Tuesday, June 18, 2024
Ranchi Jharkhand News

امارت شرعیہ جھارکھنڈ کی ضرورت کیوں ؟ (ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی )

رانچی : کسی بھی تحریک کی ایک عمر ہوتی ہے جس کے گزرنے کے بعد ہی کوئی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے, خواہ وہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک ہو یا بہار سے الگ ہوئے جھارکھنڈ کی تحریک ہو, متحدہ بہار میں جتنے سیاسی اور غیر سیاسی ادارے اور تنظیمیں تھیں وہ سب جھارکھنڈ الگ ریاست بننے کے بعد بہار سے الگ ہوگئیں یا الگ کردی گئیں اور آج وہ سارے ادارے اور تنظیمیں کامیابی کے ساتھ باضابطہ طور پر چل رہی ہیں جیسے جھارکھنڈ وقف بورڈ, جھارکھنڈ اقلیتی کمیشن, جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل, جھارکھنڈ انجمن ترقی اردو, جھارکھنڈ ملی کونسل, جھارکھنڈ مسلم مجلس مشاورت, جھارکھنڈ جماعت اسلامی ہند جھارکھنڈ جمیعت علماء ہند, جھارکھنڈ ادارہ شرعیہ وغیرہ, مذکورہ تمام ادارے بہار سے الگ ہوگئے یا الگ کردئے گئے تو کہیں بھی مسلمانوں کا شیرازہ نہیں بکھرا اور نہ اتحاد پارہ پارہ ہوا اور نہ ہی بزرگوں کی سوسالہ امانت ضائع ہوئی اور نہ ہی اکابرین کی روح کو ٹھیس پہنچی لیکن جیسے ہی 14/ دسمبر 2023ء کو سرسا مڑما رانچی میں مجلس علماء جھارکھنڈ کے اجلاس میں بہار سے الگ امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے قیام کا اعلان ہوتا ہے تو چار پانچ گھنٹے کے اندر ہی حاشیہ برداروں کی محنت و کوشش سے ملک کی کئی ریاستوں کے اداروں سے ان کے لیٹر پیڈ پر مذمتی اور اتحاد و اتفاق کی دہائی اور راگ الاپنے والی تحریریں سوشل میڈیا میں گشت کرنے لگ جاتی ہیں جسے پڑھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ بہار سے الگ امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے قیام کا اعلان کر کے یہاں کے علماء نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے اور شریعت کے کسی جائز اور حلال کام اور حکم کو حرام اور ناجائز قرار دیا ہے, جبکہ حقیقت اور سچائی یہ ہے کہ جھارکھنڈ ریاست کی تشکیل کے بعد سے ہی امارت شرعیہ جھارکھنڈ کی مانگ شروع ہوگئی تھی ,میں نے رانچی کے چند علماء اور سماجی رہنماؤں کے ساتھ مل کر امارت شرعیہ جھارکھنڈ کی پرزور تحریک چلائی تھی اس کے لئے رانچی کے امارت شرعیہ کے دفتر میں کئی نشستیں حضرت مولانا احمد علی قاسمی صاحب مرحوم کی صدارت میں ہوئی تھی, وہ بھی امارت شرعیہ جھارکھنڈ کی ضرورت اور اس کی افادیت کو محسوس کرچکے تھے اس لئے اس کے زبردست حامی تھے ,حضرت مولانا احمد علی قاسمی صاحب مرحوم کی حمایت اور ساتھ نے الگ امارت شرعیہ جھارکھنڈ کی تحریک کو اتنا پرزور اور پر اثر بنا دیا تھا کہ پٹنہ سے حقیقی امیر شریعت حضرت مولانا نظام الدین صاحب مرحوم اور ناظم امارت شرعیہ حضرت مولانا انیس الرحمان صاحب رانچی تشریف لائے اور ہوٹل سرتاج مین روڈ رانچی میں باقاعدہ مغرب نماز کے بعد سے ادھی رات تک میٹنگ ہوتی رہی, اس میٹنگ میں حضرت مولانا احمد علی قاسمی مرحوم, حضرت مولانا قاری علیم الدین قاسمی مرحوم, میرے والد محترم حضرت مولانا محمد صدیق مظاہری صاحب مرحوم, میں ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی اور شہر رانچی کے سرکردہ افراد موجود تھے جس میں کئی مطالبات رکھے گئے جس کی تائید سب نے کی اور وہ یہ کہ(1)جب تک آپسی رضامندی سے امارت شرعیہ جھارکھنڈ کی تشکیل نہیں ہوجاتی اس وقت تک جھارکھنڈ سے ہر قسم کی حاصل ہونے والی رقم کا پچاس فیصد حصہ جھارکھنڈ کے ضرورت مند لوگوں کے لئے مسلم فنڈ رانچی میں جمع ہوگا اوربقیہ پچاس فیصد رقم مرکز پٹنہ میں جائے گی, (2) مرکز پٹنہ سے ناظم یا نائب ناظم امارت شرعیہ کو ہفتہ میں کم از کم دو دن رانچی دفتر میں قیام کرنا ہوگا اور یہاں کے پیش آمدہ مسائل حل کرنے ہوں گے (3) رانچی دفتر میں ہر مہینہ پیش آمدہ مسائل کے حل کے لئے مقامی علماء اور سماجی رہنماؤں کی نشست ہو گی, (4) جھارکھنڈ کے جس ضلع میں بھی دارالقضاء قائم ہے یا آئندہ قائم ہوگا تو قاضی اور مفتی جھارکھنڈ کے ہی علماء ہوں گے,(6)جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں باضابطہ ایک دارالافتاء قائم کیا جائے گا, اس کے علاوہ اور بھی کئی مطالبات تھے,جسے امارت شرعیہ کے اس وقت کے حقیقی اور اصولی امیر شریعت اور ناظم صاحب نے تسلیم کرلیا تھا جس کے سارے ثبوت اور دلائل آج بھی موجود ہیں لیکن چند میر جعفر اور میر صادق جیسے منافق مولویوں کی وجہ سے مذکورہ مطالبات کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا اور بعد میں بہار امارت شرعیہ نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا جس کے نتیجہ میں تحریک بیچ میں سرد مہری کا شکار ہوگئی مذکورہ تمام تفصیلات تحریری شکل میں آج بھی میرے پاس موجود ہیں , 14/دسمبر2023ءکو جب امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے قیام کا اعلان مجلس علماء نے سرسا مڑما کے اجلاس میں کیا تو ایسا لگا کہ 2001 ء میں شروع امارت شرعیہ جھارکھنڈ کی تحریک نے 23 سال میں جوان ہوکر اپنی مردانگی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے قیام کا اعلان کر ہی دیا جس کے لئے مجلس علماء جھارکھنڈ کے تمام علماء کرام مبارکباد کے مستحق ہیں, آج نہیں تو کل امارت شرعیہ جھارکھنڈ قائم ہونا ہی تھا,کیوں کہ جھارکھنڈ کے علماء اور عوام کا بہت استحصال ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے قیام سے یہاں کے نوے فیصد علماء, ائمہ, حفاظ, قراء, خطباء اور سیاسی و سماجی رہنما اور عوام خوش ہیں ,اس کا بھرپور احساس بہار امارت شرعیہ کے ذمے داروں کو بھی ہے تبھی تو امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے قیام کا اعلان ہوتے ہی پٹنہ سے امارت شرعیہ کا وفد پورے جھارکھنڈ کا دورہ کرنے لگا اور ہمارے علماء کرام کو توڑنے کی کوشش کی جانے لگی اور اپنی پرانی عادت کے مطابق جوڑ توڑ کی سیاست شروع کردی لیکن یہاں کے علماء اور عوام نے ان کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا, جھارکھنڈ کی کسی تنظیم اور ادارے نے امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے اعلان اور اس کے قیام کی مخالفت نہیں کی, سرسا مڑما کے اجلاس میں مجلس علماء کے صدر اور سیکرٹری نے امیر شریعت کے طریقہ کار پر اپنی رائے کا اظہار کیا تھا, مفتی نذر توحید مظاہرہ کی امارت کو یکسر کالعدم قرار نہیں دیا ہے اور نہ ہی مفتی نذر توحید مظاہری صاحب نے سازشی ٹولہ کے مکر و فریب کے دباؤ میں آ کر میدان چھوڑا ہے کیوں کہ جھارکھنڈ کے علماء اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مفتی نذر توحید مظاہری نے ڈنکے کی چوٹ پر لوگوں سے بیعت لی, انہوں نے اپنے باپ کے مریدین کا ٹولہ اور اپنے مدرسہ کے طلباء کو امیر کے انتخاب میں استعمال نہیں کیا اور نہ ہی ان کی امارت کا وصیت نامہ مرنے والے کے تکیہ کے نیچے سے برآمد ہوا, کسی تنظیم یا ادارے سے علحدگی ہمیشہ بری نہیں ہوتی, کام کو اور ذیادہ بڑھانے اور دوسروں کو بھی کام کرنے دینے کا موقع فراہم کرنے کا جذبہ ہو تو کسی ثکراؤ اور انتشار کے بغیر بھی امت کی فلاح و بہبود کا کام کیا جاسکتا ہے جس کی کئی مثالیں ہمارے ملک میں موجود ہیں, جمیعة العلماء ہند دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور دونوں ہی بغیر کسی ثکراؤ کے کام کر رہی ہیں ,اسی طرح مسلم مجلس مشاورت, دارالعلوم دیوبند, مظاہرالعوم سہارنپور اور تبلیغی جماعت اپنی تقسیم کے باوجود ملک میں کام کر رہی ہے اور ان سب کی خدمات سے علماء اور عوام فائدہ ہی ہورہا ہے, امارت شرعیہ میں ایسا کیا سرخاب کا پر لگا ہوا ہے کہ اس سے علحدہ ہوتے ہی امت کا شیرازہ بکھر جائے گا اور مسلمان آپسی اختلاف و انتشار کا شکار ہو کر کمزور ہوجائیں گے,امارت شرعیہ کے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ جب کسی علاقے کا سیاسی, سماجی, تعلیمی اور مذہبی استحصال ہوتا ہے تو علحدگی کی تحریکیں جنم لینا شروع کردیتی ہیں اور پروان چڑھنے لگتی ہیں جسے اپنے مکر و فریب اور منافق صفت علماء کے سہارے وقتی طور پر کمزور تو کیا جاسکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا ہے, کیوں کہ امارت شرعیہ وظیفہ خور مفتی, قاضی اور ناظم کا نام نہیں ہے یہ سب یا تو ریٹائرڈ ہوتے ہیں یا کبھی نکال دئے جاتے ہیں, آصل امارت شرعیہ کے افراد اور ذمے دار تو وہ علماء اور عوام ہیں جو امارت شرعیہ کی زكواة ,فطرہ اور چندے کی رقم اور خیرات کے ٹکڑوں پر نہیں پلتے, اگر امارت شرعیہ ایک تحریک کا نام ہے تو اس تحریک کے سروے سروا عام علماء و عوام ہیں نہ کہ وظیفہ خور اور تنخواہ دھاری مفتی , قاضی, ناظم اور امیر, کیوں کہ امارت شرعیہ کے وظیفہ خور مفتی, قاضی, نائب ناظم, ناظم اور دوسرے ذمے دار حضرات یہ سمجھتے اور سمجھاتے ہیں کہ انہیں کے ٹولہ کا نام امارت شرعیہ ہے,
گزشتہ 2/اکتوبر2023ء کو کڈرو کے حج ہاؤس میں “امارت شرعیہ امن و اتحاد ” کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا,اس کانفرنس کا نام ,جگہ, اور تاریخ بھی یہاں کے علماء سے رائے و مشورہ کے بغیر پٹنہ سے ہی طئے ہوگیا تھا یہاں صرف فرمان سنا دیا گیا کہ میرے غلاموں تمہیں اسٹیج سجانا ہے, دری بچھانی ہے ,مہمانوں کے کھانے پینے اور ان کے آرام کرنے کا بہتر انتظام کرنا ہے اور کانفرنس کے اخراجات کے نام پر چندہ کر کے ہماری جھولی بھرنی ہے, ایسا کرنا ہے, اور ویسا کرنا ہے, کڈرو حج ہاؤس میں منعقدہ” امن و اتحاد کانفرنس” میں مجلس علماء جھارکھنڈ کو نظرانداز کیا گیا, کسی مقامی عالم کو نمائندہ کے طور پر بھی بولنے نہیں دیا گیا, اس اجلاس کے لئے سیسئی (گملا) کے مسلمانوں نے 52 ہزار روپے چندہ دیا ,سیسئی میں دارالقضاء قائم کرنے کے لئے رانچی دفتر کے ایک وظیفہ خور مفتی نے سیسئ کی عوام کی جانب سے خود درخواست لکھ کر سیسئ میں دارالقضاء قائم کرنے کا مطالبہ کردیا, لاکھوں روپئے کے خرچ سے سیسیئ کے مسلمانوں نے دارالقضاء کا دفتر کھول دیا دارالقضاء کے قیام کے نام پر جلسہ منعقد کیا گیا لیکن ہمارے رانچی, گملا اور لوہردگا کے کسی بڑے عالم کا نام پوسٹر میں نہیں دیا گیا, پورے پوسٹر میں صرف بہار امارت شرعیہ کے علماء کا نام تھا, سیسئی کے نئے دارالقضاء میں جب قاضی بحال کرنے کا موقع آیا تو جھارکھنڈ کے مفتی اور قاضی کو نظر انداز کر کے دربھنگہ سے قاضی لا کر جبرا تھوپ دیا گیا, امارت شرعیہ رانچی دفتر کی مقامی کمیٹی کے افراد کے انتقال سے اب کمیٹی میں صرف ایک دو افراد ہی بچے ہیں اس کے باوجود اب تک خالی جگہوں کو پر نہیں کیا گیا, جب میں نے مقامی قاضی سے سوال کیا کہ امارت شرعیہ کی مقامی کمیٹی کیوں نہیں بنائی جاتی تو ان مفتی صاحب کا جواب تھا مقامی کمیٹی پٹنہ سے بن کر اتی ہے, ذرا سوچئے کہ امارت شرعیہ کی مقامی کمیٹی بنانے کا اختیار بھی یہاں کے علماء کو نہیں ہے, حالانکہ امارت شرعیہ کی مقامی کمیٹی کا رکن ہونا کوئی معراج نہیں ہے, بتانا اور دکھانا یہ ہے کہ ہم کو ہمیشہ غلام سمجھا گیا, ہماری فکر کو دبایا گیا,ہماری قیادت کو دبایا گیا, ہمارے بزرگوں کا استحصال کیا گیا,جھارکھنڈ کے کسی بھی ضلع میں جب کوئی ہنگامہ یا فساد یا موبلنچنگ کا حادثہ پیش آ جاتا ہے تو مقامی امارت شرعیہ کے وظیفہ خور مفتی اور قاضی کہیں بھی متحرک نطرنہیں آتے, ہفتہ دس کے بعد پٹنہ سے کچھ ذمے دار آتے ہیں اور متأثر خاندان کے فرد کو کچھ رقم دے کر اور الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں تصویر چھپوا کر چلے جاتے ہیں, جھارکھنڈ کے مختلف علاقے میں موبلنچنگ کا کوئی کیس اور مقدمہ امارت شرعیہ نے مظلومون کی حمایت میں نہیں کی اور نہ ہی دہشت گردی کے جھوٹے مقدمے میں پھنسے کسی کسی مسلمان کا مقدمہ لڑا اور نہ ہی اس کی پیروی کی, تو پھر ہم جھارکھنڈ کے علماء اور عوام امارت شرعیہ جھارکھنڈ کیوں نہ بنائیں ؟ ہم آپ کی ٰغلامی اور ماتحتی سے آزادی کیوں نہ حاصل کریں ؟ ہم اپنا قائد خود پیدا کیوں نہ کریں ؟ ایک باد اور یاد دلا دوں کہ 14/دسمبر 2023 سے ایک دن پہلے یعنی 13/دسمبر 2023 ء کو شہر رانچی اور مضافات کے سرکردہ علماء کی نشست جامع مسجد اپر بازار رانچی میں مجلس علماء نے بلائی تھی جہاں متفقہ طور پر ایک عام رائے بنی کہ کل کے اجلاس میں امارت شرعیہ جھارکھنڈ کا اعلان بالیقین ہونا چاہئے جس کی دوسرے اضلاع کے علماء نے بذریعہ فون تائید اور حمایت بھی کی, اس اجلاس میں فخر جھارکھنڈ حضرت مولانا مفتی نذر توحید صاحب کا امیر شریعت بننا بھی من جانب اللہ طئے تھا,مفتی نذر توحید مظاہری صاحب سے کسی کا ذاتی ہوسکتا ہے یا ذاتی رنجش ہو سکتی ہے لیکن اس کی بناء ان کی ہمہ گیر شخصیت اور ان کی علمی و تنظیمی صلاحیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے, مفتی نذر توحید مظاہری صاحب انجنیئر مسٹر فیصل رحمانی سے تو بدرجہا بہتر ہیں, جو کچھ ہوا اللہ کی مشیت اور اس کی مرضی سے ہوا اور آگے بھی جو کچھ ہوگا وہ بھی اللہ کی مشیت اور اس کی مرضی سے ہوگا, ان شاء اللہ تعالیٰ
ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی پروفیسر مولانا آزاد کالج رانچی و صدر مرکزی علماء کونسل رانچی 7004951343

Leave a Response