جھارکھنڈ کے ایک نامور محقق اور تنقید نگار اردو دنیا سے رخصت ہو گئے ، ( مختار احمد صدر انجمن )


دنیا میں انسان آیا ہے تو یقینی طور پر اسے ایک دن اپنی زندگی کے ایام پوری کر کے اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہے ، ایک عام آدمی جب مرتا تو اس کا نقصان صرف اس کے گھر والوں کو ہوتا ہے لیکن جب زندگی کے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والا اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو ہوتا ہے ، لوگ صدیوں ان کے کارناموں کو یاد کرتے ہیں اور اس خلاء کو پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، رانچی کی مشہور و معروف ادبی شخصیت اور اردو زبان و ادب کے نامور محقق و تنقید نگار جناب پروفیسر ڈاکٹر احمد سجاد صاحب کی وفات سے اردو دنیا میں ایسا ہی ایک خلاء پیدا ہو گیا ہے جسے شاید ہی پر کیا جا سکتا ہے ، مذکورہ خیال کا اظہار مولانا آزاد کالج میں منعقدہ ڈاکٹر احمد سجاد کی تعزیتی نشست میں انجمن اسلامیہ رانچی کے صدر جناب مختار احمد نے کیا ، مولانا آزاد کالج کے پرنسپل ڈاکٹر پرویز اختر نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سجاد صاحب ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو اپنی گوناگوں خصوصیات کی بناء پر ہر طبقے میں جانے جاتے تھے اردو زبان و ادب کے نامور استاذ اور تنقید نگار کے ساتھ ساتھ انھوں نے مرکز ادب و سائنس قائم کرکے نمایاں خدمات انجام دیا ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ،

انٹر سیکشن کے انچارج اور صدر شعبہ اردو مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹر احمد سجاد اردو زبان و ادب کے صرف نامور محقق اور تنقید نگار ہی نہیں تھے بلکہ وہ ساری زندگی جماعت اسلامی کی دعوت و تحریک سے جڑے رہے ، مصروف ترین لمحات میں بھی وہ معاشرے کے مختلف پروگراموں کے لئے وقت نکال کر عملی طور پر حصہ لیتے تھے ، مولانا قاسمی نے کہا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سجاد صاحب مختلف صلاحیتوں کے مالک تھے جس کا احاطہ اس تعزیتی نشست میں نہیں کیا جا سکتا ہے ، شعبہ تواریخ کے صدر جناب پروفیسر ڈاکٹر الیاس مجید صاحب نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر احمد سجاد صاحب رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے مایا ناز اور باصلاحیت اساتذہ میں شمار کئے جاتے تھے ، وہ رانچی یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی کے سینئر ممبر بھی تھے ، ہائیر مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی آف انجمن اسلامیہ رانچی کے فاونڈر ممبر ایڈووکیٹ جناب امان صاحب نے بھی پروفیسر ڈاکٹر احمد سجاد کی علمی اور سماجی خدمات کا مختصر تعارف پیش کیا ، اس کے بعد مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی کی ترغیب پر تمام اساتذہ و ملازمین نے تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر پروفیسر ڈاکٹر احمد سجاد مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی ، اس تعزیتی نشست میں انجمن اسلامیہ رانچی کے صدر جناب مختار احمد صاحب ، پرنسپل ڈاکٹر پرویز اختر صاحب ، ایڈووکیٹ امان صاحب ، ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی صاحب ، جناب انور علی صاحب ، جناب ڈاکٹر الیاس مجید صاحب ، جناب محمود عالم صاحب ، جناب ڈاکٹر اشرف حسین صاحب ،جناب اعجاز صاحب ، جناب پرویز احمد ، جناب پرویز عالم ، محترمہ گل فرح ، محمد سمیع اللہ ، محمد اشفاق احمد ، محمد رمضان ، ادیب احمد ، محمد اقبال ، حیدر علی ، ریاض احمد ، خالد امن ، محترمہ تبسم پروین ، محترمہ یاسمین تبسم اور ریاض احمد موجود تھے ، یہ جانکاری مولانا آزاد کالج کے بڑا بابو پرویز احمد نے پریس ریلیز جاری کر دی ،








