Ranchi News

مفتی نذر توحید صاحب مظاہری سے محبت کہیں مجلس علماء جھارکھنڈ کو ہی نہ لے ڈوبے؟۔ شریف احسن مظہری۔ آزاد تحریر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
مورخہ ١٦جنوری کو مفتی نذر توحید صاحب مظاہری کے ساتھ گفت وشنید کی نشست میں مجلس کی جانب سے جن دس افراد کا انتخاب کیا گیا تھا ان میں ایک نام اس ناچیز کا بھی تھا لیکن کچھ تو موسم کی شرارت اور کچھ نتائج سے کسی حد تک آگاہی کی وجہ سے شرکت نہ کر سکا لیکن شرکاء نشست میں سے کچھ لوگوں اور خود صدر محترم مجلس علماء کی زبانی جو باتیں معلوم ہویں اس سے یہی اندازہ ہوا کہ یہ نشست بھی قیام امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے وقت کھیلے گےء ڈرامے کا سکنڈ پارٹ تھی اس نشست کے دو واضح ایجنڈے تھے
١۔ مفتی نذر توحید صاحب مظاہری کی خواہش کے مطابق لفظ توثیق کے بجائے کسی اور طریقے سے مجلس علماء کو اپنی امارت تسلیم کرانا
٢۔ امارت شرعیہ جھارکھنڈ سے براءت کے باوجود مفتی نذر توحید صاحب مظاہری کی امارت میں شامل ہونے کے لیے ء بیقرار مجلس کے بعض کلیدی عہدہ داران کو چور دروازہ فراہم کرنا
اکثر علماء کے اصرار کے باوجود مفتی صاحب کا تحریری رجوع نامہ نہ دینا اور اس پر مجلس کے بعض ذمہ داران کی حمایت حاصل کر لینا مفتی صاحب کے مقصد میں بری کامیابی ہے۔
جب کہ مستر ریاض شریف صاحب نے بری چالاکی سے انتخاب کا ایک پر فریب فارمولہ پیش کرکے مجلس علماء کے بعض ذمہ داران کو ایک چور دروازہ بھی فراہم کر دیا جس کے ذریعے وہ امارت توحیدی میں بلا لومت لاءیم داخل ہو سکتے ہیں
رند کہ رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گیء
حالانکہ یہ بھی ایک خود فریبی ہے
مستر ت شریف کے فارمولے کے مطابق دو تین دنوں کے اندر مجلس علماء جھارکھنڈ کے پانچ ضلعی شاخوں کے علاوہ کم؛ از کم مزید پانچ اضلاع کی شاخیں قائم کر لی جانیں اس طرح کل دس ضلعی شاخوں کے ذمہ داران اور باقی ماندہ اضلاع سے دو، دو نمایندے لے کر مجلس شوریٰ تشکیل دی جائے ٢١ جنوری کو مجلس علماء صدر عالی مقام جناب مولانا صابر حسین مظاہری شوری کے ذریعے امیر شریعت جھارکھنڈ کے انتخاب کی تاریخ کا اعلان کر دیں، معلومات کے مطابق اس فارمولے پر جس تیزی سے کام چل رہا ہے وہ کافی حیرت انگیز ہے

بظاہر یہ فارمولا بہت خوبصورت ہے لیکن اس فارمولے پر قائم شوری میں کس کی پسند کے لوگ ہوں گے اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے
میرے ذاتی خیال میں یہ فارمولا 16دسمبرکے استیج ڈرامے کا second part ثابت ہو گا جو مجلس علماء کے رہے سہے وقار بلکہ اس کے وجود کے سامنے سوالیہ نشان کھرا کر دے گا اور آںا، فانا میں کسی خاص مقصد کے لیے ء قائم ضلعی شاخوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہ جائے گی
راقم الحروف نے اس قضیے ء کے تعلق سے دور و نزدیک کے متعدد علماء سے ان کی راےء جاننے کی کوشش کی اور جس نتیجے پر پہنچا اسے نذر قاریین کرتا ہوں
سوچ کے لحاظ سے اس وقت علماء ے جھارکھنڈ تین طبقوں میں بستے ہیں
١۔ ایک برا طبقہ اب بھی امارت شرعیہ پھلواری شریف کے ساتھ ہے اور کسی بھی تقسیم کو ملت کے لیے ء نہایت ہی بدنصیبی تصور کرتا ہے
٢۔ دوسری بڑی تعداد جو شاید پہلی سے بھی بری ہو شرعی اصول ضابطے کے ساتھ اور اکابرین امت کے مشورے سے امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے قیام کے حق میں ہے
٣، ایک چھوٹی سی تعداد مفتی نذر توحید صاحب مظاہری کے ذریعے قائم کردہ امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے ساتھ ہے، لیکن قراین سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی ڈور کچھہ مضبوط ہاتھوں میں ضرور ہے۔
میں طبقہء اول کے علماء سے بھی کچھ زیادہ اختلاف نہیں رکھتا لیکن، زمینی حقیقت یہی ہے کہ مجلس علماء میں شامل اور مجلس علماء سے باہر کے اکثر علماء شرعی اصول و ضابطے کے تحت امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے قیام کے حق میں ہیں وہ امارت شرعیہ پھلواری شریف سے مخالفانہ و مخاصمانہ روش بھی اختیار کرنا نہیں چاہتے بلکہ وہ اپنی لکیر خود کھینچنا چاہتے ہیں رہی بات اصول و ضابطے کی تو مجلس کے اصل موقف کے مطابق بھی
پہلے مرحلے میں مجلس کی قیادت میں جھارکھنڈ کے ٢٤اضلاع کو آتھ دس زون میں تقسیم کیا جائے پھر دو دو چار چار اضلاع پر مشتمل اجلاس منعقد کے جاءیں اجلاس میں امارت شرعیہ جھارکھنڈ کا قیام ہاں اور نہیں پر referendum لیا جائے، اگر اکثریت کی راےء “ہاں” پر آتی ہے تو مجلس شوریٰ تشکیل دی جائے،۔ مجلس شوریٰ کے ذریعے شرعی اصول ضوابط کی پاسداری کے ساتھ امارت کا قیام اور امیر کا؛انتخاب عمل میں لایا جائے۔
اور اگر اکثریت کی راےء “نا” پر آتی ہے تو مجلس علماء کا ایک وفد امارت شرعیہ پھلواری شریف کے ذمہ داران سے مل کر جھارکھنڈ کے لوگوں کے احساسات اور شکایات سے انہیں آگاہ کرے نییز عہدہ و مناصب میں مناسب نمائندگی کے لےء time bound معاہدہ کرے اگر مدت معینہ تک شکایتیں دور ہو جاتی ہیں تو فبہا ورنہ مجلس امارت شرعیہ جھارکھنڈ کے قیام کے لےء آزاد ہو گی اوراس صورت میں جو علماء ابھی امارت شرعیہ پھلواری شریف کے ساتھ ہیں وہ بھی مجلس کے ساتھ آ جاءیں گے
اگر اس طریقے سے مجلس اپنی ذمداری کو نبھاتی ہے تو اس میں کچھ وقت تو لگ سکتا ہے لیکن مسلے کا سب سے پایدار حل یہی ہوگا اور بلا شبہ مجلس علماء جھارکھنڈ ریاست کی ایک نمائندہ تنظیم بن کر سامنے اے گی اور بانءین مجلس ہمارے بزرگوں کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو جائے گا انشاء اللہ
لیکن اگر مجلس کے کچھ ذمہ داران کی موجودہ روش کبھی اصل متنگ سے پہلے چھوٹی متنگ پھر اصل متنگ میں پاس شدہ تجویز کے عین خلاف بیان، کبھی کسی چیز سے براءت کا اظہار پھر اسی کی تائید کے لےء بہانے کی تلاش کبھی سبق سکھانے کی باتیں پھر پیچھے سے انداز محبوبانہ نہیں بدلی تو یاد رکھے یہ روش مفتی نذر توحید صاحب مظاہری کو فائدہ پہنچا سکے یا نہیں لیکن مجلس علماء کو ضرور لے ڈوبے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شریف احسن مظہری
19/1/2024

Leave a Response