علم سے ہی قوم و معاشرہ ترقی ممکن: مولانا سید تہذیب الحسن رضوی


رانچی: (عادل رشید) مسجد جعفریہ انصار نگر میں مرحوم سید حسن علی کی برسی کے موقع پر منعقد مجلسِ ذکر آلِ رسولؐ سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالمِ دین حضرت مولانا حاجی سید تہذیب الحسن رضوی نے کہا کہ جس قوم کے پاس تعلیم نہیں ہوتی، وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ آج کے دور میں تعلیم کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ تعلیم یافتہ فرد، قوم اور ملک کبھی غریب نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں جو قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، ان کی بنیاد تعلیم پر قائم ہے۔ ایران کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کے بیشتر ذمہ داران تعلیم یافتہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنی مضبوط شناخت رکھتے ہیں۔ مسلم معاشرے میں آج بھی تعلیم کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے، جسے دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا رضوی نے کہا کہ ایصالِ ثواب کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ لوگوں کو تعلیم سے جوڑا جائے۔ دولت سے صرف گھر سنورتا ہے، جبکہ علم پورے معاشرے کو سنوارتا ہے۔ دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے، مگر علم بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجالسِ ذکرِ حسینؑ دراصل لوگوں کے اندر علمی و فکری بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔
انہوں نے موجودہ معاشرے میں بڑھتی بے دینی اور اختلافات پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ جہالت ہے۔ اگر معاشرے سے جہالت کو ختم کر کے تعلیم کو عام کیا جائے تو بہت سے اختلافات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بعض لوگ بغیر قرآن و حدیث کا علم رکھے دوسروں کو بے دین قرار دینے لگتے ہیں، جو ایک عظیم گناہ ہے۔
اپنے خطاب میں مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے کہا کہ آج ایران اسلام کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، لیکن افسوس کہ کچھ لوگ اب بھی شیعہ اور سنی کی تفریق میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ سوچ پڑھے لکھے لوگوں کی نہیں بلکہ جہالت کی علامت ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “جاہل کی ایک ہزار رکعت نماز اور عالم کی دو رکعت نماز برابر نہیں ہو سکتیں۔” مولانا نے کہا کہ مرحوم ذاکر اہلبیت بھی تھے اور بہت کم عرصے میں مومنین کے دلوں میں بس گئے تھے۔ انسان کے پاس سب سے بڑی چیز اس کا اخلاق ہوتا ہے۔
اس موقع پر سوز خوانی سید عطا امام رضوی نے پیش کی، جبکہ پیش خوانی کے فرائض قمر احمد بلگرامی، مولانا دانش حسین اور نہال حسین سریاوی نے انجام دیے۔
مجلس کا انعقاد مرحوم کے فرزند اور سماجی خدمت گزار سید شاہ رخ حسن رضوی کی جانب سے کیا گیا۔ انہوں نے مجلس میں شریک تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
مجلس میں ڈاکٹر غضنفر عباس، ڈاکٹر انیس حیدر، زہیر باقر، اشرف حسین رضوی، ایس ایچ فاطمی، ثمر علی جعفری، سید علی احمد، نکی سجاد رضوی، اقتدار حیدری، سرور رضا، ہاشم علی اور فراز احمد سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔








