ڈالٹن گنج میں انجمن فروغ اردو کا یک روزہ سمینار اختتام پذیر


نادم بلخی ہمہ جہت شخصیت کے مالک : پروفیسر سید حسن عباس
انجمن فروغ اردو (جھارکھنڈ) کی جانب سے “نادم بلخی: حیات اور ادبی کارنامے” کے عنوان سے 19 اپریل 2026 کو ڈالٹن گنج شہر میں یک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا اس میں جھارکھنڈ اور بہار کے ادیبوں نے شرکت فرمائی۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز ڈاکٹر محمد زاہد اقبال کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد مصطفیٰ بلخی گویا عظیم آبادی نے اپنے والد محترم پروفیسر نادم بلخی کی نعت کو اپنے انداز میں پیش کیا۔اس کے بعد جناب نسیم ریاضی نے نادم بلخی کی دعائیہ غزل کو اپنی آواز میں پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا۔اس کے بعد انجمن فروغ اردو کے جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر عبدالباسط نے انجمن فروغ اردو کا تعارف پیش کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ انجمن فروغ اردو ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے جس کے بنیادی مقاصد میں صوبائی سطح پر اردو کو فروغ دینا بھی ہے۔اس کے بعد انجمن فروغ اردو کا ترانہ جناب مکرم حیات نے پیش کیا۔

واضح رہے کہ انجمن فروغ اردو کی یہ نظم اردو کے معروف شاعر جناب دلشاد نظمی نے لکھی ہے۔اس کے بعد سمینار کنوینر ڈاکٹر مقبول منظر نے علامہ نادم بلخی سمینار کا تعارف پیش کیا اور ساتھ ہی یہ کہا کہ ایسے سمینار کی اس شہر میں اشد ضرورت تھی جسے انجمن فروغ اردو نے منعقد کرکے بڑا احسان کیا ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر مقبول منظر کی نصری تصنیف “پلاموں اور نثری ادب” کی رونمائی عمل میں آئی۔بعد ازاں سیوان سے تشریف لائے مہمان پروفیسر سید حسن عباس(سابق صدر شعبہ فارسی،بنارس ہندو یونیورسٹی) نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نادم بلخی کی شخصیت اور ادبی کارناموں کے تمام گوشوں پر کئی اہم نکات پیش کیا۔

مہمان خصوصی کی حیثیت سے ویر کنور سنگھ یونیورسٹی،آرہ سے تشریف لائے پروفیسر جمیل اختر محبی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور نادم بلخی کی تصانیف کے حوالے سے کئی اہم باتیں کہیں۔سمینار کے پہلے سیشن کے صدر پروفیسر نادم بلخی کے صاحبزادے ڈاکٹر مظفر بلخی نے صدارتی خطبہ پیش کیا اور انجمن فروغ اردو کے کاوشوں کی تعریف کی۔پہلے سیشن کی نظامت جناب اشفاق احمد نے کی۔
ظہرانے کے بعد کے دوسرے سٹیشن کا آغاز ہوا۔اس سیشن میں مقالہ نگاروں نے اپنے مقالات پیش کیے۔اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر محمد زاہد اقبال نے کی جبکہ صدارت کے فرائض پروفیسر سید حسن عباس نے انجام دیا۔سب سے پہلے مقالہ نگار رانچی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر محمد مہتاب عالم نے نادم بلخی کی ہائیکو نگاری کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔اس کے بعد ڈاکٹر محمد مرشد نے شاگردان نادم بلخی کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔گڑھوا سے تشریف لائی نادرہ افروز نے نادم بلخی کی ہائیکو نگاری کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔اس سیشن کے آخری مقالہ نگار جناب کے بی انصاری نے بھی اپنا مقالہ پیش کیا جس میں انھوں نے نادم بلخی کی شعری کائنات کے حوالے سے اپنی باتیں کہیں۔
سیمینار کا آخری سیشن مشاعرے کے لیے مختص تھا جس کی صدارت قیوم رومانی نے فرمائی اور نظامت کا فریضہ اشرف جمال اشک نے انجام دیا۔مشاعرے میں جن شعرا نے شرکت فرمائی ان میں عدنان کاشف،اشرف جمال اشک،امین رہبر،ایم جے اظہر،ڈاکٹر مقبول منظر،ندرت نواز،قیوم رومانی وغیرہ کے نام اہم ہیں۔سمینار کے آخری سیشن میں شکریہ کی رسم ڈاکٹر مقبول منظر نے ادا کی۔اس موقع پر سمینار کے انچارج ڈاکٹر عبد الباسط نے مجموعی طور پر تمام سامعین اور مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔








