Saturday, July 13, 2024
Ranchi News

سرزمین انبیاء فلسطینیوں کے خون سے لہو لہان اور ہماری بے حسی

ترتیب و پیشکش: مفتی محمد قمر عالم قاسمی خادم التدریس والافتاء مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی ، خطیب حواری مسجد کربلا چوک و شہر قاضی رانچی جھارکھنڈ سرکار


زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ اتش تیرے وجود میں ہے
تیری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے
فلسطین انبیاء و رسولوں کی سرزمین مقدس و محترم ہے جہاں انبیاء علیہم السلام کی ایک بڑی تعداد مبعوث ہوئی مسجد اقصی مسلمانوں کی تین عبادت گاہوں میں سے ایک ہے جس میں رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے بوقت معراج تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی امامت فرمائی۔ مسلمانوں نے ہمیشہ اس پورے خطے کو اپنی دینی فکری علمی عملی روحانی تہذیبی و تمدنی آماجگاہ بنائے رکھا یہودی یہاں کے اصل باشندہ نہیں تھے تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے دوسری قوموں کی نسل کشی کر کے ارض مقدس فلسطین پر زبردستی قابض ہوئے تھے کیونکہ عرب تقریبا دو ڈھائی ہزار سالوں سے آباد چلے ارہے تھے مگر ان بدبختوں احسان فراموشوں ذلیل و خوار قاتلین انبیاء و رسل، منکرین کرامات و معجزات کا بزعم خود یہ دعوی ہے کہ ارض فلسطین ان کے باپ دادا کی میراث ہے جو خدا نے انہیں عطا فرمائی ہے اور انہیں حق پہنچتا ہے کہ وہ اس میراث کو بزور طاقت حاصل کر کے اس علاقے کے قدیم باشندوں مردوں عورتوں بچوں اور معصوموں پر عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر ہزاروں ٹن بم و بارود برسا کر اصل باشندہ کو بے دخل کر کے ہمیشہ کے لیے موت کی گہری نیند میں جبرا سلا دیا جائے ۔ایسا کبھی نہیں ہوگا انشاءاللہ تعالی کروڑوں سلام ہو غزہ کے ان نو نہال بچوں بوڑھوں نوجوانوں ماؤں اور بہنوں کے جذبوں اور حوصلوں کو جو سینہ سپر ہیں عزم و استقلال کے کوہ ہمالیہ بنے ہوئے ہیں اپنی قیمتی جانوں کا نظرانہ پیش کر رہے ہیں، غاصب صہیونیوں کے آنکھوں میں آنکھ ڈال کر یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ ہم ان عرب حکمرانوں کی طرح جو برہنہ ناچ و رقص کرنے والی نچنیوں گویوں کے سامنے موج و مستی کرنے والے اور محفل شراب و سرور منعقد کر کے رنڈیوں پر سیم و زر نچھاور کرنے والے اسی طرح جلسوں جلوسوں میں صرف نعرۂ تکبیر بلند کرنے والے مسلمان نہیں ہیں؛کیونکہ ہم اپنی غیرت و خودداری ہمت و جواں مردی شجاعت و بہادری حوصلے اور قربانی کی ایک انمول تاریخ رقم کر رہے ہیں جس کی ہر سطر جگر کے ٹپکتے لہو سے لکھی جا رہی ہے جس کی تابناکی کے سامنے شمس و قمر کی روشنیاں بھی ہیچ ہیں ہمارے ایمان باللہ اور توکل علی اللہ کا تو حال یہ ہے کہ لاشوں کے ڈھیر پر بھی کھڑے ہو کر ہم اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہیں۔ہم اخری سانس تک قبلے اول بیت المقدس کی حفاظت و صیانت اور سالمیت کی خاطر سب کچھ لٹا دیں گے کیونکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہمارے معصوم بچے، ہماری مائیں، ہماری بہنیں، ہمارے نوجوان،ہمارے بڑے ہمارے چھوٹے ہزاروں کی تعداد میں شہید اور زخمی کۓ جارہے ہیں۔ صہیویونی غاصبوں نے ہمارے مکانات شفا خانے اسکولز مدارس مساجد پناہ گاہیں تمام کو بم و باروز سے اڑا کر تہس نہس اور نیست و نابود کر دیا ہمارے پاس پینے کے پانی نہیں کھانے کے لیے غذا نہیں علاج کے لیے دوا نہیں روشنی کے لیے بجلی نہیں سسکتی آہوں کو سکون دینے کے لئے آکسیجن نہیں اپریشن کے وقت سن کرنے کے لیے ادویات نہیں شہداء کے جسم کو چھپانے کے لیے کفن نہیں قبرستان میں جگہ نہیں کسی کا پورا کا پورا خاندان کسی کا بھائی کسی کا بیٹا کسی کی ماں کسی کا شوہر غرض کہ پورا کا پورا غزہ ظالموں جابروں غاصبوں صہیونیوں کی ظلم و بربریت کی34 دنوں سے شکار ہے مگر کیا مجال کہ جذبہ ایمانی میں ذرہ برابر فرق، حوصلہ شہادت میں رتی بھر تذبذب، وعدہ الہی میں سوئی کے ناکے کے برابر شک و شبہ کی گنجائش، چھوٹے بڑے جوان مرد عورت ہر زبان پر حسبی اللہ، حسبنا اللہ ونعم الوکیل، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کا ورد۔
کدھر چلے گئے 56 اسلامی ملکوں کے نام نہاد اتحاد او ائی سی کے ممبران کیا انہیں زمین نگل گئی یا سمندر میں ڈوب گئے یا پہاڑوں اور غاروں میں انہوں نے پناہ لے لیا، دنیا کے مختلف ممالک میں جنم لینے والی مسلم تنظیمیں، ادارے، لجنے اور جماعتیں کس سوراخ اور بل میں گھس گئیں مدارس مساجد انجمنوں اور پنچایتوں کے صدور و سکریٹریز مہتمیمین اور ارکانِ و عہدے داران کو کس وحشی جانور نے نگل لیا کہ وہ اپنے یہاں روۓ زمین کی سب سے زیادہ مظلوم و مقہور نہتے فلسطینی بھائیوں بہنوں بچوں اور مجاہدین کی فتح و نصرت کے لیے بارگاہ الہی میں اجتماعی دعا کرتے اور سر بسجود ہوتے مظاہروں کے ذریعہ فلسطینی بھائیوں کی حمایت اور یہودیوں سے اظہار نفرت و ناراضگی کرتے،اپنی شادی و بیاہ کی محفلوں ہوٹلوں اور گھروں میں ان کی مصنوعات کے استعمال سے احتراز اور بائیکاٹ کرتے۔ہائے رے ہماری بزدلی و بے حسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اللہ کی ذات عالی سے توقع اور مکمل یقین ہے کہ یہ صہیونی طاقتیں اور قوتیں ایک نہ ایک دن نیست و نابود ہوں گی ارض مقدس ناپاک یہودیوں سے پاک ہوگی کیونکہ قران کریم نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا ہے جس کا ترجمہ ہے کہ”ان یہودیوں پر ذلت و پستی اور بے کسی و بے بسی کا ٹھپہ لگا دیا گیا اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے یہ سب اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ سب اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ بے حد زیادتیاں کرنے والے تھے” سورہ بقرہ ایت 61 کسی بہتر اجتماعی نظام کی تشکیل میں اعلی فکر عزت و احترام اور امن و امان والا مستحکم سیاسی نظام عدل و انصاف پر مبنی خوشحالی کا معاشی نظام بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے ان تینوں دائروں میں بنی اسرائیل یہود پر اللہ کے انعامات ہوئے لیکن انہوں نے ان تینوں نظاموں میں سے کسی نظام کی پاسداری نہیں کی جس کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالی نے ان پر تین عذاب مسلط کیے(١) سیاسی حوالے سے ذلت و رسوائی کا عذاب مسلط ہوا جس کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے وہ حکومت سے محرومی میں مبتلا ہوئے(٢) اولو العزمی اور بلند ہمت نہ رہنے کی وجہ سے معاشی عدل و انصاف کے منصفانہ نظام سے روگردانی کی وجہ سے سود اور رشوت خوری کے عذاب میں مبتلا ہوئے(٣) کوئی قوم اعلی علم حاصل کر لینے کے باوجود اس پر پورے طور پر عمل نہ کرے تو وہ غضب الہی کے مستحق ہو جاتی ہے چنانچہ توریت کی مکمل پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے وہ مغضوب علیہم بن گئے۔علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے “لا يزالون مستذلين من وجدهم استذلهم وضرب عليهم الصغار”یعنی وہ کتنے ہی مالدار بھی ہو جائیں ہمیشہ تمام اقوام میں ذلیل و حقیر ہی سمجھے جائیں گے جس کے ہاتھ لگیں گے ان کو ذلیل کرے گا اور ان پر غلامی کی علامتیں لگا دے گا مطلب یہ ہے کہ یہودی ہمیشہ دوسروں کی غلامی میں رہیں گے گو قانون الہی کی وسعت میں آکر ان کے بعض افراد اس سے محفوظ ہو جائیں یا دوسرے لوگوں کا سہارا لے کر ذلت و پستی پر پردہ ڈال دیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے جس کا ترجمہ یہ ہے جما دی گئی ان پر بے قدری جہاں کہیں جائیں گے مگر ہاں ایک تو ایسے ذریعے سے جو اللہ تعالی کی طرف سے ہو اور ایک ایسے ذریعے سے جو آدمیوں کی طرف سے ہو سورہ ال عمران ایت 112 اسی سے وہ تمام شبہات بھی دور ہو گئے جو آج کل فلسطین میں یہودیوں کی حکومت قائم ہونے کی بنا پر بہت سے مسلمانوں کو پیش اتے ہیں کہ قرآن مجید کے قطعی ارشادات سے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہودیوں کی حکومت کبھی قائم نہ ہوگی اور واقعہ یہ پایا جاتا ہے کہ فلسطین میں ان کی حکومت قائم ہو گئی جواب واضح ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کی موجودہ حکومت کی حقیقت سے جو لوگ باخبر ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ حکومت حقیقتاً اسرائیل کی نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی ایک چھاونی سے زیادہ اس کی حیثیت نہیں جیسا کہ ابھی جب حماس نے سات اکتوبر کو ان پر حملہ کیا( تو پوری دنیا نے اسرائیل کی ذلت و رسوائی اور اس کی طاقت و قوت کی کمزوری اور بے بسی کا مشاہدہ اور معائنہ کیا) سب سے پہلے اسرائیل کی حمایت میں امریکہ اور برطانیہ کود پڑے اور ان دونوں جگہوں کے صدور نے وہاں کا دورہ کیا اور امریکہ کے وزیر خارجہ نے تو گویا کہ اسرائیل میں اپنا ڈیرہ ہی ڈال دیا،اپنی حمایت کے لیے کئی اسلامی ممالک عراق شام مصر اور ترکی کا دورہ کیا،یہ اپنی ذاتی طاقت سے ایک مہینہ بھی زندہ نہیں رہ سکتے یورپین طاقتوں نے اسلامی ممالک کو کمزور کرنے کے لیے ان کے بیچ میں اسرائیل کی بنیاد ڈال کر ایک چھاؤنی بنائی ہوئی ہے اور اسرائیل ان کی نظروں میں بھی ان کے فرمانبردار غلام سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے صرف قرآن کریم کے ارشاد کے سہارے ان کا اپنا وجود قائم ہے وہ بھی ذلت کے ساتھ اس لیے موجودہ اسرائیلی حکومت سے قران کریم کے کسی ارشاد پر ادنی شبہ بھی نہیں ہو سکتا اس کے علاوہ ایک بات یہاں یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہود و نصاری اور مسلمانوں میں سب سے پہلے یہودی مزہب ہے ان کی شریعت ان کی تہذیب سب سے پہلے ہے اگر پوری دنیا میں فلسطین کے چھوٹے سے حصے پر ان کا تسلط کسی طرح غاصبانہ ہو گیا ہے تو پوری دنیا کے نقشے میں یہ حصہ ایک نقطے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا اس کے بالمقابل عیسائیوں کی سلطنتیں مسلمانوں کے دور تنزل کے باوجود ان کی سلطنتیں غیر مسلموں کی سلطنتیں لا مذہبوں کی حکومتیں جو جگہ جگہ مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہیں ان کے مقابلے میں فلسطین اور اس پر بھی امریکہ برطانیہ کے زیر سایہ کہیں تسلط یہودیوں کا ہو جائے تو کیا اس سے پوری قوم یہود پر خدا تعالی کی طرف سے لگائی ہوئی دائمی ذلت کا کوئی جواب بن سکتا ہے۔اللہ ہمارے فلسطینی بھائیوں کی خصوصی مدد فرمائے ان کی شہادتوں کے صلے میں اللہ ارض مقدس فلسطین و بیت المقدس کو ناپاک یہودیوں سے پاک صاف فرما دے ان کی ہمت و حوصلہ کو اللہ تعالی باقی رکھے آمین

Leave a Response