Monday, June 17, 2024
Latehar News

امارت شرعیہ نےسو سالوں سے ہر میدان میں ملت کی رہنمائی کی ہے:قاضی شریعت

ضلع لاتیہارکےبالوماتھ میں اجتماع نقباءامارت شرعیہ،علما،ائمہ مساجدودانشوران سےمولانااحمدحسین مدنی اوردیگرعلماءکاخطاب

(29/جنوری ۔لاتیہار)
خاندانی زندگی میں شوہر اور بیوی کی حیثیت دو مضبوط پتھر کی مانند ہے،یہ رشتہ انسانی تمام رشتوں کی اصل اور بنیاد ہے، دنیا کے تمام رشتے اسی کے گرد گردش کرتے ہیں، اسلام میں رشتے داری اور قرابت کو غیر معمولی اھمیت حاصل ہے ،قرآن وسنت میں میاں بیوی کے حقوق کی وضاحت اور تفصیلات موجود ہیں ،دین اسلام نےصالح معاشرہ کی تشکیل میں خاندانی نظام کو بڑی اہمیت دی ہے ،یہی وجہ ہے کہ عبادات کے علاوہ قرآن پاک میں سماج اور معاشرت کے اصول وآداب کثرت سے وارد ہوۓ ہیں ، اسی کے پیش نظرعائلی مسا ئل کے حل کے لیے امارت شرعیہ کے اکابرین نےدارالقضاء کا مبارک نظام قائم فرمایا،جو سو سالوں سے مسلسل بہار اڈیشہ،جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے خاندانی تنازعات حل کرنے مصروف ہے ،ابھی الحمدللہ امارت شرعیہ کے 91دارالقضاء خدمت میں مصروف ہیں ،مذکورہ باتیں امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ وجھارکھنذ کے قاضی شریعتِ حضرت مولانا مفتی انظارعالم قاسمی نے مورخہ 28/جنوری کو ضلع لاتیہار کے بالوماتھ میں امارت شرعیہ ،علما، ائمہ مساجد ،اور دانشوران کے عظیم الشان اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب میں کہیں،انہوں نے اس موقع پرامارت شرعیہ کے احکام کی تنفیذ کے تعلق سے مسلمانوں کی قوت ایمانی اور اللہ کے خوف کا تذکرہ کیا کہ مسلمانوں کو جو قوت محرکہ نمازوروزہ کی ادائیگی پر آمادہ کرتی ہے وہی قوت امارت شرعیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے پرانہیں آمادہ کرتی ہے۔ جولوگ سرکاری عدالتوں میں بے دریغ جھوٹ بول کراپنے بھائیوں اور رشتے داروں کی کھلے عام حق تلفی کرتےہیں وہی لوگ جب دارالقضاء میں آتے ہیں تواسلامی نظام کی برکت ، قرآن وسنت کی عظمت اور اللہ کے خوف کی وجہ سے سچ بولنے پر مجبور ہوتے ہیں،یہ بھی سچائی ہے کہ ہزاروں ایسے مقدمات جو سرکاری عدالتوں میں تھےجب وہ دین کی بنیاد پر دارالقضاء میں آۓ توصرف ایمانی ودینی نقطہ نظرسےبآسانی حل ہوگئے دوسری جانب وہیں اس موقع پر امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے معاون ناظم جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے امارت شرعیہ کی تاریخ ،اغراض ومقاصد،سوسالہ خدمات اور اس کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہوۓ کہاکہ امارت شرعیہ دراصل مسلمانوں کی دینی،اسلامی،شرعی،اور اجتماعی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے سو سالوں پہلےاس ملک میں قائم کی گئ،اس کی بنیاد کتاب وسنت اور خلافت راشدہ کا منہج ہے،موصوف نےاسلام کے اجتماعی نظام پر تاریخی حوالوں سے گفتگو کرتے ہوۓ بتایاکہ جب خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کی سازش چل رہی تھی،اور ملک میں مسلمانوں کی سات سو سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیاتھا تب ملت کے اکا برین نے مسلمانوں کے اجماعتی نظام اوردارالقضاء جیسے شرعی نظام کو وجود میں لانے کے لیے قیام امارت شرعیہ کی مشترکہ کوشش فرمائی ،یہ تنظیم ہمارے اکابرین کی چھوڑی ہوئی تاریخی یادگار ہے ، جس کی حفاظت آج کےپرآشوب وقت میں ہم تمام لوگوں کی پہلی ذمہ داری ہے،اس طرح کی تنظیم کی ہندوستانی مسلمانوں کودین وشریعت کے تحفظ اور ملت کی بقا کےلیےآج ماضی کے مقابلے میں کئی گنازیادہ ضرورت ہے، ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں امارت شرعیہ کا پیغام یہ ہے کہ نئ نسل کے دین وایمان کی حفاظت کے لیےتمام مسلم آبادیوں میں محلہ کی سطح پر مکاتب کا نظام قائم کیا جائےاور جہاں پہلے سے قائم ہے وہاں مزید استحکام بخشا جائے، امارت شرعیہ کلمہ واحدہ کی بنیاد پر بلا امتیاز مسلک امت کو ایک صدی سےاتحاد کی دعوت دیتی آرہی ہے۔ چنانچہ ہرسطح پر اپنےجملہ اختلافات کو بھلا کر ملت کےحق میں اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کیا جائے،مساجدومدارس اوراوقاف کی جائیداد آج خطرات کے گھیرے میں ہیں؛ ان کی حفاظت کے لیے تمام دستاویزات کو محفوظ اور اپ ڈیٹ رکھا جائے، اس کے لیے مقامی سطح کے ذمہ داران تحریک چلائیں۔ NRC کی تلوار ابھی بھی ہماری گردن پر لٹک رہی ہے؛ اس کے لیے تمام سرکاری دستاویزات اور زمینی کاغذات کو حرف بہ حرف درست کرا لیا جائے،حالات کےپیش نظر ووٹر لسٹ میں نئے ناموں کے اندراج کو ترجیح دی جائے۔ دینی تعلیم کے ساتھ اعلی عصری تعلیم کے لیے خاکہ بنایا جائے اور اس کے لیے ہر گارجین بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں ؛ تاکہ ہم اس ملک میں باوقار زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔آج ملت کے سامنے جو مسائل ہیں، ان کو حل کرنا ہم میں سے ہر ایک شخص کی ذمہ داری ہے، ہر کوئی اپنی صلاحیت کے مطابق اپنا کردار ادا کرے۔

واضح رہے کہ یہ اجلاس ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر امارت شرعیہ بہار، اڑیشہ وجھارکھنڈ کے امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کے حکم پر منعقد کیا گیا؛ جس میں ضلع لاتیہار کے تمام بلاک سےحضرات علماء ائمہ مساجد اور دانشوران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس کا آغاز مولانا مہتاب عالم صاحب کی تلاوت قرآن پاک اور مولانا اکبر علی قاسمی صاحب کی نعت شریف سے ہوا، جبکہ اجلاس کی نظامت کے فرائض جناب مولانا عبدالواجد صاحب چترویدی نے انجام دیے، اجلاس کو کامیاب بنانے میں امارت شرعیہ کے قدیم مبلغ جناب مولانا محمد ارشاد رحمانی اور جناب مولانا اکبر علی قاسمی مبلغ امارت شرعیہ کی بڑی قربانیاں شامل رہیں، جناب مولانا ضیاء اللہ مظاہری صاحب نقیب و صدر تنظیم امارت شرعیہ بالوماتھ و صدر انجمن لاتیہار نےبھی اس اجلاس کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شرکائے اجلاس میں مولانا عبد الواجد چترویدی صاحب مصطفی کالونی بالوماتھ،مولانا عبد الحسیب صاحب نقیب تنظیم امارت شرعیہ و ناظم مدرسہ رشیدیہ جامع مسجد مورپا،مولانا ذاکر صاحب نقیب تنظیم امارت شرعیہ و امام جامع مسجد روہن کلاں،مولانا سہیل اختر صاحب امام ڈومرٹانڈ،مولانا مفتی دانش صاحب قاسمی امام جامع مسجد ناوا گڑھ،مجاہد صاحب نائب نقیب تنظیم امارت شرعیہ ناوا گڑھ،حاجی عمران صاحب بالوماتھ،حاجی عمرصاحب ،حاجی طیب صاحب ،حاجی ساجد اشرف،
توقیر اختر صاحب ابن حاجی عبداللہ صاحب جامع مسجد بالوماتھ اورمولانا عابد صاحب امام ملت مسجد کے نام قابل ذکر ہیں ۔صدر اجلاس کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔

Leave a Response