسار شخصیت کا نام “مولانا نسیم انور ندوی ” ہے
مولانا نسیم انور ندوی کی شخصیت اور ان کی علمی خدمات سے آج صرف رانچی ہی نہیں بلکہ پورا جھارکھنڈ ، بہار ، بنگال ، اڑیشہ اور ملک کی دوسری ریاستوں کی عوام اور اھل علم بھی واقف ہیں ،
مولانا نسیم انور ندوی ولد الحاج اسرافیل صاحب بنیادی طور پر رام پور ضلع لوہردگا جھارکھنڈ کے رہنے والے ہیں ، رام پور لوہردگا ریلوے اسٹیشن سے تقریبا چار کیلومیٹر کے فاصلے پر ایک سنگلاخ بستی ہے جہاں مولانا کی پیدائش 1969 ء میں ہوئی لیکن اب انھوں نے مستقل طور پر اٹکی میں سکونت اختیار کرلی ہے ، ابتدائی تعلیم مدرسہ دینیہ رشیدیہ لوہردگا سے حاصل کی ، اس کے بعد کچھ سالوں تک دارالعلوم اسلام نگر بنا پیڑھی میں پڑھنے کے بعد جامعہ اسلامیہ عربیہ بھدوئی چلے گئے ، اس کے بعد اعلی دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ملک کے مشہور و معروف دینی درسگاہ اور عالمی شہرت یافتہ ادارہ ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا ، ندوہ میں آپ نے ہمیشہ اول پوزیشن سے کامیابی حاصل کی اور ندوہ سے ہی تخصص فی الادب کی سند حاصل کی ، ندوہ سے فراغت کے بعد مولانا نسیم انور ندوی صاحب کا رجحان شروع سے ہی مسلم معاشرے میں ایک ایسا تعلیمی چراغ روشن کرنے کا تھا جو مسلم معاشرے کی نصف آبادی یعنی مسلم لڑکیوں کی زندگی کو روشن کردے ، جس کے تعلیم یافتہ ہونے سے پوری نسل کا مستقبل روشن ہو جاتا ہے ، اپنے اسی مقصد کے تحت انھوں نے رانچی ضلع کے مشہور و معروف قصبہ اٹکی میں صرف سترہ لڑکیوں اور چار معلمات سے 1998 میں “فاطمہ گرلس اکیڈمی ” قائم کیا جو مولانا کی جدو جہد سے ہر سال آگے بڑھتا رہا ، چند سالوں میں ہی فاطمہ گرلس اکیڈمی اپنے منفرد تعلیمی نصاب ، بہترین تعلیم و تربیت اور عمدہ نظام تعلیم کے سبب پورے علاقے کے لوکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگا ، مولانا نسیم انور ندوی صاحب کا ذہن کبھی جمود و تعطل کا شکار نہیں ہوا اور نہ ہی وہ کبھی نصاب تعلیم کے متعلق تقلیدی راہ کے مسافر ہوئے بلکہ انھوں نے مدرسوں میں عام طور پر شروع سے چلے آرہے تقلیدی نصاب سے ہٹ کر اپنی راہ خود تلاش کی اور فاطمہ گرلس اکیڈمی کے لئے ” علم نافع ” کے اصول کے تحت ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا جو حالات حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق بھی ہو اور موافق بھی ہو ، وہ نصاب تعلیم آج صرف فاطمہ گرلس اکیڈمی میں ہی نافذ نہیں ہے بلکہ اس کی منفعت و افادیت کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہوئے بعد میں دوسرے تعلیمی اداروں نے بھی اپنایا ہوا ہے ، مولانا نسیم انور ندوی صاحب نے لڑکیوں کے لئے صرف اٹکی میں ہی فاطمہ گرلس اکیڈمی کے نام سے ادارہ قائم نہیں کیا بلکہ رانچی ضلع کے علاوہ دوسرے اضلاع میں بھی لڑکے اور لڑکیوں کے لئے کئی ادارے قائم کئے مثلآ انھوں نے 1996ء میں ریچھا روڈ نینی تال میں ” مدینہ گرلس اکیڈمی قائم کیا ، 1997ء میں ہردوئی کے گوپا مئو میں” جامعة الصالحات” کے نام سے لڑکیوں کا مدرسہ قائم کیا ، 2000ء میں اپنے آبائی گاؤں رام پور ضلع لوہردگا میں ” صفا پبلک اسکول” قائم کیا ، 2002ء میں رانچی ضلع کے دیہی علاقہ نرکوپی میں ” ماڈرن پبلک اسکول ” قائم کیا ، 2002ء میں ہی عیدگاہ محلہ سمڈیگا میں” اقراء اکیڈمی “قائم کیا ، 2003 ء میں اپنے آبائی گاؤں رام پور ضلع لوہردگا میں ” انڈین کارمل کانونٹ ” کے نام سے ایک اسکول قائم کیا ، 2004 ء میں ” مدرسة الصفا لتربية الاسلامية ” کے نام سے ایک لڑکیوں کا ادارہ لوہردگا ضلع کے رام پور بستی میں قائم کیا ، یہ تمام تعلیمی ادارے ماشاءاللہ آج بھی قائم ہیں اور مولانا کی نگرانی و سرپرستی میں اپنا تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ اپنی تر مصروفیات کے باوجود مولانا درجنوں تعلیمی اداروں کی نگرانی و سرپرستی فرمارہے ہیں ، مولانا نسیم انور ندوی صاحب نے اپنی تعلیمی تحریک سے فاطمہ گرلس اکیڈمی کو خالص اسلامی تہذیب و تمدن اور دینی تعلیم و تربیت کے ساتھ جدید علوم و فنون کا ایک ایسا مرکز بنا دیا ہے جہاں ہر علاقے کی مسلم لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے میں آج فخر محسوس کر رہی ہیں ، فاطمہ گرلس اکیڈمی میں درجہ اول سے عالمیت تک کی تعلیم اسلامی تہذیب و تمدن کے ساتھ دی جاتی ہے ، اس کے ساتھ ہی انٹر تک کی بھی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ بچیاں آگے چل کر کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کر سکیں ، فاطمہ گرلس اکیڈمی کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پوری تعلیم انگلش میڈیم میں دی جاتی ہے تاکہ بچیاں آگے چل کر جدید تقاضوں کو پورا کر سکیں اور احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ، 1998ء میں سترہ لڑکیوں اور چار معلمات کے ساتھ شروع ہونے والا یہ ادارہ ” فاطمہ گرلس اکیڈمی اپنے منفرد تعلیمی نصاب اور بہترین تعلیم و تربیت ، عمدہ نظام تعلیم اور باصلاحیت معلمات و اساتذہ کی بنیاد پر دن دونی رات چوگنی ترقی کی راہ پر گامزن ہے ، مولانا نے اسے ایک عام اکیڈمی سے ہٹ کر جدید سہولیات سے آراستہ ایک رہائشی اکیڈمی کے طور پر قائم کیا ہے اور اسی اعتبار سے اسے وسعت دی ہے ، طلباء و طالبات کے لئے کے لئے طعام و قیام کا بہترین نظام قائم کیا ہوا ہے ، مولانا نسیم انور ندوی صاحب نے عوام خصوصاً ماہرینِ تعلیم کے اسرار اور بڑھتے ہوئے تعلیمی تقاضوں کے پیش نظر 2022ء میں لڑکوں کے لئے بھی اسی فاطمہ اکیڈمی میں تعلیمی سلسلہ جاری کیا ، اس طرح اب فاطمہ گرلس اینڈ بوائیز اکیڈمی اپنی تمام تر سہولیات کے ساتھ عالیشان جدید عمارت کی شکل میں پورے آٹھ ایکڑ زمین پر محیط ہے ، فاطمہ گرلس اکیڈمی کو اول روز سے آگے بڑھانے اور اس کو ترقی دینے اور مولانا نسیم انور ندوی صاحب کی تمام تر کوششوں کو عملی جامہ پہنانے اور ہر موقعے پر ہمت اور حوصلہ دینے میں ان کی شریک حیات کا عملی تعاون بھی ناقابل فراموش رہا ہے چونکہ مولانا کی شریک حیات خود درس و تدریس کی خدمت کا جذبہ رکھنے والی ، انتظامی امور کی ماہرہ ایک باصلاحیت عالمہ و فاضلہ ہیں ، اس کے علاوہ انھوں نے رانچی یونیورسٹی رانچی سے حضرت مولانا علی میاں ندوی صاحب کی شخصیت پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے ، جو مولانا کی تعلیمی تحریک کو پروان چڑھانے میں شروع سے گراں قدر تعاون کرتی چلی آرہی ہیں ، مولانا نسیم انور ندوی صاحب کا ایک ہی لڑکا تھا جو عین عنفوان شباب میں داغ مفارقت دے گیا جس سے ان کی والدہ اور مولانا نسیم انور ندوی صاحب کافی حد تک ٹوٹ گئے تھے لیکن اللہ نے صبر و استقلال کی دولت سے ایسا نوازا کہ مولانا اور ان کی شریک حیات نے اپنی تعلیمی تحریک کے سفر کو متاثر ہونے نہیں دیا اور پوری محنت و لگن کے ساتھ فاطمہ گرلس اکیڈمی کی تعلیمی تحریک کو جاری رکھا جو اب تک اپنی پوری تابانی کے ساتھ جاری و ساری ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے یہ شجر انور پورے جھارکھنڈ میں ہمیشہ پھلتا پھولتا رہے گا ، ان شاءاللہ تعالیٰ ،
مولانا نسیم انور ندوی صاحب نے فاطمہ گرلس اکیڈمی قائم کر کے جھارکھنڈ کی سر زمیں پر ایک تعلیمی انقلاب برپا کردیا ہے جس کی تقلید میں دوسرے علاقوں کے علماء و دانشور حضرات لگے ہوئے ہیں جو اپنے آپ میں ایک خوش آئند بات ہے ، مولانا نسیم انور ندوی صاحب نے مسلمانوں خصوصاً مسلم لڑکیوں کو اسلامی تہذیب و تمدن کے ساتھ تعلیم یافتہ بنانے میں مستقل مزاجی کے ساتھ جو کام کیا ہے اور کر رہے ہیں وہ قابل تعریف ہی نہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہے ، آج کے دور میں معاشرتی اصلاح کے لئے ” اصلاح معاشرہ اور تعلیمی بیداری” کے نام سے جتنے جلسے اور کانفرنسیں ہو رہی ہیں اس کا کوئی خاطر خواہ فائیدہ نظر نہیں آ رہا ہے کیوں کہ اس قسم کے جلسوں اور کانفرنسوں کو پیشہ ور ناظم جلسہ اور پیشہ ور مقررین و نعت خواہوں نے نفع بخش کاروبار کا ذریعہ بنا لیا ہے جس میں نہ جان کھپانی نہیں پڑتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی قربانی دینی پڑتی ہے ، لیکن ایک تعلیمی ادارہ قائم کرنا اور اسے بہتر طریقے سے چلانا اور سمبھالنا کتنا مشکل کام ہے یہ وہی لوگ جانتے ہیں جس کے اندر صحیح معنوں میں قوم و ملت کا درد سمایا ہوا ہوتا ہے ، مولانا نسیم انور ندوی صاحب نے بلا شبہ فاطمہ گرلس اکیڈمی قائم کر کے اور اسے دن بدن جدید تقاضوں کے مطابق وسعت دے کر تعلیمی بیداری کی ایک ایسی عملی تحریک چلائی ہے جس سے رانچی ضلع ہی نہیں بلکہ جھارکھنڈ اور دوسری ریاستوں کے مسلم لڑکے اور لڑکیاں فیض یاب ہورہی ہیں ، لیکن افسوس صد افسوس کہ زوال پذیر معاشرہ میں ان لوگوں کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی میں فخر محسوس کیا جاتا ہے جن کو کسی بڑے ادارہ یا تنظیم کی ذمےداری یا سربراہی وراثت میں ملی ہے ، مولانا نسیم انور ندوی صاحب نے وراثت میں ملے کسی ادارہ کو آگے نہیں بڑھایا ہے اور نہ ہی کسی بڑے ادارے اور تنظیم کی مالی معاونت و پشت پناہی سے فاطمہ گرلس اکیڈمی قائم کیا ہے بلکہ فاطمہ گرلس اکیڈمی کی بنیاد سے لے کر آٹھ ایکڑ زمین پر پھیلی ہوئی عمارت کو جدید تقاضوں تقاضوں کے مطابق قائم کرنے اور وسعت دینے میں مولانا نسیم انور ندوی صاحب کی دن رات کی محنت و مشقت ، جنون کی حد تک تگ ودو اور ان کی فکر و نظر کی قربانیاں شامل ہیں ، مولانا نسیم انور ندوی صاحب نے اپنی تعلیمی تحریک سے سر سید اور علیگڑھ تحریک کی یاد کو عملی طور پر جھارکھنڈ میں زندہ کردیا ہے ، ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ہماری ملکی اور ریاستی سطح کی تنظیموں اور اداروں کے پاس لوگوں کو اپنا ذہنی غلام بنانے کے سوا اور کوئی پروگرام نہیں ہے ، جو کام جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں امارت شرعیہ اور جمیعت علماء کو کرنا چاہتے تھا وہ کام تن تنہا مولانا نسیم انور ندوی صاحب جیسے لوگوں نے کر دکھایا ہے ، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ایک شخص اپنی تعلیمی و اصلاحی تحریک کی بنیاد پر ایک انجمن اور ایک ادارہ کی حیثیت رکھتا ہے اور بعض ادارے اور تنظیمیں اپنی تنگ نظری اور تنگ دامانی کی بنیاد پر مولانا نسیم انور ندوی صاحب جیسے لوگوں سے پستہ قد نظر آتی ہیں ،








