Friday, April 19, 2024
Ranchi News

عیدالاضحیٰ کی حقیقت : حضرت مولانا مفتی محمد سلمان قاسمی

 

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو دو عیدیں دی ھیں، عیدالفطر جو رمضان کے بعد منائی جاتی ھے، اور عیدالاضحیٰ (قربانی) جو عید الفطر کے ٹھیک دو مہینہ دس دن پر منائی جاتی ھے، بقرعید کا تہوار پوری دنیا کے مسلمان بڑے ھی شان وشوکت کے ساتھ مناتے ہیں، اس سلسلہ میں عام طور پر لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ بقرعید کے تہوار میں مسلمان اسلام کے حکم کے مطابق خصی، بکرہ، دنبہ وغیرہ جانور کی قربانی کرتے ھیں، مگر یہ بات کم ھی لوگوں کو معلوم ھے کہ یہ قربانی کہاں سے شروع ھوئی، سب سے پہلے کس نے قربانی کی، 
 دنیا میں کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ھزار پیغمبر آئے، انھیں میں سے اللہ کے ایک بڑے ھی محبوب پیغمبر حضرت ابراھیم علیہ السلام تھے، جنھوں نے سب سے پہلی قربانی کی، اور آج تک انھیں کی یاد میں ھرسال مسلمان قربانی کرتا چلا آرھا ھے،
چنانچہ آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عیدالاضحیٰ اور اس میں کی جانے والی قربانی کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے دادا ابراہیم کی سنت ھے،
یہ قربانی ایک علامت ھے کہ مسلمان جانور کی قربانی دیتے وقت یہ نیت کرتا ھے کہ وقت آنے پر ھم جان، مال اور ھر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں، مسلمان کو اس قربانی کے ذریعہ سکھایا گیا ھے کہ ھر غلط بات، ھر غلط کام اورغلط جذبات و احساسات کو اپنے اللہ کو خوش کرنے کیلئے قربان کردینا ھے، ھمیشہ نیکی کے راستے پر چلنا ھے اور ھر برائی کی گردن میں چھری چلا دینا ھے،

Leave a Response