Tuesday, May 28, 2024
Ranchi Jharkhand News

کچھ’’ یادوں کی دنیا ‘‘کے بارے میں.ایک پیش لفط

زیر نظر تخلیق کوئی رثائی ادب کا شاہکار نہیں لیکن بین السطور میں ان ایام کا ماتم ضرور محسوس کیا جاسکتا ہے جواسے رثائی ادب کا شاہکار ضرور قرار دے گا جس پر ماتموں کا تسلسل بھی نا کافی ہوگا ، یہ وہ قوم و ملت سے چھن جانے والے کچھ بنیادی امور کی ہلکی سی تصویر پیش کرتا ہے جو آج کے افراد ملت کو احساس دلا جاتا ہے کہ وہ کس عظیم امانت سے محروم کئے جا چکے ہیں ، جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں لیکن ملت کے افراد اس کی تفسیر بنے بیٹھے ہیں ۔
وائے نا کامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
میری مراد کوئی حیدرآباد نامہ تخلیق کرنے کی نہیں اور نہ میں حیدرآباد کے وجود میں آنے کی تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالنے کی اہلیت رکھتا ہوں بل کہ میری مراد قارئین کو صرف ان دنوں کی یادوں کی چھاؤں میں لے جانا ہے جب جامعہ عثمانیہ اپنے دار الترجمہ کے ساتھ زندہ تھا اور بڑی تیز ،رفتاری سے ترقی کے منازل طے کر رہا تھا ۔
آج جامعہ عثمانیہ ، عثمانیہ یونیورسٹی کے نام سے ضرور باقی ہے لیکن اس کی لسانی خدمات داستان پارینہ کا ایسا باب بن چکی ہے کہ قوم ملت کے ہاتھوں میں اس کی تابناکی نہیں آ سکتی ، اس طرح زیر نظر تخلیق کا شمار رثائی ادب میں بھی کیا جا سکتا ہے ۔
حیدرآباد کی تشکیل ان دنوں کی یاد دلاتی ہے جب دکھن کی ایک حکمراں ’’روپ متی ‘‘ اور’’ باز بہادر‘‘ کے داستان عشق سے شروع ہوئی ، با ز بہادر آصف جاہ اول کے نام سے تواریخ میں مشہور ہوا اور روپ متی کی یاد میں بسایا ہوا ایک خطئہ ارض حیدر آباد کے نام سے مشہور ہوا ، جہاں بے شمار تاریخی تعمیرات وجود میں آئیں اور ہر طلوع ہونے والے دن نے ایک نیا افق تعمیر کیا ، میری مراد جناب یوسف حسین خاں کی خود نوشت ’’یادوں کی دنیا‘‘ پر روشنی ڈالنا ہے ،جناب یوسف حسین خاں ملک کے سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین خاں کے چھوٹے بھائی ہیں جن کا تعلق قائم گنج نامی قصبے ( یوپی ) سے رہا ہے ، اس شہہ پارے کی تخلیق سے نہ صرف ان کے خاندان کا ہی پتہ چلتا ہے بل کہ قائم گنج میں رہنےوالے ہر فرد کی وراثت ، تہذیبی ثقافت ، نجابت وشرافت کے معیار کا بھی پتہ چلتا ہے ۔
ڈاکٹر یوسف حسین خاں کا گھرانہ ان مشہور زمانہ سات بھائیوں پر مشتمل تھا جن کے بیشتر افراد اس دور کے مہلک مرض تپ دق کے عین عالم جوانی میں شکار ہوکر لقمۂ اجل بنتے رہے لیکن والدین کی دعاؤں نے جنہیں زندہ رکھا وہ یادوں کے آسمان پر مہر عالم تاب بن کر چمکا کئے۔
یہ ایک المیہ ہے ، سات کے ہندسےکی زندگی میں و دنیا بھر میں اہم اور متبرک رہا ہے ، سات ایک پراسرار عدد ہے ، سات طبق ، سات ولایت ، سات سمندر ، سات ستارے ، ہفتے کے سات دن ، سات جنم ، تخلیق کی سات صورتیں ، سورہ یوسف میں بادشاہ وقت کے خواب میں سات فربہ اور سات لاغر گائیں ، سورہ فاتحہ کی سات آیات ، عجائب دنیا سات ہیں ، قوس قزح میں سات رنگ ، سنگیت کے سات سر ، سات بار خانہ کعبہ کا طواف ، صفاء مروہ کی سات سعی ، شیطان کو سات کنکری ، عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیر ، سات پھیرے ، جیمز بانڈ ، رونالڈو اور مہندر سنگھ دھونی کی جرسی کا نمبر بھی سات ، سات کےعدد میں مزید کون کون سے اسرار پنہاں ہیں یہ تو مستقبل میں ہونے والی تحقیق اور آنے والا وقت بتائے گا ، لیکن اب تک ہونے والی تحقیق اور اس عدد کا استعمال اسے دوسرے اعداد سے بہت زیادہ منفرد اور دلچسپ بناتا ہے ۔ڈاکٹر یوسف حسین خاں نے اپنا ادبی سفر شروع کرنے پر ‘ روح غزل ‘ کی تخلیق کی اور اگر یوسف حسین خاں نے صرف ‘روح غزل ‘ ہی تحریرکی ہوتی تو بھی وہ ایک لاثانی کتاب کے مؤلف قرار پاتے لیکن انہوں نے اردو ادب کی چند ایسی کتابیں اور بھی دیں جن کی حیثیت مسلم ہے ۔
ڈاکٹر ذاکر حسین کے قیام جرمنی کے ایک واقعہ نے کتاب میں معلومات کا ایک خزانہ چھپا رکھا ہے جس کو مختصراً پیش کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے اور ان کے قیام میونخ کے متعلق یہ حقیقت بھی قارئین کے سامنے آتی ہے کہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے اپنے قیام جرمنی کے دوران وہاں ایک مطبع کاویانی میں اردو کمپوزنگ شروع کی اور وہاں غالب کا ایک دیوان خود کمپوز کر کے حسن و ادب کا ایک مرقع پیش کیا اور اسی اشاعت سے متاثر ہوکر حکیم اجمل خاں نے اپنا ایک دیوان ’’دیوان شیدا ‘‘ کے نام سے مرتب کر کے شائع کرایا جو دیوان غالب کی طرح ہی حسن و نزاکت کا دیدہ زیب مرقع تھا۔
ڈاکٹر یوسف حسین خاں نے اپنی سوانح عمری میں خود کو قائم گنج ، علی گڑھ ، جامیہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ عثمانیہ کی فضاؤں تک مقید رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن ان چار جگہوں کی فضاؤں سے وہ خوشبو پھیلی جس سے دیار ہند معطر ہوا اور قارئین کو دلچسپی کی سوغات میسر آئی- اسی دار الترجمہ میں ڈاکٹر یوسف حسین خاں کو جن شخصیات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ان کے متعلق کچھ کہنے کے قبل یاد آتا ہے کہ انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج کے ذریعہ بظاہر تو اردو کی بڑی خدمت کرتے دکھے لیکن ہندی اور اردو کا تنازعہ بھی انہیں کی دین ہے ، کیوں کہ ایک طرف تو وہ میر امّن دہلوی اور ان کے ساتھیوں کو اردو ادب کے شاہکار کی تدوین و اشاعت کی بڑی ذمہ داری دیتے نظر آتے ہیں اور وہیں للو لال جی کو بھی ہندی کی تخلیقات از سر نو مرتب کرنے کی ذمہ داری بھی سونپتے ہیں ، یہ ایک الگ مبحث کا باب ہے ۔
دار الترجمہ میں یوسف حسین خاں کی ملاقات جن شخصیات سے ہوئی ان میں ’’مرڈوک پک تھال ‘‘کا نام سر فہرست آتا ہے بل کہ یہ وہ نام ہےَ جس سے پوری دنیا واقف ہے کیوں کہ انہوں نے قرآن پاک کا انگریزی میں مشہور ترجمہ ’’دی گلوریس قرآن ‘‘کے نام سے ہمیں روشناس کرایا ، یہ وہ نام ہے جس کے سامنے آتے ہی یہ دستک ذہن میں گونجنے لگتی ہے کہ جس پرآنے والی نسلیں تم پر ناز کریں گی کہ تم نے ’’پک تھال ‘‘کو دیکھا ہے ، اس کے علاوہ دار الترجمہ میں جن اصحاب سے سابقہ پڑتا رہا وہ مختلف شعبۂ حیات کے نابغۂ روزگار شخصیتیں رہی تھیں ، ادھرفورٹ ولیم کالج میں ایسی ہی شخصیتیں میر امّن دہلوی کی قیادت میں کام کر رہی تھیں جن میں ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم کا نام سر فہرست آتا ہے اور ان کے ساتھ پروفیسر محمد حسن ، پروفیسر علی یار خاں ڈاکٹر مظفر الدین قریشی ، پروفیسر جمیل الرحمٰن ، پروفیسر ہارون خاں شیروانی اور ڈاکٹر ابن حسن کے نام آتے ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دار الترجمہ ایک تحریک تھی جس کی قیادت ان ہاتھوں میں تھی جو عرق ریزی اور جاں فشانی میں اپنی مثال آپ تھے ، یہاں یہ بھی عرض کرنا بعید از موضوع نہیں ہوگا کہ دار الترجمہ عثمانیہ دراصل مادری زبان میں ہر فن کی اصطلاحات کا ترجمعہ پیش کرتی تھی جو بلآخر ایسی شخصیتوں کی نظر سے گزرتا تھا جن کی تائید اس ترجمہ کو دوام بخشنے کے لیے کافی تھی ۔
یہاں اس بات کا اعادہ ایک بار پھر کردوں کہ دار الترجمہ ہی وہ قیمتی اثاثہ تھا جس کے اغراض و مقاصد سے ہم نےاس حد تک چشم پوشی کی کہ آج یہ بتانے والا بھی باقی نہیں کہ ہم کس اثاثئہ دولت سے محروم ہو چکے ہیں ، آج تو افسوس کی انتہا یہ ہے کہ آج یہ بتانے والا بھی شاید نہ ملے کہ ہماری مادری زبان کے حروف تہجی کیا اور کتنے ہیں ، بل کہ سرے سے ہماری کوئی مادری زبان ہے ہی نہیں یعنی ہم پرورش لوح قلم سے بہت پرے ایسی نسل کی پرداخت میں مصروف ہیں جو ایک گونگی نسل کہی جائے گی۔
یادوں کی دنیا کے بارے میں جب بھی انسانی ذہن آمادئہ اظہار ہوتا ہے تو علامہ اقبال کے اس شعر پر نظر پڑتی ہے ؎
میری مشاطگی کی کیا ضرورت ہے حسن معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالہ کی حنا بندی
یعنی یادوں کی دنیا میں جگہ جگہ پر ایسے مواقع ملیں گے جہاں حقیقت بیانی اپنے عروج پر ہے اور اس پر سچائی کی حریری ردا پڑی نظر آتی ہے ، قائم گنج کے بارے میں یوسف حسین خاں نے جو باتیں کہیں ہیں وہ ہیں تو سچائی اور ان سے اپنی سرزمین سے محبت کی خوشبو بھی پھیلتی ہے ۔لیکن لالہ کی ” حنا بندی ” کے زمرے میں نہیں آتیں –
یادوں کی دنیا کو مع تبصرہ شائع کرانا اور اس کی دلچسپیوں کو قائم رکھنا بڑا محال ہے پھر بھی کوشش یہی ہے کہ کتاب مزکور سے قارئین کو دلچسپی بھی قائم رہے اور راقم الحروف کی کاوشیں بھی سراہی جائیں، بل کہ یہ عرض کردوں کہ اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جاتا ہے تو یہ ڈاکٹر یوسف حسین خاں کی روحانی فیض کا ثمرہ ہوگا اگر کوئی بات نا قابل یقین ہو تو اسے راقم کی کم علمی پر محمول کر نظر انداز کیا جائے ، بہر حال کتاب کی ابتداء سے اب تک کے واقعات کم و بیش وہی تھے اور وہی رہے جن کا تزکرہ زیر نظر تجزیہ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کا اصل مرکز جامعہ عثمانیہ سے مصنف کے تعلق سے زیادہ اس امر پہ دیا گیاہے کہ وہاں ایک دار الترجمہ بھی تھا جو یقیناّ ملکی آبادی کے لیے ایک اثاثہ جمع کر رہا تھا اور بنیادی طور پر ہر فن سے متعلق رائج اصطلاحوں کو مادری زبان میں منتقل کرنے کا کام کر رہا تھا ، چونکہ یہ کام پورا نہ ہو سکا اس لیے اس کے ماتم نے اسے رثائی ادب میں شامل کرنے کا جواز مہیا کر دیا ۔
اٹاوہ ہائی اسکول سے خاندانی طور پر صاحب کتاب منسلک رہے اور اس دور کی یادوں میں وہ مادر علمی شامل ہے جس کو اٹاوہ ہائی اسکول سے آج بھی جانا جاتا ہے اور اس کے استادوں میں وہاں کے ہیڈ ماسٹر سید الطاف حسین صاحب جو طالب علموں کو انگریی اور ریاضی پڑھاتے تھے ، اس کے بعد نیکی و شرافت کا مجموعہ مولانا شرف الدین ٹونکی کے نام آج تک مشہور ہیں ، غرض یہ کہ قائم گنج اور اپنے گھر کا بڑا دلکش مرقع پیش کرتے ہوئے تحریک ترک موالات اور آغاز خلافت کمیٹی کے تزکرے سے یوسف حسین خاں کے سیاسی نظریہ کے فروغ کی بھی واقفیت ہوتی ہے ۔
کتاب کا اصل حصہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام جو انتیس اکتوبر ۱۹۲۰؁عیسوی کو علی گڑھ کی جامع مسجد میں مولانا محمود الحسن کے ہاتھوں ہوا جس میں مولانا کی علالت کے سبب ان کا صدارتی خطبہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھا تھا ( جو بعد کو تحریک پاکستان کے جمعیۃ العلماء کے واحد فرد تھے ، جنہوں نے تحریک پاکستان کی حمایت کی اور ۱۹۴۷؁ء کے بعد پاکستان کے ہی ہوکر رہے ۔
جامعہ ملیہ کے قیام کی تحریک شدید دینی جزبہ کے سائے میں ہوئی اور اسی دور میں بے سر و سامانی کے ایسے مناظر بھی سامنے آئے جہاں’’ کرشنا آشرم ‘‘ کے وسیع صحن میں خیموں کی قطاروں پر قطاریں لگی ہوتی تھیں جس میں علی گڑھ کے ناز پروردہ طلباء بھی فخریہ اپنی زندگی کے دن گزارا کرتے چونکہ انہیں خیموں میں جناب محمد علی جوہر کا کا قیام بھی ہوا کرتا تھا اور جو جامعہ اسلامیہ کے اولین پرنسپل بھی ہوا کرتے تھے اور بچوں کو انگریزی پڑھاتے تھے ،ان کے طریقئہ تدریس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی کیوں کہ ان میں جو ربط اور توازن ہوا کرتا تھا اس میں فصاحت اور بلاغت کے دریا بہا کرتے تھے ، ایسا بھی منظر آتا ہے جہاں اقبال کی ’’ اسرار خودی ‘‘ اور’’ رموز بے خودی ‘‘ کے اشعار کی توضیح کرتے طلباء ان کے کہے ہوئے ہر لفظ کو اپنے لکھے ہوئے نوٹ میں شامل کرتے نظر آتے ، جامعہ ملیہ کے نصب العین میں کچھ ایسی جاذبیت تھی کہ مولانا محمد علی کے علاوہ دوسرے زعمائے ملت بھی اپنی خدمات انہیں تفویض کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لیے جاتے ہیں ، ایسے عالم میں حکیم اجمل خاں جیسا شخص آگے آیا اور امیر جامعہ کے منصب پر فائز ہوا ، حکیم صاحب موصوف کہیں نہ کہیں سے جامعہ کے اخراجات کی کفالت کے لیے روپے لے آتے تھے ، ہر چند کہ جامعہ کے ارباب اقتدار کو اس کا پتہ نہیں چلتا تھا کہ حکیم صاحب مزکور کا دست غیب جامعہ والوں کی دستگیری کہاں سے کر رہا ہے۔
کراچی کے مشہور مقدمہ کے بعد مولانا محمد علی تو جیل بھیجے گئے لیکن ان کے بعد آنے والے دوسرے پرنسپل جناب عبد المجید خواجہ تھے جنہوں نے جامعہ کی سیاسی فضا کو تعلیمی فضا میں تبدیل کرنے کا اہم فریضہ انجام دیا اور جامعہ پر ان کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ۱۹۲۲؁ءمیں ڈاکٹر صاحب کے جرمنی جانے کے بعد ۱۹۲۶؁ء تک جامعہ کو اسی طرح سنبھالے رکھا کہ ان کے زمانہ میں ہی جامعہ ایک قابل فخر تعلیمی ادارہ بن گیا۔
جامعہ کی پہلی سال گرہ کے تزکرے میں ہمیں مولانا محمد علی کی خطابت کا وہ طنطنہ ایک بازگشت بن کر ہمارے ذہنوں میں کئی سوال کھڑے کرتا ہے ، مولانا محمد علی جوہر نے اپنے اعلان میں یہ کہا تھا کہ جامعہ ملیہ کی اصل منزل علی گڈھ کی ’’فتح‘‘ہے ، پتہ نہیں مولانا جوہر کا علی گڈھ کی’’فتح ‘‘ سے ان کی کیا مراد تھی؟ کہیں اس کے اقلیتی کردار کے چھن جانے کی تحریک اس اعلان میں پوشیدہ تو نہ تھی ، بہر حال اے ایم یو اور جامعہ ملیہ دونوں کو اب تک مرکزی یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے۔
کتاب مزکور میں اور بھی دلچسپی کے سامان ہیں جن پر اشارے دینے سے بہتر ہوگا کہ اس کتاب کا براہ راست مطالعہ کیا جائے……!
ڈاکٹر علی منظور بیگ
کوآرڈینیٹر
لرننگ سپورٹ سنٹر( مانو)
رام گڑھ ، جھارکھنڈ
رابطہ :7903762032

Leave a Response