Ranchi Jharkhand News

گریڈیہ میں امارت جھارکھنڈ کے نام پر نیا تماشہ: مولانا شمشاد

ہندوستان کے ممتاز علماء، قائدین اور ملی اداروں کے سربراہ کی سخت تنبیہ کے باوجود مفتی نذرتوحید مظاہری اپنی فتنہ انگیزی سے باز نہیں آ رہے: مفتی وصی

رانچی: ریاست جھارکھنڈ کے علماء ودانشوراور متعدد علمی وسماجی شخصیات نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کو ہر جہت سے مضبوط ومستحکم بنائیں اور کسی فتنہ پرور کی فتنہ پروری کے ہر گز شکار نہ ہوں۔،کیونکہ امارت شرعیہ اسلامی فکر اورقانون شریعت کے مطابق شرعی ومذہبی زندگی گذارنے کا نام ہے۔ ،فکراسلامی کی تقسیم نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی کوئی اس کو توڑ سکتاہے ۔ مذکورہ باتیں حضرت مولانا شمشاد رحمانی نایب امیر شریعت بہار اڑیسہ جھارکھنڈ، حضرت مولانا مفتی ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ، حضرت مولانا مفتی قاضی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت بہار اڑیسہ جھارکھنڈ، حضرت مولانا مفتی محمد سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت بہار اڑیسہ جھارکھنڈ، حضرت مولانا مفتی محمد انور قاسمی قاضی شریعت رانچی نے مشترکہ طورپر کہی۔ وہ گریڈیہہ کھوری مہوا کے پروگرام ختم ہونے کے بعد رانچی امارت شرعیہ دفتر میں پریس کانفرس میں بول رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی چند دنوں قبل رانچی کے سرسا، مڑما میں چار فتنہ انگیزوں کے شہ پر مسلمانوں کی ملی وحدت کوکمزور کرنے کے لئے مولانا مفتی نذر توحید مظاہری کو امیر شریعت جھارکھنڈ ہونے کا اعلان کردیا۔ جسکو اسی مجلس میں لوگوں نے یکسر مسترد کردیا اور پرزور مذمت کی۔ ہندوستان کے ممتاز علماء،قائدین اور ملی اداروں کے سربراہوں نے مفتی نذر توحید مظاہری کو سخت تنبیہ کی کہ وہ ملی وحدت کو پارہ پارہ نہ ہونے دیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب،امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی صاحب، امیر شریعت آسام مولانا محمد یوسف علی صاحب،امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی،دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے ناظم مولانا بلال عبدالحئی حسنی ندوی،دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ عربی مولانا محمد نوشاد نوری صاحب اور ماہر فلکیات جناب مولانا محمد ثمر الدین قاسمی صاحب کے علاوہ ملک بھر کے متعدد مذہبی قائدین نے مولانامفتی نذر توحید مظاہری کو اپنی نازیبا حرکتوں سے رجوع کرنے اور توبہ کرنے کی بھی تلقین کی،اس کے باوجود انہوں نے ۳/جنوری کو گریڈیہہ سے چالیس کلو میٹرکے فاصلہ پر ایک چھوٹے سے گاؤں’’کھوری، مہوا‘‘ میںاپنے چند حواریوں کا اجتماع طلب کیا اور بزعم خود امارت جھارکھنڈ کے امیر شریعت بن بیٹھے جسے جھارکھنڈ کی عوام نے مسترد کردیا، علماء ، دانشوروں کا خیال ہے کہ چند اضلاع کے چند علماء مل کر یہ کام کس طرح کر سکتے ہیں؟ خصوصا اس شکل میں جس میں سنتھال پرگنہ کے مسلمان شریک نہیں ہوئے ، حالاں کہ اصل جھارکھنڈ سنتھال پرگنہ کا علاقہ ہی سمجھا جاتا ہے ۔ خود گریڈیہہ کے تمام سلیم الطبع سرکردہ حضرات نے بھی اس اجتماع کو پوری مضبوطی کے ساتھ بائکاٹ کر کے اپنے اوپر لگنے والے امت کو منتشر کرنے کے بد نما داغ سے بچالیا۔
اسلئے مسلمانان بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کسی سازش کے ہر گز شکار نہ ہوں اور اجتماعیت کو ہر حال میں برقرار رکھیں،علماء ودانشوران نے مسلمانوں سے یہ بھی کہاکہ چند لوگوں نے گریڈیہہ میں جواجتماع طلب کیا اس کو جھارکھنڈ کے ارباب حل وعقد،علماء، قضاۃ،ائمہ،دانشوران اور شرکاء حضرات نے یکسر مسترد کردیا انہوں نے جو خود ساختہ نظام میں بیت المال اور قیام دارالقضاء کی جو تجویز پاس کی ہے اس کی پرزورالفاظ میں مذمت بھی کی۔ ان لوگوں نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم سب امارت شرعیہ بہاراڈیشہ وجھارکھنڈ کی امارت میں متحد ومنظم زندگی گذارنے کا عہدوپیمان کرتے ہیں، علماء ودانشوروں نے کہا کہ امارت شرعیہ ،بہاراڈیشہ وجھارکھنڈ کے مسلمانوں کا مشترک ادارہ ہے جس کابنیادی مقصد عقیدہ کی وحدت پر مسلمانوں کی شرعی تنظیم ہے جس کی ہدایت کتاب وسنت میں دی گئی ہے اس کے نزدیک امت کا افتراق وانتشار ایک عظیم گناہ ہے ، امارت شرعیہ کلمہ طیبہ کی بنیادپر ملت کی شیرازہ بندی کرتی رہی ہے جس کو کچھ لوگ منتشر کرنا چاہتے ہیں ، ہم سب لوگ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں، بیدار رہیں اور امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے استحکام پر خصوصیت کے ساتھ توجہ دیں، امارت شرعیہ کے کاموں سے لوگوں کو متعارف کرائیں ، امارت شرعیہ کے پیغام کولوگوں تک مضبوطی سے پہونچائیں۔
انتشار کی ہر کوشش کو پوری قوت کے ساتھ مسترد کردیں اور اتحاد وہم آہنگی کے ساتھ متفقہ امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مد ظلہ کی سمع وطاعت کے ساتھ زندگی بسر کریں۔

Leave a Response