عرس منانا خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق کی سنت ہے۔

علامہ ارشدالقادری کارشتہ رانچی سے گہراتھا۔
عرس سلور جوبلی قائدِ اہلِ سنت کا رانچی میں ہواشاندار انعقاد۔

رانچی:- 1925 عیسوی میں یوپی بلیاکے سیدپورہ کے علمی گھرانے میں پیداہوے صاحب کشف وکرامات حضرت الشاہ عبدالطیف رشیدی قدس سرہ کے فرزندارجمند عالم اسلام کی عبقری شخصیت رئیس القلم بانئ مساجد ومدارس کثیرہ صاحب زیروزبر فاؤنڈرآف ادارہ شرعیہ قائداہل سنت حضرت علامہ ارشدالقادری قدس سرہ کاسلور جوبلی عرس پاک ملک وبیرون ملک نہایت عقیدت واحترام کے ساتھ منایاجارہاہے اسی کڑی میں 31 جولائی 2026ء، بروز جمعہ، بعد نمازِ عشاء مسجد غوثیہ، جامعہ قادریہ اسلامی مرکز، ہندپیڑھی، رانچی (جھارکھنڈ) میں بانیِ مساجد و مدارسِ کثیرہ، فاتحِ یورپ و ایشیا، مناظرِ اسلام، حضور رئیسُ القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمۃ والرضوان کا پچیسواں عرسِ سلور جبلی نہایت شان و شوکت، تزک و احتشام اور دینی و روحانی ماحول میں منعقد ہوا۔
اس عظیم الشان روحانی و علمی اجتماع میں شہرِ رانچی کے ممتاز علما و مشائخ کے علاوہ ملکِ ہندوستان کے معروف، مستند اور ہر دل عزیز خطبا و شعرا نے شرکت فرما کر محفل کی رونق دوبالا کردی۔ بالخصوص پیرِ طریقت، رہبرِ راہِ شریعت،نمونہ سلف صالحین خلیفۂ حضور مفتیِ اعظم ہند، بقیۃ السلف حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ مفتی محمد شمس الدین رضوی نوری (شیخ الحدیث، جامعہ مسعود العلوم، بہرائچ، یوپی)، خطیب الہند حضرت علامہ مولانا غلام رسول بلیاوی (سابق ممبر پارلیمنٹ انڈیا و صدر مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ، بہار چیئرمین بہاراسٹیٹ اقلیتی کمیشن ، شاعرِ انٹرنیشنل، حسان الہند الحاج دلکش رانچوی، بلبلِ باغِ مدینہ جناب زمزم فتح پوری اور عندلیبِ چمنستانِ رضا جناب امجد رضا امجد رانچوی، جناب شاداب منظر، جناب شیدپلاموی، جناب مولاناشیرمحمدکی تشریف آوری اس بزم کے لیے باعثِ سعادت رہی۔
محفل کا آغاز حضرت حافظ و قاری محمد شوکت علی رضوی، استاذ جامعہ قادریہ اسلامی مرکز، کی پرسوز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ اس کے بعد نعت و منقبت کے دل آویز سلسلے شروع ہوئے۔ دلکش رانچوی، زمزم فتح پوری اور امجد رضا امجد نے اپنے مترنم، پُرسوز اور مسحورکن اندازِ نعت خوانی سے سامعین کے قلوب کو عشقِ رسول ﷺ کی کیف آور فضا میں معطر کردیا اور حاضرین کو کاسۂ قائدِ اہلِ سنت سے جامِ عشقِ رسالت نوش کرایا۔
بعد ازاں مجاہدِ دوراں قائداہل سنت کے فرزندروحانی علامہ محمد قطب الدین رضوی، ناظمِ اعلیٰ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ، نے اپنے مؤثر خطاب میں قائدِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ کے علمی کمالات، دعوتی بصیرت، ملی درد مندی اور امتِ مسلمہ کے تئیں ان کے تڑپتے ہوئے جذبات کو ایک عینی شاہد کی حیثیت سے نہایت والہانہ انداز میں بیان کیا اور حاضرین کو ان کے مشن کو جاری و ساری رکھنے کی تلقین فرمائی،ناظم اعلی نے اس عزم مصمم کو ایک بار پھردھرایاکہ سرزمین جھارکھنڈ تمام باشندگان جھارکھنڈ کے تعاون سے ایک عظیم الشان “قادری یونیورسیٹی”بنائ جائیگی جو علم واگہی،فکروفن کامینارہ نور ثابت ہوگی۔
مقررِ خصوصی خلیفہ حضور مفتئ اعظم ھند پیرطریقت حضرت علامہ مفتی محمد شمس الدین رضوی نوری نے اپنے مدلل اور روح پرور خطاب میں عرس کی حقیقت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے روحانیت کی قوت اور اولیائے کرام کے فیوض و برکات کو قرآن و حدیث اور متعدد واقعات و مثالوں کی روشنی میں نہایت عمدہ انداز سے واضح فرمایا۔اور کہاکہ اولیاء کرام کے اعراس کے انعقاد کیئے جاتے رہیں چونکہ عرس مناناخلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت ہے جیساکہ حضرت مخدوم بہاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں تحریرفرماہے خلیفہ حضورمفتئ اعظم ھند نے فرمایاکہ ہمارے بزرگوں نے نماز کی پابندی فرمائ، ایمان وعقیدے کی حفاظت کیااور عامۃ الناس کے دلوں کوروشن کیا، انہوں نے قائداہل سنت حضرت علامہ کے حیات وخدمات پر قابل رشک روشنی ڈالاسامعین خوب خوب مستفیض ومستنیرہوے۔
اس کے بعد خطیبِ انقلاب غازئ ملت علامہ غلام رسول بلیاوی سابق ممبرآف پارلیامنٹ نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں شہرِ رانچی پر رئیسُ القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے عظیم احسانات کا تذکرہ کیا اور ان کے مشن کی عملی تعبیر جامعہ قادریہ اسلامی مرکز کی دینی، علمی، تعلیمی اور اصلاحی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا، غازئ ملت نے کہاکہ قائداہل سنت نے پوری دنیامیں علم کاچراغ روشن کیااور ہندوستان کاکوئ بھی ایساخطہ نہیں جہاں پر مساجد، مکاتب اور دینی درسگاہ قائم نہ کیاہو حضرت علامہ کارانچی سے گہرارشتہ رشتہ تھایہاں کے محلوں اور علاقوں میں رشدوھدایت کاخوب کام کیاتحفظ ایمان وعقیدے کاسامان فراہم کیا، بلیای نے کہاکہ ادارہ شرعیہ کی بنیادقائداہل سنت نے 1968 میں رکھااور آج جھارکھنڈ سمیت ملک کی اٹھارہ ریاستوں میں ادارہ شرعیہ شاخیں شب وروز ملک، دین، مذہب، ملت اور سماج کے خدمات انجام دی رہی ہیں، انہوں نے نوجوان علماء، یونیورسیٹیزکے ریسرچ اسکالرز سے کہاکہ حضرت علامہ ارشدالقادری ہندوستان کے بہت بڑے علمی وراثت ہیں جن پر ریسرچ وتحقیق کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کریں، جھارکھنڈ میں ایسے بہت سے اسکالرز ہیں جو علامہ کی شخصیت پر پی ایچ ڈی کرکے فخرمحسوس کررہے ہیں
اس بابرکت تقریب کا ایک اہم اور یادگار پہلو یہ بھی رہا کہ اپنے محسنِ ملت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ اور سنی بریلوی سینٹرل کمیٹی کی جانب سے شائع کردہ عظیم الشان کتاب “علامہ ارشد القادری — عہد ساز شخصیت” (مرتبہ: علامہ محمد قطب الدین رضوی) اور تنظیم ابنائے اسلامی مرکز کی جانب سے مرتب کردہ شاہکار مجلہ “اسلامی مرکز: فکرِ ارشد کی روشن تعبیر” کا رسمِ اجراء علماے کرام کے مقدس ہاتھوں عمل میں آیا۔ ان دونوں علمی و تحقیقی کاوشوں میں علامہ ارشد القادری علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیاتِ مبارکہ، علمی خدمات، دعوتی جدوجہد، فکری بصیرت اور دینی اثرات پر قدرے تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔
آخر میں حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر تاج الدین صاحب، صدر سنی بریلوی سینٹرل کمیٹی، نے نہایت جامع اور مؤثر انداز میں ہدیۂ تشکر پیش فرمایا، جبکہ بعدصلوۃ وسلام مولانا محمد کلیم الدین رضوی، سینئر استاذ جامعہ قادریہ اسلامی مرکز، کی رقت آمیز دعا پر یہ روحانی و تاریخی اجتماع اختتام پذیر ہوا۔ جلسے کے آغاز سے قبل حضور مفتی شمس الدین رضوی خلیفہ حضور مفتئ اعظم ھند اور غازئ ملت علامہ غلام رسول بلیاوی صاحبان ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولانامحمدقطب الدین رضوی کے دولت کدے پرتشریف لے گیئے جہاں پر ناظم اعلی نے خوشدلی سے باذوق ضیافت فرمائ اور وہیں خلیفہ حضور مفتئ اعظم ہند سے سیکڑوں افراد بیعت ہوے ۔اور جب مذکورہ مہمانان خصوصی اسلامی مرکز تشریف لائے تو اساتذہ، طلبہ، اراکین مسجدغوثیہ اسلامی مرکز اور ہندپیڑھی کے لوگوں نے پھولوں کے نذرانہ کے ساتھ نعرہاے تکبیرورسالت سے والہانہ استقبال کیاجس سے پوری فضامعطرہوگئ۔
اس عظیم الشان عرس قائداہل سنت کے انتظام وانصرام ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ،سنی بریلوی سنٹرل کمیٹی،الجامعۃ القادری اسلامی مرکز،مسجدغوثیہ اسلامی مرکز مشترکہ مشترکہ طور پر کیا جس کی قیادت پیرطریقت حضرت علامہ ومولاناسیدشاہ علقمہ شبلی قادری ابوالعلائ زیب سجادہ خانقاہ مظہریہ منعمیہ رانچی وچیئرمیں ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ علماء ومشائخ بورڈ نے فرمائ جبکہ صدارت مسجدغوثیہ اسلامی مرکز کے امام وخطیب مولانامنہاج الدین رضوی اور قاری آفتاب ضیاقادری نے کہا جبکہ نظامت کے فرائض قاری مجیب الرحمن، مولاناعابدرضافیضی اور مولانانورعالم فیضی نے کیا۔اجلاس میں ہندپیڑھی، کھیت محلہ، گوالہ ٹولی، نالاروڈ، کربلاچوک، قریشی محلہ، تھڑپکنا، ڈورنڈا، رسالدارنگر، غوث نگر، رحمت کالونی، درزی محلہ، منی ٹولہ، کانٹاٹولی، مولانا آزاد کالونی، پنداگ، پھٹکل ٹولی، اورمانجھی، اولاتو، کانکے، بریاتو، ہساگ، پٹھوریا، اٹکی، چانہوں، اربا، کھدیا، سیکیدری،بنڈو، تماڑ، کھونٹی، رامگڑھ، گولہ، چترپور، کھلاری، پتراتو، لوہردگا، لاتے ھار، ہزاریباغ ودیگرجگہوں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوے جبکہ سیکڑوں علماء کرام ائمہ مساجد نے شرکت فرمائ بالخصوص
، پیرِ طریقت علامہ سیدشاہ علقمہ شبلی قادری، قاری محمد ایوب رضوی،مولانامحمد
قطب الدین رضوی،مولاناڈاکٹر تاج الدین رضوی، مولانا احقرالقادری، مولاناالحاج شمیم اخترحبیبی، قاری ہاشم کمال، مولانا سید نوشاد برکاتی، قاری شیدا پلاموی، شاداب منظر، مولانا شیر محمد، قاری ارشد رضا (مدرسہ مدینۃ العلوم)، قاری مبارک حسین، قاری عبداللہ، مولانا غلام فاروق مصباحی، مولانا نظام الدین مصباحی، مفتی عاقب جاوید مصباحی، قاری جاوید رضوی مصباحی،مفتی اعجازحسین مصباحی، قاری آفتاب ضیاء، قاری اویس فصیحی،قاری مولامسعود فریدی شہرقاضی، قاری جان محمد شہرقاضی،مولانا نسیم اختر، مولانا محمد منہاج الدین، مولانا نور محمد فیضی، مولاناعابدرضافیضی، مولاناوارث جمال ساحل، قاری مجیب الرحمن، مولانااشفاق عالم، مولاناشیرمحمد، مولانامجیب الرحمن، قاری شفیق القادری، حافظ انوررضا،مولاناصابرحسین،عقیل الرحمن،حاجی سلیم، محمدظفر، حاجی ربانی، ماسٹرذوالفقار،مولاناعالم رضوی، مولاناعباس رضوی،صلاح الدین، وغیرہم کے ساتھ بکثرت عوامِ اہلِ سنت نے شرکت کرکے اس روحانی اجتماع کو تاریخی حیثیت عطا کی۔
یہ عرسِ سلور جوبلی یقیناً قائدِ اہلِ سنت حضور علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے علمی و روحانی مشن کی تجدیدِ عہد، فکرِ ارشد کے فروغ اور اہلِ سنت کی دینی و فکری بیداری کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش باب ثابت ہوا۔








