Sunday, June 23, 2024
BlogPakud News

بزرگ عالم دین مولانااسمعیل قاسمی صاحب نم آنکھوں کے ساتھ ہوئےسپردخاک

مدارس وجامعات کے ذمہ داران کے علاوہ دینی ملی سیاسی احباب نے کی جنازہ میں شرکت
(پریس ریلیز)
ایم اے انصاری /پاکوڑ جھارکھنڈ
24/12/2023


مولانا اسماعیل قاسمی صاحب کی نمازجنازہ انکے آبائی وطن تارانگر کے آم باغ کچہری میں پڑھی گئی جنازہ میں علاقہ بھر سے بڑی بھیڑ نے شرکت کی ہزاروں افراد شریک تھے
موصولہ اطلاع کے مطابق گذشتہ 23/12/2023 کی شب 9/30 بجے مولانا قاسمی صاحب اس دار فانی سے کوچ کرگئے اناللہ واناالیہ راجعون
یہ خبرعلاقہ اورمتصل سرحدکے ضلع مرشد آباد مغربی بنگال میں مولاناکے عقیدتمندان میں غم والم کی باعث بنی
مولانا قاسمی صاحب حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز تھے نہایت ہی باخلاق تھے اچھی صلاحیتوں کے مالک تھے بڑے متقی مخلص تھے
مولانا نے مقامی علاقائی مکاتب ومدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارلعلوم دیوبند کا پھی‌رخ کیا تھا اور وہیں سے فراغت بھی کی ہے


فراغت کے بعد ہی سے قاسمی میدان تدریس سے جڑ گئے دعوت وتبلیغ تعلیم وتدریس انکی زندگی ہدف رہا
مولانا نے ابتداء کے کچھ‌سال مغربی بنگال کے صالح ڈانگا تدریسی فرائضانجام دیا پھر آخری دم تک اپنے گاؤں میں قائم ‌ادارہ جامعہ دارالاسلام تارانگر میں شیخ الحدیث وشیخ الجامعہ کے عہدہ پر فائز رہے
مولانا بنگلہ زبان کے بڑے پیارے مقرراور بے مثال خطیب تھے اپنی شیریں آواز سے مجمع کو اپنی گرفت میں لینے کا ہنر مولانا کے پاس تھاایسا متعدد بار دیکھاگیاہے کہ کیا مرد کیا عورت کیاجوان بوڑھے سبھی مولانا کی تقریر سننے کے لئے دیوانہ ہوجاتے تھے اوراجلاس کے پورے مجمع میں ایک عجیب سا سناٹاکاماحول ہواکرتاتھا


جب مدرسہ کے تعاون کے لئے مولانا اتنی تقریر کے دوران تحریک چلاتے تھے تو ہرکوئی بے تاب رہتے تھے کہ میں تعاون دیکر مولاناکی زبان سے دعاء لوں گو قاسمی صاحب سے دعاء لینے کی بھی بھیڑ ‌لگ جاتی تھی
مولانا میں تواضع وخاکساری اعلی درجہ کی پائی جاتی تھی
وہ کبھی بھی اپنے سے چھوٹوں کو چھوٹے سمجھتے ہی نہیں تھےبساچھوٹوں سے بھی حدیث کی کوئی عبارت پوچھ کرحل کرتے تھے‌مسئلہ مسائل میں استفسار میں قطعی جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے
بڑی اونچی خوبیوں کے‌مالک تھے قاسمی صاحب
مولانا نے اپنے پیچھے اپنی اہلیہ اور بیٹااحمد اللہ سمیت چار بیٹیوں کو چھوڑا ہے


آج مولانا کی تجہیزوتکفین عمل میں آئی اور بعد نماز ظہر ایک بجے جنازہ پڑھی گئی جنازہ کی نماز مولانا کے بھتیجے مولانا مصلح الدین صاحب نے پڑھائی جنازہ میں ایک بھاری مجمع حاضر تھا وہیں علاقہ کی کئی بڑی ہستیاں موجود تھیں خصوصی طور پر
شیخ عقیل اختر مکی صاحب سابق ایم ایل اے پاکوڑضلع پریشد شیخ حنظلہ صاحب شیخ عباس سلفی صاحب شیخ عطاء الرحمن فیضی صاحب شیخ اسلم حقانی صاحب ڈائرکٹر الفلاح ایجوکیشنل سوسائٹی بڑا سوناکوڑصاحب گنج الحاج ھاشیم اختر بیکرام پور مولوی سلطان ماسٹر فریق الدین صاحب جناب جمیل اخترمسٹر وقیع الرحمن بردارفقار الاسلام شیخ شمس الحق سلفی منشی ہمایون صاحب جناب اسحق صاحب جانکی نگر الحاج سکندر علی صاحب اوروزیردیہی ترقی و فلاح حکومت جھارکھنڈ عالمگیرعالم کے بیٹے تنویر عالم بھی حاضرتھے

Leave a Response