Tuesday, June 18, 2024
Hazaribag News

حکومت ہمارے مطالبات کوجلدپورا کرے نہیں تو پٹنہ اوررانچی کی بندہوں گی سانسیں : مولاناغلام رسول بلیاوی

نکاح کوسستاکریں،بارات کےلئے 50/نمازیوں کاانتخاب کریں: مفتی شمس الدین

مسلمان اپنے حق کی بازیابی کے لئے میدان سے جیل تک بھرنے کوہیں تیار: مولاناقطب الدین رضوی

اقتدار میں حصہ داری چاہئے تو علم کی راہیں ہموار کریں : مولانانعمان فائق

دنیاہمیشہ بہادروں کی تاریخ پڑھتی ہے بزدلوں کی ہرگز نہیں : مفتی حسین ثقافی

ضلع ہزاریباغ کےضلع اسکول میدان میں ادارہ شرعیہ تحریک بیداری کانفرنس کاہوا،500/سے زائدعلماء نے کی شرکت،تقریباایک لاکھ کےجم غفیرسے ہوا بلیاوی کاانقلابی خطاب،217/پنچایت ملاکرحق پنچایت کی ہوئ تشکیل

ضلع ہزاریباغ(14/نومبر 2023)

مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ الہند کی جانب سے چارصوبوں (بہار،جھارکھنڈ،بنگال واڑیسہ)میں چلنے والی ادارہ شرعیہ تحریک بیداری واصلاح معاشرہ کانفرنس کاانعقاد اب تک 20 اضلاع میں ہوچکاہے۔گزشتہ ایک سال سے یہ تحریک جاری ہے،عوام وخواص نے تن من دھن کے ساتھ تحریک بیداری کاخوب استقبال کیااور اس کی کامیابی کے لئے قابل تحسین کارنامہ انجام دیا۔ضلعی سطح سے تیاری کمیٹی بنائی گئ اور پھر ضلع کے بلاک وگرام لیبل تک ممبرسازی کی گئ ہے اور گھرگھر تک اس تحریک کی دعوت کوپہونچانے کاکام جاری ہے۔قائدتحریک،قومی صدر،سابق ممبرآف پارلیمنٹ حضرت علامہ غلام رسول بلیاوی کی قیادت وصدارت میں علماء،شعرا و دانشوران کاایک بڑا قافلہ ضلع ہزاریباغ کے ضلع اسکول میں پہونچایہاں کے باشندوں نےتحریک کاخوب استقبال کیا۔اور تحریک کےایجنڈوں پراپنی حمایت وتائیددیتے ہوئے نسلوں کے تحفظ کے لئے قائدتحریک کے ایک آواز پرلبیک اورکہیں بھی حاضرہونےکاعہدکیا۔تمام علماء وشعرانے عنوانات سے متعلق اپنی بات انقلابی اندازمیں پیش کیا۔مہمان خصوصی،قائدتحریک،قومی صدر،غازی ملت حضرت علامہ غلام رسول بلیاوی نے ملک وسماج میں بڑھتے ہوئے خرافات کے سدباب کے حوالہ سے کہاکہ میں مؤذن کی طرح باربارآوازدوں گاکوئ سنے یانہ سنے،نسلوں کے مستقبل کاسوداہونے نہیں دیں گے یہ کارواں نکل چکاہے ہم اپنے مطالبات کوپوراہونےتک تحریک جاری رکھیں گے۔اوراگراادرہ شرعیہ تحریک بیداری کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تورانچی اورپٹنہ کی سانسیں بندکردیں گے۔
مولانابلیاوی نےاپنی قوم کے غیورافرادکوجھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ
میری قوم کےلوگوں نے جب سے اپنی ہی قوم کوجھٹکادینے لگی ہے توپھرحکومت بھی انہیں جھٹکادیناشروع کردی ہے ووٹ اور تعلیم کی طاقت سے میری قوم واقف نہیں، چندٹکوں میں ووٹ بیچنے والے قوم کے بچوں کامستقبل بیچ دیتے ہیں یہ نسلوں کے ساتھ ایک دھوکہ ہے اس دھوکہ میں اس قوم کوہر جگہ دھوکہ دیاگیااقلیتی اسکول،کالج،ہاسٹل کاقیام نہیں ہوا۔520کیبنٹ مدارس کوامدادی نہیں کیاگیا،ہمارے بچوں کوجاہل بنانے کاپلان تیارہےیادرکھیں جہالت موت ہے ذلت ہے۔مزیدکہاکہ اس ملک میں جانوروں کے تحفظ میں کام کرتاہے جھارکھنڈمیں 64/مآب لینچنگ کے کامعاملہ آیاقانون کام کرنے سے قاصرہے۔میرےرسول کی عزت پر پتھرماراگیا،مسجدسےچندبچے نکلے تھے اپنے نبی کی ناموس کے لئےتوحفاظت کی گارنٹی دینے والی وردی نے کہاکہ تم بھاگ جاؤ،جب بچے نکلے توان پرگولیاں برسادی گئیں اورچارہزار مسلمانوں پرمقدمہ دائرکردیاگیا۔بلیاوی نےمرکزی حکومت سے لےکرصوبائ حکومت کی سرکاروں سے کہاکہ تحفظ ناموس رسالت اور مسلم سیفٹی ایکٹ بنادو تاکہ اس ملک میں امن وامان قائم رہے۔صدرادارہ نے زبان اردوکے حوالہ سے کہاکہ آج اردو کے ساتھ ناانصافی کس قدرہورہی ہے یہ بتانے کی چیزنہیں محسوس کرنے کی بات ہے یہ اردوہی ہے جس نے ملک ہندکی آزادی میں اہم رول ادا کیااور ہر براردران وطن کے سینے میں انقلاب بھردیاتھا آج اردو کی تعلیمی شرح گھٹ رہی ہے اردو کافقدان ہورہاہے اردوسیٹیں ختم ہورہی ہیں ضرورت ہے ہم اپنے لسانی اثاثہ کوسنبھالیں۔
مولانابلیاوی نے اپنے خصوصی انداز میں کہاکہ ہم اپنے معاشرہ کے غیور افراد سے گزارش کرتے ہیں اپنے سماج کو شراب،نوشی،جوا،سٹہ،مطالبہ جہیزجیسے خطرناک وائرس سے بچاؤ۔ورنہ پورا سماج بکھرجائے گا۔مسلم کے نام پرجوخصوصتیں موجود ہیں اسے اپنائیں۔آخرمیں کہاکہ مسلمان غریب توضرور ہے لیکن بے ضمیرنہیں ہے۔سماج جس دن اس تحریک کواپنے گاؤں کے ہرایک دروازے تک پہونچادے گاتو پھروہ دن دور نہیں کہ جس عزم وحوصلہ کے ساتھ ہم نکلیں ہیں وہ انقلاب تامہ کاانتظارکرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
خلیفہ حضور مفتی اعظم،حضرت مفتی شمس الدین بہرائچ شریف نے اپنے اصلاحی بیان میں کہاکہ میری قوم ہر 20/فردپراپناایک رہنمابنائیں،رہنماپھول پرچلائے توپھول پر،کانٹاپرچلے توکانٹاپرچلیں۔انہوں نےمزیدکہاکہ مطالبہ جہیزنہ کے کے بیٹیوں کاوقار بلندرکھیں،نکاح کوسستاکریں،بارات جانے کے لئے زیادہ سےزیادہ پچاس نمازی کاانتخاب کریں اور خاتون جائیں تونقاب پہننے والی خاتون کولے جائیں۔
ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کےناظم اعلی حضرت علامہ قطب الدین رضوی نے کہاکہ ادارہ شرعیہ تحریک بیداری ایک مشن ہے یہ اس وقت تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی جب تک کہ ہمارے ایجنڈوں کی تکمیل نہ ہوجائے۔انہوں نے کہاکہ ملک ہندکی آئین ومنشور میں ہرقوم کے تحفظات ومذہبی،لسانی،اقتصادی،تعلیمی،سیاسی آزادی موجود ہے باوجوداس کے ملک میں سوتیلاپن تصور سمجھ سے باہرہے ادارہ شرعیہ تحریک بیداری پورے عزم سے اعلان کرتاہے کہ آئین میں ملی ہوئ آزادی کوبرقرار رکھتے ہوئے برسران اقتدار قوم مسلم کوجھٹکادینابندکریں۔
انہوں نے کہاکہ علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ نے اس تحریک کوجاری رکھ کراپنے دورمیں جو کارنامہ انجام دیاتھاوہ یہ کہ ملک کانقشہ بدل گیاتھا۔آج بھی اگرہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو پوری ریاست کے افراد راجدھانی میں اترکر سیاست کانقشہ بدل دیں گے۔انہوں نے اپنی قوم کے افراد سے کہااس تحریک کاحصہ بن جائیں اور اپنی نقل وحرکت کوقائم رہیں۔بہت جلدہی ہمارے تعلیمی،سیاسی،اقتصادی انقلاب آئے گااور جوہم اپنی نسلوں کے تحفظات کاخواب سجائے رکھیں ہیں اس کامنظرنامہ آنے والے مستقل قریب میں ہی مشاہدہ بھی کریں گے اور محسوس بھی کریں گے۔آخرمیں زبردست اندازمیں انہوں نے قرار داد پیش کیا۔اورکہاکہ سرکاریں کان کھول کرسن لیں ! اگرہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو اس وقت مسلمان اپنے حق کی بازیابی کے لئے میدان سےلے کر جیل تک بھرنے کوتیارہیں۔
ہندوستان کے بڑے خطیب مولانانعمان اخترفائق الجمالی نےکہاکہ ہم 2023میں ضرورہیں لیکن تحریک بیداری کی آواز 1923/کی ہے۔انہوں نے کہاکہ علامہ نے ہمیں آزادی کاجنون بھی دیاہے اورہتھیاربھی دیاہے۔ووٹ دینے میں زبان رہے نہ رہے دماغ ضروررہناچاہئے۔سیاست میں حصہ داری حاصل کرناہے توعلم حاصل کریں۔
شہرکلکتہ سے آئےحضرت قاری نثارعالم نے اپنےبصیرت افروزخطاب میں کہاکہ اب سنبھل جائیے بیٹوں کوبیچنے سے بازآئیے،اولادوں کورسواکرنابندکیجئے،فضول خرچی سے بچئے بچائیے۔انہوں نے زوردیتے ہوئے کہاکہ نوجوان نسلوں میں نشہ کارواج عام ہوتاچلاجارہاہے،جونشہ کاعادی ہوتاہے اس کامسقبل کالا ہوجاتاہے ہے اس کے حصہ میں کچھ نہیں آتاہے۔لہذا منشیات سے معاشرہ کوبچائیے۔
ادارہ شرعیہ پٹنہ الہند کے نائب قاضی شریعت مفتی غلام حسین ثقافی ہزاریباغ نے تحریک جس مشن کے لئے نکلی ہے ان سرگرمیوں پرنہایت ہی جامع گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ قوم کاایک فردجب سوتاہے تواسے ہم پانی کے چندقطرے چھڑک کربیدار کرلیتے ہیں مگر جب پورا معاشرہ سوجاتاہے تو اسے اٹھانے کے لئے پانی نہیں بلکہ خون چھڑکنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ثقافی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہاکہ تاریخ ہردورمیں بنتی ہے مورخ کانٹابچھانے والوں کی بھی تاریخ لکھتاہے اور پھول بچھانے والوں کی بھی تاریخ لکھتاہے عقلمندوہی ہے جواپنانام پھول برسانے والوں میں درج کراتاہوا دنیاسے چلاجاتاہے۔چندلوگ اکٹھاہوں تو جماعت بنتی ہے لیکن جب پورا معاشرہ اکٹھاہوتاہے تب تحریک بنتی ہے۔ضرورت ہے پورے سماج کواس تحریک سے جوڑدیں.مفتی حسین ثقافی نے انقلابی انداز میں قومی حساس کوجگاتے ہوئے کہاکہ دنیابزدلوں کی تاریخ کبھی نہیں پڑھتی ہے ہمیشہ بہادروں کی تاریخ پڑھتی ہےتحریک آپ کواندر سے بہادر بنانے کےلئے چلی ہے۔تاریخ میں ہمیشہ دو رنگ کویادرکھتی ہے ایک سفیداور دوسرا لال رنگ، تاریخ کے پنوں میں انہیں مجاہدین کانام سرخیوں میں ہے جنہوں بوقت ضرورت سرپرکفن بھی باندھاہے اور ضرورت پر اپنے لہوسے لالہ زار بھی کیاہے۔
ادارہ شرعیہ ضلع ہزاریباغ کے قاضی مفتی عبدالجلیل سعدی نے اپنے دانشمندانہ بیان میں کہاکہ جوقوم اپنی زبان بھول جاتی ہے اس قوم کی تہذیب خود مٹ جاتی ہے۔لسانی شناخت زندہ قوم کی پہنچان ہوتی ہے اردوکی بازیابی کے لئے ادارہ شرعیہ تحریک ایک مضبوط آوازہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس کانفرنس کے انعقادمیں ضلع ہزاریباغ کے تمام بلاکوں کادورہ کیاوہاں تحریک بیداری کی دھمک محسوس ہوئ برکھٹاکے ایک علاقہ میں 31شادیاں ہوئ جس میں 30/شادیاں بغیرجہیزکی ہوئیں۔یہ تحریک کاہی اثرہے۔اوراب اس کانفرنس کے بعدمزیدذمہ داریاں بڑھ گئیں ہیں ان شاءاللہ مرحلہ واران ذمہ داریوں کوتقسیم کرکے وارلیبل پر کام کیاجائےگا۔
ادارہ شرعیہ تحریک بیداری کے صدرحضرت پیرطریقت سیدشاہ علامہ کامران حسیب نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں لاکھوں کی تعداد میں آئے شرکاکانفرنس کااستقبال کیااور تقریبا500/علما،ائمہ کاشکریہ ادا کیااور کہاکہ اس تحریک کی ہم لوگ ایک مستند،جامع اورمضبوط آوازہیں۔ادارہ شرعیہ تحریک بیداری کورکمیٹی کے سکریٹری مولانااقبال دانش نےکہاکہ جواپنے لئےجیتاہے وہ ختم ہوجاتاہے جوقوم کے لئے جیتاہے وہ ہمیشہ زندہ رہتاہے۔ کہاکہ ہم سب علامہ بلیاوی کے مشن کے ساتھ قائم ہیں اورساتھ رہیں گے۔ضلع غازی پورقاضی حضرت مفتی محب رضافیضی نے اپنے جاذبیت بھرے کلمات میں کہاکہ جہیزلے کر بھیک منگوں میں اپنانام پیدامت کیجئے قوم کی بیٹیوں کے باپ سے فریج،کولر،مشین،گاڑی مانگنابندکریں۔اورمانگناہوتو کہے کون دیتاہے دینے کامنہ چاہئے دینے والاہے سچاہمارانبی۔تحریک کے انقلابی شاعرجناب جناب دلکش رانچوی، جناب حبیب اللہ فیضی،قاری ظفرعقیل،جناب توقیررضاالہ آبادی،قاری ارشداقبال اورمولاناسبیل رضانے تحریک کے حوالہ سے شاندار کلام پیش کیا۔کانفرنس کاآغازقاری محمودعالم منڈئ نے تلاوت قرآن سے کیا،اختتام سلام ودعاپرہوا۔اس کانفرنس پورے ضلع کے علماء نے اہم کارنامہ انجام دیاجس کی تفصیل عنقریب آئے گی۔
کانفرنس میں تحریک کی مکمل منیجنگ میں جناب کاجوصاحب،جناب صابرصاحب،جناب شکیل صاحب،جناب راجوصاحب،جناب فیصل خان،جناب صابرمسراتو،جناب خورشید عرف منا،جناب غلام مصطفی،جناب عرفان،جناب صدام،جناب اعظم،جناب احتشام وغیرہ نے اہم رول اداکیا۔

Leave a Response