Tuesday, May 21, 2024
Blog

اے خاک وطن اب تو وفاؤں کا صلہ دے

 

ازاد ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم اور مجاہد ازادی مولانا ابوالکلام ازاد نے ایک موقع پر کہا تھا کہ” اسلام کسی حال میں بھی جائز نہیں رکھتا کہ مسلمان ازادی کھوکر زندگی بسر کریں انہیں مر جانا چاہیے یا آزاد رہنا چاہیے تیسری راہ اسلام میں کوئی نہیں ہے”کیونکہ اسلام میں تو فرد و شخص کی غلامی ہی کو پسند نہیں کیا گیا چہ جائے کہ کسی ملک کسی برادری یا کسی طبقے کو ہی یرغمال و غلام بنا کر اس پر حکومت قائم کی جائے۔
ہمارا یہ ملک ہندوستان مختلف مذاہب کا گہوارہ ہے صدیوں سے یہاں ہندو اور مسلمان مل جل کر رہتے آئے ہیں مسلمانوں نے اس ملک پر تقریبا ہزار برس تک حکمرانی کی ہے یہ کبھی نہیں سنا گیا کہ مسلم بادشاہوں نے اقتدار کے نشے میں چور ہو کر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ان کے مذہبی ذاتی شخصی بنیادی یا اجتماعی حقوق سے محروم کیا ہو جیسا کہ موجودہ حکومت جمہوریت کے چاروں ستون عدلیہ مقننہ انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ پر قبضہ کرنے یا اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ اگر ان میں سے ایک ستون بھی کمزور پڑ جائے تو پوری عمارت کو گرنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے جمہوریت کے قیام اور اس کی بقا میں یہ چاروں ادارے اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور ہر کردار اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے دنیا میں جہاں بھی جمہوریت ہے وہاں یہ چاروں ادارے ماثر طریقے پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جہاں بھی ان میں سے کوئی ادارہ کمزور پڑتا ہے وہاں جمہوریت کمزور پر جاتی ہے بلکہ بعض اوقات تانا شاہی کی شکل اختیار کر لیتی ہے اج ہمارا ملک اسی راہ پر گامزن ہے اور اقلیتوں پر مظالم کے پہاڑ تورے جا رہے ہیں اور انہیں مذہبی شخصی اور بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی راہ پر گامزن ہوتی نظر ارہی ہے کبھی این ار سی کے نام پر کبھی حجاب اور طلاق کے نام پر کبھی یونیفارم سول کوڈ  کے نام پر کبھی کوئی اور بہانے بنا کر ان کے گھروں کو ان کے مکانات کو ان کے دکانوں کو بلڈوز کر کے بنیادی و مذہبی حقوق سے محروم کرتی نظر آرہی ہے خواہ وہ منی پور کے فسادات ہوں یا ہریانہ کے گروگرام اور نوح کے فسادات ہوں فسادی کھلے بندوں گھوم رہے ہیں اور مظلومین پر سرکار کی پشت پناہی میں ظلم کی انتہا ہو رہی ہے ۔
اس ملک کی ازادی کے لیے ہمارے اباؤ اجداد رہبران قوم و ملت علمائ کرام نے انگریزوں سے تقریبا دو سو برس تک جنگ لڑی ہے ازادی وطن کے حصول کے لیے انہوں نے اپنا لہو بہایا جانی و مالی قربانیاں پیش کیں اور یہ قربانیاں ایک دن دو دن نہیں ایک مہینہ دو مہینے یا ایک سال دو سال نہیں بلکہ دو صدیوں تک بہاتے رہے سن 1757 میں متحدہ بنگال کے نواب سراج الدولہ نے ازادی کا جو چراغ روشن کیا تھا وہ شہید ٹیپو سلطان کے والد محترم حیدر علی، فتح علی ٹیپو سلطان شہید، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، سید احمد شہید شاہ اسماعیل شہید رحمہم اللہ کے ذریعے قریہ قریہ بستی بستی ہوتے ہوئے سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجد مکی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی حافظ ضامین شہید شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی حضرت مولانا جعفر تھانیسری رحمہم اللہ وغیرہ ہم تک پہنچی ان حضرات کی قیادت میں لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا گولیاں کھائیں پھانسی پر لٹکے سالہا سال قید و بند و تنہائی کی صعوبتوں کو برداشت کیا غرض ملک کا چپہ چپہ ہمارے بزرگان دین کی شہادتوں کے خون سے لالہ زار ہیں کیونکہ اسلام حریت کا علمبردار ہے وہ استحصال کی ہر شکل میں مخالف ہے ۔
1857 کی ناکامی کے بعد اکابرین دیوبند نے ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی بقا کے لیے 1866 میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی اس ادارے کے قیام کا مقصد صرف پڑھنا پڑھانا نہیں تھا بلکہ ایسے رجال کار تیار کرنا تھا جو اسلام کے خلاف ہونے والے تمام فتنوں اور سازشوں کا مقابلہ کر سکے خدا گواہ ہے کہ دیوبند نے اپنے قیام کا مقصد پوری طرح حاصل کیا،اس سلسلے میں ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے بالخصوص جب کہ ان کی قربانیاں اس ملک کی ازادی کے سلسلے میں تاریخی اعتبار سے اتنی زیادہ ہے جن کا انکار ناممکن ہے ملک میں بسنے والے ہر طبقہ کے مقابلے میں بہت لمبی اور بہت زیادہ ہے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنی اس تاریخ کو شہر شہر گاؤں گاؤں خطہ خطہ دہراتے اور مسلمانوں پر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اباؤ اجداد اور بزرگوں کی تاریخ کو پڑھیں  جانیں اس لیے کہ جو قوم اپنے بزرگوں کی قربانیوں بھری تاریخ کو بھلا دیتی ہے وہ قوم اپنے مستقبل کے لیے کسی صحیح راستے کو بھی متعین نہیں کر سکتی ملک کی ازادی کی تاریخ بڑی لمبی ہے،اٹھارویں صدی میں مغلیہ سلطنت کے زوال سے انگریزوں کو  عروج ملا مگر انگریزوں کا پہلا جہاز 1601 میں دور جہانگری ہی میں آچکا تھا اس حساب سے ہندوستان جنت نشا سے انگریزوں کا انخلاء 1947 میں 346 سال بعد ہوا اس دوران ظلم و بربریت کی ایک طویل داستان لکھی گئی جس کا ہر صفحہ ہندوستانیوں کے خون سے لت پت ہے جذبۂ آزادی سے سرشار اور سر پہ کفن باندھ کر وطن عزیز اور اپنی تہذیب و ثقافت مذہب و ملت کی بقا کے لیے بے خطر آتش افرنگی میں کودنے والوں میں مسلمان صف اول میں تھے جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانی الگ کر دیں تو ہندوستان کبھی ازاد نہ ہوتا اور ہندوستان کی ازادی کے ساتھ زنا بالجبر سے بھی زیادہ ہے گھناؤنا فعل تصور کیا جائے گا،آزادی کا یہ سفر کوئی آسان نہیں تھا داستان حریت بڑی دلدوز ہے 1498 میں ایک عربی ملا کی مدد سے واسکو  ڈگامہ کی قیادت میں پرتگال کے ملاح پہلی مرتبہ بحری راستے سے ہندوستان پہنچے اور کلکتہ سے اپنی تجارتی سرگرمیوں کا اغاز کیا اور ایک عرصہ تک خوب منافع کمایا ان کی دیکھا دیکھی یورپ کے دوسرے ممالک مثلا ہالینڈ انگلستان والوں نے بھی ہندوستانی دولت لوٹنے کا پلان تیار کیا چنانچہ انگلستان کے 101 تاجروں نے 30 ہزار پاؤنڈ جمع کر کے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے ایک کمپنی بنائی اور 1601 میں ان کا پہلا جہاز  ہندوستان ایا جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کمپنی نے تجارت کی آڑ میں اپنی فوجی طاقتوں میں اضافہ کرنا شروع کیا یعنی مال کی جگہ ہتھیار اور ملازم کی جگہ  فوجیوں کی امد لیکن مرکز میں مغلیہ سلطنت اس قدر مضبوط تھی کہ انگریزوں کو خاطرخواہ کامیابی نہیں ملی 1707 میں شاہجہاں کے دوسرے لڑکے اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت کمزور ہونے لگی اٹھارویں صدی میں مغلیہ سلطنت کی عظمت کا سکہ کمزور ہوتے ہی طوائف الملوکی کا دور شروع ہوا عیار اور شاطر انگریزوں نے پورے ملک پر قبضہ کا پلان بنا لیا ہندوستانیوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کا منصوبہ طے کر لیا ،ایسے بھیانک حالات اور پرفتن ماحول میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے پوری جرات و بیباکی کے ساتھ فتوی جاری کیا کہ اب ہندوستان دارالحرب ہے یعنی اب ملک غلام ہو چکا لہذا بلا تفریق مذہب و ملت ہر ہندوستانی پر انگریزی تسلط کے خلاف جہاد فرض ہے ان کے فتووں کی روشنی میں علماء کھڑے ہوئے حضرت سید احمد شہید اور حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمہما اللہ  آگے بڑھے پورے ملک کا دورہ کر کے قوم کو جگایا اور ہر طرف آزادی کی آگ لگا دی اور 1831 کو بالاکوٹ کی پہاڑی پر لڑ کر جام شہادت نوش کیا دھیرے دھیرے پورے ملک میں انگریزوں کے خلاف ماحول بننے لگا انگریزوں کے ملازم کوئی ڈھکے چھپے نہ تھے چنانچہ میلکم لوٹین جج عدالت عالیہ مدراس و ممبر کونسل نے لندن سے اپنے ایک رسالہ میں ظلم و بربریت پر لکھا تھا”ہم نے ہندوستانیوں کی ذاتوں کو ذلیل کیا ان کے قانون وراثت کو منسوخ کیا شادی بیاہ کے قانون کو بدل دیا مذہبی رسم و رواج کی توہین کی عبادت خانوں کی جاگیریں ضبط کر لیں سرکاری کاغذات میں انہیں کافر لکھا امراء کی ریاستیں ضبط کر لیں لوٹ کھسوٹ سے ملک کو تباہ کیا انہیں تکلیف دے کر مال گزاری وصول کی سب سے اونچے خاندانوں کو برباد کر کے انہیں اوارہ گرد بنا دینے والے انتظامات کیے”(مسلمانوں کا روشن مستقبل صفحہ ١١٠)
1857 میں پھر دہلی کے 34 علماء نے جہاد کا فتوی دیا جس کی وجہ سے معرکہ کارزار پھر گرم ہو گیا دوسری طرف انگریزی فوجیں پورے ملک میں پھیل چکی تھیں اور ہندوستان سے مذہبی بیداری اور سرگرمی ختم کرنے کے لیے انگریزوں نے بے شمار عیسائی مبلغین پادری کو میدان میں اتار دیا تھا جسے انگریزی فوج کی پشت پناہی حاصل تھی جو جگہ جگہ تقریریں کرتے اور عیسائیت کا پرچار کرتے اسی دوران یہ خبر گشت کرنے لگی کہ انگریزی حکومت نے ہندو مسلم کا مذہب خراب کرنے اور دونوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لیے اٹے میں گائے وسور کی ہڈی کا برادہ ملا دیا ان واقعات نے ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں کے خلاف نفرت کی ایک آگ لگا دی ان کی ان مذہب مخالف پالیسیوں کی وجہ سے انگریزی فوج میں ملازم ہندو و مسلم سب نے زبردست احتجاج کیا کلکتہ سے یہ چنگاری اٹھی اور دھیرے دھیرے بارک پور انبالہ لکھنو میرٹھ مراد آباد اور سنبھل وغیرہ تک پہنچتے پہنچتے شعلہ بن گئی احتجاج کرنے والے سپاہیوں اور انقلابیوں  کے ساتھیوں کو پھانسی دے دی گئی اور جہاں جہاں احتجاج ہوا اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے سخت قوانین بنا دیے گئے احتجاجیوں کی بندوقیں چھین لی گئیں وردیاں پھاڑ دی گئیں۔ان حالات میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور ان کے رفقا نے اپنی خداداد بصیرت کے ذریعے یہ محسوس کیا کہ اگر اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی بقا عزیز ہے تو اسلامی علوم و فنون کی اشاعت کے لیے مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع کرنا ضروری ہے چنانچہ 15 محرم الحرام 1283 ہجری مطابق 30 مئی 1866 کو سرزمین دیوبند کی تاریخی چھتہ مسجد میں ایک مدرسہ عربیہ کی بنیاد ڈالی گئء جس کے پہلے استاد ملا محمود دیوبندی اور پہلے شاگرد محمود حسن دیوبندی تھے یہ وہی محمود حسن ہیں جو بعد میں شیخ الہند کہلائے اور جنہوں نے اپنے جذبہ حب الوطنی سے ہندوستان کی جہاد حریت کا ایک ناقابل فراموش باب رقم کیا افسوس ملک کے فرقہ وارانہ حالات نے ہندوستان کی ازادی کے لیے دارالعلوم دیوبند کے بزرگوں کی قربانیوں کو طاق نسیان پر رکھ دیا ہے اور آج مدارس عربیہ کے متعلقین کے علاوہ کوئی نہیں جانتا یہ ازادی جو ہمیں 15 اگست 1947 کو حاصل ہوئی تھی اس میں علمائے دیوبند کی بے مثال قربانیاں شامل ہیں موجودہ دور میں مسلمانوں کو حالات کے تناظر میں بہت زیادہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں ایمان جیسی دولت عطا فرمایا ہے حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس ملک میں اپنے سماجی معاشی معاشرتی تعلیمی اور رفاہی ہر میدان میں ا کر اپنا سکہ جمائیں اور نفرت کی اگ  محبت کے پانی سے بجھانے کی کوشش کریں۔
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ
سو بار سنوارا ہے ہم نے اس ملک کے گیسو برہم کو
یہ اہل جنوں بتلائیں گے کیا ہم نے دیا ہے عالم کو
گلستان کو جب خون کی ضرورت پری سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں یہ اہل چمن یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں
 ترتیب و پیشکش
مفتی محمد قمر عالم قاسمی خادم التدریس والافتاء مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی، قاضی شہر رانچی جھارکھنڈ سرکار ، خطیب حواری مسجد کربلا چوک رانچی

Leave a Response