Friday, April 19, 2024
Jharkhand News

مدرسہ ارشدالعلوم چھتر بر میں بہ عنوان مناظر اسلام حضرت مولانا طاہر حسین گیاوی رحمہ اللہ، حیات و خدمات اور ماہ محرم الحرام فضائل، اعمال، بدعات اور غلط فہمیاں ” رکھا گیا

 

 مدرسہ ارشدالعلوم چھتر بر کوڈرما میں نوجوانان کمیٹی چھتر بر کی طرف سے ایک شاندار اجلاس عام کا انعقاد بہ عنوان مناظر اسلام جناب حضرت مولانا طاہر حسین گیاوی رحمہ اللہ، حیات و خدمات اور ماہ محرم الحرام فضائل، اعمال، بدعات اور غلط فہمیاں ” رکھا گیا، جس کی صدارت حضرت مولانا محمد منیرالدین صاحب قاسمی لچھنڈیہہ نے کی، اور مندرجہ ذیل علمائے کرام وشعراء عظام نے شرکت کی ۔
حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری کلکتہ ، مولانا محمد اکرم صاحب قاسمی، مولانا زاہد حسن  الحسامی، مولانا اصدق صاحب قاسمی، مولانا الطاف صاحب نعمانی ، مولانا شہاب الدین قاسمی، قاری ضیاء اللہ صاحب، شاعر ہندوستان جناب شعبان دل خیرآبادی، عزیز پرتاپگڑھی کے علاوہ قرب وجوار  سے کثیر تعداد میں علمائے کرام ائمہ مساجد اور ذمہ داران مدارس نے شرکت کی ، جبکہ نظامت کے فرائض مفتی منیرالدین قاسمی صاحب نے بہ حسن و خوبی  انجام دیا ۔حضرت مولانا سید طاہر حسین گیاوی نور اللہ مرقدہ کی دینی خدمات و حیات  اور ماہ محرم الحرام کے فضائل و اعمال، غلط فہمیاں اور  دیگر بدعات و خرافات کےموضوعات پر  علمائے کرام نے زبردست علمی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ علماء کرام امت مسلمہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ جب علماء دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو لوگ علم کی روشنی سے محروم ہو جاتے ہیں، علماء کی موت لوگوں کے لیے مصیبت ہے کیونکہ علماء کے بغیر لوگ بہت سے اسلامی مسائل حل نہیں کر سکتے۔ اور  دوسری بہت  چیزیں ایسی ہیں جو علماء کے بغیر انجام نہیں دیے جا سکتے، جیسے مسائل نماز جنازہ،مسائل زکوٰۃ، مسائل صوم اور دیگر  شرعی مسائل جن کو  اس مضمون میں  سمیٹنا ممکن نہیں، لہذا  موت العالم موت العالم “عالم کی وفات  عالم کی وفات ہے-
مناظر اسلام حضرت مولانا سید طاہر حسین گیاوی نوراللہ مرقدہ ان علماء میں سے ہیں جن پر یہ مقولہ صادق ا ہے” موت العالم موت العالم “عالِم کی وفات  عالَم کی وفات ہے- حضرت والا ایک ایسے جید عالم اور مناظر تھے کہ ان کے بغیر امت مسلمہ علم کی روشنی سے محروم ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کی وفات سے  پوری دنیا وفات پا گئی کیونکہ ایسے جید عالم صدیوں میں جنم لیتا ہے اور امت مسلمہ کو ایسے مؤقر عالم کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔
مولانا اصدق صاحب قاسمی نے  محرم الحرام کے بدعات و خرافات پر روشنی ڈالی، اور کہا کہ ماتم کرنا، تعزیہ بنانا، ڈھول تاشہ کا تماشہ کرنا یہ سب ناجائز اور حرام ہیں بلکہ بعض اعمال شرک کہ ہیں لہذا تمام مسلمانوں کو ان بدعات و خرافات سے بچنا چاہیے. ۔ حضرت مولانا زاہد الحسامی صاحب نے اپنے بیان میں کربلا کا واقعہ اور شہادت حسین رضی اللہ عنہ کی تاریخ اور اس کے پس منظر سے عوام اور نوجوانوں کو روشناس کرایا اور فرمایا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ظلم و نا انصافی کے خلاف، اسلامی نظام عدل کو قائم کرنے کے لیے اپنی اور اپنی گھرانے کی جو بے لوث قربانی پیش کی ہے، تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال پیش نہیں کی آسکتی،اجلاس کے مقرر خصوصی جناب مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ آج ہمارے علمائے کرنا عقیدہ پر بات کرنا چھوڑ دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ باطل نظریات اور غلط رسومات و بدعات عوام میں پھل اور پھول رہے ہیں، ہمارے علما کو اس پر توجہ دینی چاہیے ۔ مولانا محمد الطاف صاحب نعمانی نے بھی اپنی مفید باتوں سے نوازا، اخیر میں حضرت مولانا محمد اکرم صاحب قاسمی صدر جمعیت علماء گریڈیہہ و ناظم اعلیٰ جامعہ حسان بن ثابت چینو نے مناظر اسلام حضرت مولانا محمد طاہر حسین گیاوی رحمہ اللہ کی حیات و خدمات پر مکمل روشنی ڈالی ۔ اجلاس کی صدارت فرما رہے حضرت مولانا محمد منیرالدین صاحب قاسمی لچھنڈیہہ دعا فرمائی اور یہ اجلاس بہ حسن و خوبی اختتام کو پہنچا ۔
 *مولانا شہاب الدین قاسمی کوڈرما*

Leave a Response