Ranchi News

جشنِ جمہوریہ کا نیا انداز


الانصار مومن پنچایت، نظام نگر، ہند پیری، رانچی کی ایک متحرک و فعال رجسٹرڈ سوسائٹی ہے جو اپنے سماجی و فلاحی کاموں کی وجہ سے شہر رانچی میں اپنی ایک پہچان رکھتی۔ ہے، اس بار تنظیم نے کچھ الگ سوچ اور طریقے کے ساتھ جشن جمہوریہ منانے کا فیصلہ کیا آج کی تقریب میں تنظیم نے سیاسی رہنماؤں کو بلا نے کی سابقہ روایت کی تورتے ہوےء صرف سماجی کارکنان، اور علمائے کرام کو مدعو کیا نیز چھ مسجدوں کے ایمہء کرام کو شال ارھاکر اور گل پوشی کر کے ان کی عزت افزائی کی اور علماء سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا
جب ان سے پوچھا گیا کہ مختلف مسالک کے علماء کی عزت افزائی کے پیچھے آپ کا سوچ کیا ہے تو ان کا جواب حیران کر دینے والا تھا حالانکہ تنظیم کے عہدے داروں میں پی۔ ایچ۔ ڈی ہولڈر بھی ہیں بہر حال ان کا جواب تھا


١۔۔ ہم نےپرھا بھی ہے اور اپنے بروں سے سنا بھی ہےکہ اس ملک کی آزادی میں جتنی قربانی علمائے کرام نے دی ہے اتنی کسی نے نہیں دی ہے لیکن آج بدقسمتی سے لوگ چھوٹے، چھوٹے، سیاسی رہنما وں کو بلا کر انہیں سمانت تو کرتے ہیں لیکن وطن’ کے اصلی جاں نثاروں کے وارثین و جانشین علمائے کرام کو کوئی نہیں پوچھتا، اسی سوچ کے ساتھ ہم علماء کی عزت افزائی کی روایت کی بنیاد رکھی ہے جسے آگے بھی جاری رکھیں گے انشاء اللہ
٢۔۔ وقت و حالات کا تقاضہ ہے کہ علماء مسلک پر دین کو ترجیح دیتے ہوئے ملت کی صحیح رہنمائی کریں، اختلافی باتوں سے گریز کریں، اور مشترک ملی مسائل میں اتفاق و یکجہتی کا ثبوت پیش کریں’ تو ملت کے بہت سارے مسائل خود ہی حل ہو جاییں گے، اسی مقصد کے تحت ہم نے سبھی مکاتب فکر کے علماء کو ایک منچ پر جمع کیا تھااور آیندہ بھی کرتے رہیں گے انشاء اللہ
نو جوانوں، کے اس دور اندیشانہ سوچ سے کافی خوشی ہوئی، لیکن ساتھ ہی کافی سوچ میں بھی پر گیا کہ کیا علمائے کرام نوجوانوں کے ان احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جن کے دلوں میں آج بھی علماء کی قدر باقی ہے؟ کیا وہ مسلک کی بنیاد پر سی کروں سال سےایک دوسرے سے دست وگریباں ، ایک دوسرے سے نفرت و عداوت اور ملت کے شیرازہ کو پارہ، پارہ کرنے کی روش سے باز آ جاءیں گے اور فکری، استدلالی، اور دلوں میں اتر جانے والے ساءنتفک انداز تخاطب اختیار کر لیں گے۔اگر نہیں تو خطرہ ہے کہ آنے والی نسلوں سے ان کا رشتہ کہیں کمزور نہ ہو جائے اور اگر ایسا ہوا تو ذہنی و فکری ارتداد کا ایسا طوفان برپا ہو گا(جس کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے) جسے روک پانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا، بہر حال الانصار مومن پنچایت کے نوجوانوں کے سوچ اور کوشش کو بہت، بہت سلام
۔۔۔۔۔۔۔ ش۔ ا۔۔ م

Leave a Response