Dhanbad News

مدرسہ اہلسنت عالیہ قادریہ کا اقراء کانفرنس و جشن دستار بندی اختتام پذیر

ہر گھر میں علم کا چراغ روشن کرنا ضروری ہے :مفتی شہریار

اصلاح آپکے قول سے نہیں آپکے عمل سے ہوگی :مفتی رضوان

دھنباد : مورخہ 03 فروری 2024 بروز سنیچر شہر دھنباد میں واقع شمشیر نگر واسعپور دھنباد جھارکھند میں یکروزہ عظیم الشان اقراء کانفرنس وجشن دستار بندی کا پروگرام منعقد ہوا جسکی کی سرپرستی استاذ الشعراء حضرت مولانا الحاج عبدالرحمن فیضی صاحب قبلہ نے فرمائی اور صدارت مدرسہ ہذا کے پرنسپل حضرت مفتی رضوان احمد رضوی سعدی صاحب اور نظامت کی ذمداری رضا جامع مسجد شمشیرنگر دھنباد کے خطیب و امام حضرت حافظ و قاری عمران رضا ضیائی صاحب نے فرمائی اس موقع پر 15 حفاظ کرام کو حفظ کی دستار و اسناد سے نوازا گیا اس جلسہ میں پورنیہ بہار سے تشریف لائے مہمان خطیب مفکر اسلام ماہر سائنسیات خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی شھریار رضا خان صاحب کا خصوصی خطاب ہوا مفتی صاحب نے عظمت قرآن علم علماء مدارس و مساجد کا تحفظ ہمارے آج کے نوجوانوں میں دینی بیداری کیسے ہو اور اصلاح معاشرہ پہ خطاب فرمایا سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم ایک بے پایاں سمندر ہے اور درحقیقت حقائق الاشیاء کا نام ہے۔ انسان اور دیگر مخلوقات میں بنیادی فرق علم کا ہی ہے کہ ان میں یہ اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی معلومات اور علم میں اضافہ کریں۔ جبکہ انسان ذرائع کو استعمال کرکے اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے ۔علم ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو مہذب بناتا ہے اسے اچھے اور برے میں فرق سکھاتاہے۔علم اور معلومات میں وہی فرق ہے جو information اور knowledge میں ہے۔کوئی بھی مشہور عظیم شخص کب پیدا ہوا، کہاں پیدا ہوا، اس کی قوم نسل رنگ وغیرہ کیا ہے، اس کی ابتدائی زندگی کہاں گزری اس نے کہاں سے تعلیم حاصل کی۔ یہ سب باتیں اس کے بارے میں معلومات تو فراہم کرسکتی ہیں لیکن اس کی ذات و شخصیت اور اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں اس کی کامیابی کے بارے میں جاننے کے لئے علم کی مدد درکار ہوگی۔ اسی طرح کسی بھی شے مثلًا راکٹ کے بارے میں یہ معلوم ہونا کہ اس کی ایک مخصوص شکل و ہیئت ہوتی ہے اور وہ خلا میں جاتا ہے محض معلومات ہیں۔ راکٹ کن سائنسی اصولوں کے تحت بنایا جاتا ہے اور کیسے آسمان کی طرف پرواز کرتا ہے یہ علم سے ہی جانا جاسکتا ہے۔
مفتی صاحب نے علم کی کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک وہ علم ہے جسے علم لدنی اور علم وہبی بھی کہتے ہیں اور علم کسبی۔ علم لدنی یا وہبی ایسے علم کو کہتے ہیں جو بذریعہ وحی و الہام منجانب اللہ عطا ہو اور اس میں انسان کی کوشش کو ذرہّ برابر بھی دخل نہ ہو۔
دوسرا علم وہ ہے جس کی استعداد تمام انسانوں میں رکھ دی گئی ہے۔اسے دورِ جدید کی اصطلاح میں سائنسی علوم کہا جاتا ہے۔ ایسے علوم کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے۔
” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی اتارتا ہے۔ پھر ہم طرح طرح کے پھل اس سےپیدا کرتے ہیں جن کے رنگ الگ الگ ہیں اور پہاڑوں میں بعض سفید ٹکڑے ہیں اور بعض سرخ ہیں ان کے رنگ جدا جدا ہیں اور کالے سیاہ رنگوں والے بھی ہیں۔اور اسی طرح لوگوں میں نیز زمین پر چلنے پھرنے والے جانداروں میں اور چوپایوں میں سے ایسے ہیں کہ ہر ایک کے رنگ جدا جدا ہیں”
مدرسہ سے فارغ 15 حفاظ قرآن کے حوالے سے فرمایا کہ حافظ قرآن کا درجہ اور مقام و رتبہ اسلام کی نظر میں بہت ہی بلند ہے ۔ قرآن مجید کی تعلیم و تعلم میں مصروف رہنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اچھے اور پسندیدہ ہیں، چنانچہ ارشاد نبوی ہے کہ تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور دوسروں کو سکھائے

حافظ قرآن کا اللہ تعالی کے نزدیک بڑا مقام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں اور یہ مقام اور تقرب حفظ قرآن مجید کی برکت کی وجہ سے بے
اخیر میں مفتی صاحب نے کہا کہ معاشرے میں بہتری لائیے بڑا نازک اور پرفتن دور سے ہم اور آپ گزر رہے ہیں
جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ویسے ویسے معاشرے میں تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے تو دوسری جانب نوجوان نسل بگڑتی چلی جارہی ہے۔ اس خرابی اور بگاڑ کے ذمہ دار میڈیا سمیت میں اور آپ بھی ہیں۔ ہمارا پسندیدہ مشغلہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرائیں۔ معاشرے کے سدھار کے لیے ہم خود سے کوئی عملی اقدام نہیں کرتے۔ دوسروں کے حق میں ہم بہترین جج اور اپنے حق میں ہم بہترین وکیل ہیں۔ دوسروں پر ہم جھٹ سے کفر، شرپسند یا فسادی ہونے کا فیصلہ سنا دیتے ہیں اور اپنی ہر چھوٹی بڑی غلطی کی ہزاروں تاویلیں، دلائل پیش کرکے اپنا دفاع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
معاشرے کی اصلاح کے لیے واحد کام جو ہم کرتے ہیں وہ دوسروں کو نصیحت ہے۔ ہم ہر اچھے کام کی دوسروں کو نصیحت کرکے سمجھتے ہیں ہمارا فرض پورا ہوگیا۔ اسی نصیحت پر خود عمل پیرا ہونا بھول جاتے ہیں۔ عمل قول سے زیادہ تاثیر رکھتا ہے معاشرے کی اصلاح ہماری اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔ اصلاح آپ کے قول سے نہیں آپ کے عمل سے ہوگی لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں لوگوں کی توجہ اس بات پر زیادہ ہوتی ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔
سب سے پہلے خود میں بہتری لانے کی کوشش کیجیے۔ جب تک آپ خود بہتر نہیں ہوں گے آپ دوسروں کو بھی بہتر نہیں بنا سکتے۔ اگر ہم میں سے ہر شخص صرف اپنی ذات کو بہتر بنانے میں لگ جائے تو ہمارا سارا معاشرہ بہتر ہوجائے گا۔
یوپی سے آئے مہمان شاعر قاری محمد علی فیضی صاحب نے اپنی خوبصورت آواز سامعین کو جھومایا نقیب اہلسنت ادیب شہیر مولانا کفیل عنبر اشرفی صاحب نے اچھے اشعار کے ذریعے اپنا نقیبانہ تیور دکھایا نقیب اہلسنت جناب شہباز رہبر صاحب مداح رسول قاری عبدالمنان جمالی صاحب نے بھی نبی کی نعت پیش کی
اس کانفرنس کو کامیاب کرنے میں بالخصوص مدرسہ ھذا کے اساتذہ حضرت قاری جنید جامی قاری عمران رضا قادری مولانا کمال قادری ماسٹر رستم خان صاحبان تنظیم اہلسنت کے جنرل سکریٹری مولانا غلام سرور مصباحی صاحب اور مدرسہ کے سرپرست اعلیٰ جناب الحاج خورشید خان صاحب اور جنرل سیکریٹری جناب محمد علاءالدین رضوی صاحب جناب حسن امام خان جناب پھلزاد خان و جملہ اراکین و ممبران نوجوان ملت کمیٹی اور شمشیر نگر کے تمام نوجوانوں نے اہم رول ادا کیا
اس کے علاوہ ضلع دھنباد اور بیرون ضلع سے کثیر تعداد میں علماء مدارس ائمہ مساجد و اور عوام اہلسنت زینت جلسہ رہے بالخصوص حضرت مفتی علاءالدین فریدی صاحب مولانا یونس فیضی صاحب مولانا اسرار احمد برہانی صاحب حافظ و قاری عابد حسین صاحب برکاتی قاری غلام محی الدین اشرفی صاحب قاری شکیل ثقافی صاحب موجود رہے
اخیر بعد صلوٰۃ و سلام مفتی صاحب کی رقت انگیز دعاء پہ کانفرس کا اختتام ہوا

Leave a Response