Friday, July 12, 2024
Banars News

ایمان جسم کو پاک کرتا ہے اور تقویٰ روح کو پاک کرتا ہے

 

مولانا سید تہذیب الحسن رضوی کی والدہ کی یاد میں مجلس چہلم کا انعقاد

 رانچی: اگر شیطان اللہ سے کہتا کہ سجدہ کیسے کرنا ہے تو بچ جاتا لیکن سجدہ کیوں کرنا ہے۔ کیوں سے گرفت میں آگیا۔ اللہ اور اس کے رسول سے کیوں پوچھنا ہی اپنے آپ کو گرفت میں ڈالنا ہے۔ اے ایمان والوں تقوی اختیار کرو اپنے رب کا شکر یہ ادا کرو۔ ایمان جسم کو پاک کرتا ہے اور تقویٰ روح کو پاک رکھتا ہے۔ نماز پڑھنا ایمان ہے اور نماز میں لطف آجائے تقویٰ ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار حجۃ الاسلام مولانا سید امام حیدر زیدی نےبتاریخ 16 جولائی 2023 بوقت 11؍بجے دن دربار حسینی دھپری چندولی بنارس میں جھارکھنڈ راجیہ حج سمیتی کے ممبر نیز آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ جھارکھنڈ کے چیرمین نیز مسجد جعفریہ رانچی کے امام و خطیب حضرت مولانا الحاج سید تہذیب الحسن رضوی کی والدہ ٔ مرحومہ حسنی بی بی بنت جعفر حسین مرحوم، اہلیہ سید کبیر حسین مرحوم کی مجلس چہلم کو خطاب کر رہے تھے۔

مولانا نے مزید فرمایا کہ اہل بیت ؑ کے فضائل و مناقب بے حد و بے شمار ہیں۔ ماں اچھی ہے تو معاشرہ اچھا ہے۔ ماں کے پاؤں کے نیچے جنت کیوں باپ کے کیوں نہیں۔ وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ماں کے مزاج میں رحمانیت کا مزاج رکھا ہے۔  ہر رشتے میں انتقام ہے لیکن ماں کے رشتے میں نہیں۔ وہیں حضرت مولانا الحاج سید تہذیب الحسن رضوی نے اپنے آنسوؤں کو چھپاتے ہو ے اپنے خطاب میں کہا کہ ماں اپنی اولاد کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں اوربڑے بڑے ارادوں میں ان کی مددگار ہوتی ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جس کے سامنے صرف اورصرف اولاد کی بہتری اوراس کی خوشی ہوتی ہے۔ماں کی عظمت کااس سے بڑاثبوت کیا ہوگا کہ اللہ کریم جب انسان سے محبت کادعویٰ کرتاہے تواس کے لیے محبت کی مثال ماں کوبناتاہے اور کہتاہے کہ ’’میں انسان کے ساتھ سترماؤں سے زیادہ محبت کرتاہوں۔‘‘ یعنی بے پناہ محبت کرتاہوں۔دوسری جانب ہمارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے کافرمان ہے کہ’’ماں کے قدموں تلے تمھاری جنت ہے۔‘‘ اس فرمان سے ماں کے مقام کااندازہ ہوتاہے کہ جوبھی شخص اپنی ماں کی خوشی کاخیال کرتاہے،اس کااحترام کرتاہے اوراس سے محبت کرتاہے تواللہ تعالیٰ اُس کے لیے جنت لکھ دیتے ہیں۔

 اس موقع پر مولانا اسجد رضا، مولانا عطا حیدر، مولانا دلشاد حسین، مولانا مرغوب عالم، مولانا معراج حیدر، مولانا باقر رضا، مولانا حیدر، مولانا شمشاد، مولانا شبیر عباس، مولانا مظہر عباس، مولانا عترت حسین، مولانا معراج حیدر غازی پور، مولانا کاظم رضا، مولانا دلبر کاظمی، مولانا تقی امام، مولانا عابد حسین، مولانا شبیہ عباس، مولانا احمد علی، مولانا مہدی رضا، مولانا وسیع کاظمی، مولانا کوثر علی، مولانا فردوس، مولانا عظمی، شعرائے کرام میں ڈاکٹر نایاب بلیاوی، قدر پاروی، روشن بنارسی،

 جناب دانش، سبیح گوپال پوری، فرمان ڈاکٹر مائل چندولی، امبر ترابی، کے علاوہ سید ثمر علی، سید عمود عباس، صحافی محمد عادل رشید، صحافی سید سرور رضا، سید فیضان حیدر،  سید اصغر امام، سید ندیم رضا، قاسم رضا، ندیم رضوی، کیفی جغفرری، ناظم رضا، جاوید، شفیق، ابراہیم، تنویر حسین، تفسیر حسین، معراج، آرزو، بابو، جھبن سمیت آس پاس کے سیکڑوں لوگ موجود تھے۔

Leave a Response