All India NewsBlogJharkhand News

سیسئی میں مکتب ٹریننگ پروگرام کا کامیاب انعقاد، علماء و ائمہ نے بھرپور استفادہ کیا

Share the post

سیسئی، 13 جولائی (عادل رشید): ضلع گملا کے مشہور و معروف قصبہ سیسئی میں واقع مسجد عمار، بسیا روڈ میں آج بروز سوموار صبح 9:00 بجے سے نمازِ عصر تک مکتب ٹریننگ پروگرام نہایت کامیابی، خوش اسلوبی اور منظم انداز میں منعقد ہوا۔ پروگرام میں سیسئی اور اس کے اطراف و اکناف سے علماء کرام، ائمہ عظام، حفاظِ کرام اور مکتب کے اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

پروگرام کی نگرانی مولانا مفتی عبد الاحد قاسمی قاضی شریعت امارت شرعیہ ضلع گملا (جھاڑکھنڈ) نے فرمائی، جبکہ صدارت مولانا مطیع الرحمن مہتمم مدرسہ فیض الرشید سیسئی،نے کی۔ تعارفی نشست میں مولانا ضیاء اللہ صاحب قاسمی مدرس مدرسہ فیض الرشید سیسئی نے مکتب کے اغراض و مقاصد اور دینی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاء کا خیر مقدم کیا۔

تربیتی نشست کے اہم مقرر مولانا قاری خالد سیف اللہ صاحب امام و خطیب مسجدِ عمار بسيا روڈ سیسئی نے نورانی قاعدہ کی تدریس، صحیح مخارج، تجویدی اصول اور بچوں کو مؤثر انداز میں تعلیم دینے کے عملی طریقوں پر نہایت جامع اور مدلل رہنمائی فرمائی۔ بعد ازاں مولانا خطیب الرحمن مدرس مدرسہ فیض الرشید سیسئی نے بھی تربیتی نشست کے ایک حصے کو نہایت عمدہ انداز میں مکمل کرتے ہوئے اساتذۂ مکاتب کو مفید مشوروں سے نوازا۔

اس کے بعد مولانا مفتی راشد کمال قاسمی صاحب امام و خطیب جامع مسجد سیسئی نے عقائد و مسائل کے عنوان سے نہایت علمی، جامع اور بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ آپ نے دینِ اسلام کے بنیادی شعبہ جات اعتقادات، عبادات، اخلاقیات، معاملات اور معاشرت پر انتہائی سہل، عام فہم اور مؤثر انداز میں روشنی ڈالی۔ آپ نے نہایت مدلل اور حکیمانہ اسلوب میں واضح فرمایا کہ ایک مسلمان کی کامیاب زندگی اسی وقت ممکن ہے جب اس کا عقیدہ درست، عبادات سنت کے مطابق، اخلاق اعلیٰ، معاملات دیانت و امانت پر مبنی اور معاشرت اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہو۔ حاضرین نے آپ کے علمی نکات کو نہایت توجہ، دلچسپی اور شوق کے ساتھ سماعت کیا اور اس مفید خطاب سے بھرپور استفادہ حاصل کیا۔

اس کے بعد حضرت مولانا مفتی عبد الاحد صاحب قاسمی نے SIR اور مکاتب کے اندرونی نظم و ضبط، تعلیمی معیار، اساتذہ کی ذمہ داریوں اور طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت کے موضوع پر فکر انگیز خطاب فرمایا۔ آپ نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اخلاص، حسنِ اخلاق اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ نسلِ نو کی دینی تعلیم و تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

اختتامی اجلاس میں صدرِ مجلس حضرت مولانا مطیع الرحمن صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مکاتب اسلامیہ دینِ اسلام کی بنیاد ہیں اور بچوں کی صحیح دینی تعلیم و تربیت ہی ایک صالح معاشرے کی ضمانت ہے۔ آپ نے اساتذہ کو علم کے ساتھ کردار سازی پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔ آخر میں آپ نے رقت آمیز دعا فرمائی جس پر یہ بابرکت تربیتی پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

شرکائے پروگرام نے اس تربیتی نشست کو نہایت مفید، مؤثر اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے تربیتی پروگرام مسلسل منعقد کیے جائیں تاکہ مکاتب کے تعلیمی معیار میں مزید بہتری آئے اور دینی تعلیم کا نظام مضبوط سے مضبوط تر ہو۔

اس کامیاب اور بابرکت تربیتی پروگرام کے انعقاد میں تنظیم العلماء اور مسجد عمار کے ذمہ داران و خادمین کا تعاون، حسنِ انتظام اور شبانہ روز محنت قابلِ ستائش رہی۔ ان حضرات نے نہایت اخلاص، ذمہ داری اور خوش اسلوبی کے ساتھ تمام انتظامات کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا، جس کے نتیجے میں یہ علمی و تربیتی نشست انتہائی منظم، کامیاب اور ہر اعتبار سے یادگار ثابت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ تمام ذمہ داران کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں بہترین جزائے خیر سے نوازے۔ آمین۔

Leave a Response