Monday, June 17, 2024
Jharkhand News

انجمن فروغ اردو کے زیر اہتمام توصیفی تقریب برائے اردو طلباء کا انعقاد

بالوماتھ میں بچوں کو اعزاز سے نوازا گیا
بالوماتھ/رانچی:9 جون 2024 کو انجمن فروغ اردو (جھارکھنڈ) لاتے ہار ضلع کی جانب سے بالوماتھ بلاک میں ایک توصیفی تقریب برائے اردو طلبا کا انعقاد کیا۔اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ میں وہ طلبا جنھوں نے اردو سبجیکٹ میں نمایاں نمبرات حاصل کیا،انھیں انعامات سے نوازا گیا۔یہ پروگرام ڈاکٹر مولانا اقبال نیر قاسمی کی یاد میں منعقد کیا‌ گیا تھا۔اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ حضرت اقبال نیر قاسمی کو یاد کیا گیا۔


پروگرام کا آغاز حافظ محمد فیضان عارف کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد محمد راغب اختر نے نعت پاک پیش کرکے پروگرام کے ماحول کو خوش گوار بنادیا۔اس کے بعد مولانا عبد الواجد چترویدی نے کلیدی خطبہ پیش کیا جس میں انھوں نے پروگرام کے حوالے چند باتیں کیں ساتھ ہی انھوں نے ڈاکٹر مولانا اقبال نیر قاسمی کی شخصیت کے چند پہلو پر بھی روشنی ڈالی۔اس کے بعد انجمن فروغ اردو کے خازن محمد دانش ایاز نے انجمن کے اغراض ومقاصد پر مفصل بات کی۔اس‌ کے بعد انجمن فروغ اردو کے نمائندگان کو ذمے داری دی گئی۔مولانا محمد شاہد نواز کو ضلع لاتے ہار کا انچارج اور مولانا عبدالواجد چترویدی کو ضلع کوآرڈی نیٹر نامزد کیا گیا۔ضلع میں نو بلاک ہیں جس میں بالوماتھ کا انچارج حافظ محمد الفاتح کو اور حافظ محمد سالم کو کوآرڈی نیٹر بنایا گیا۔اسی طرح ہیر ہنج بلاک کا انچارج حافظ محمد سہیل اور مولانا محمد وسیم اکرم ندوی کو بالترتیب انچارج اور کو آرڈی نیٹر نامزد کیا گیا۔چندوا کا انچارج محمد معراج فردوسی کو بنایا گیا۔باری یاتو بلاک کی ذمے داری محمد شہنشاہ کو دی گئی۔


سلطان پور کے ایک اہم شاعر غفران اللہ قمر سلطان پوری نے ایک غزل پڑھی اور محفل کا سماں باندھ دیا۔
اس کے بعد ڈاکٹر شگفتہ بانو نے اردو کے حوالے سے نہایت اہم باتیں کہیں۔انھوں نے اپنے تاثرات کو طلبا سے شیئر کیا۔انھوں نے کہا کہ اردو کو فروغ دینا ہمارا اولین فریضہ ہے،یہ بہت پیاری زبان ہے۔اس‌ کے بعد ماسٹر محمد ارشد شہنواز نے اردو کے حوالے سے اپنی باتیں کہیں۔وہ ہندی زبان و ادب کے استاد ہیں لکین ان کی اردو کی محبت نے انہیں اردو سیکھنے پر مجبور کیا۔

وہ اردو کو ہندستان کی اہم زبان تصور کرتے ہیں۔اس‌ کے بعد ماسٹر محمد عرفان نے اردو کے حوالے سے دلچسپ باتیں کہیں۔انھوں نے کہا کہ اردو ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب کا نام بھی ہے۔اسی لیے بچوں کو چاہیے کہ وہ اردو ضرور پڑھیں کیوں کہ زبان ہی سے اپنی شناخت بنتی ہے۔اس‌ کے بعد مہمان خصوصی جناب محمد مزمل حسین کو محمد غالب نشتر نے مومنٹو دے کر استقبال کیا۔اس کے بعد انجمن فروغ اردو کے صدر جناب محمد اقبال نے بچوں کی حوصلہ افزائی کی

اور اردو سے محبت کی باتیں کیں۔جناب محمد مزمل حسین صاحب نے صدارتی خطبہ دیا اور انھوں نے پروگرام میں تشریف لائے بچوں کو اس بات کا یقین دلایا کہ اب بچے پیسے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم ادھوری نہیں چھوڑیں گے۔ضلع لاتے ہار کے انچارج مولانا شاہد نواز نے دور دراز سے تشریف لائے بچوں اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا گیا ۔جلسے کی نظامت ڈاکٹر محمد مرشد نے کی۔پروگرام میں شریک ہونے والے بیرونی مہمانوں میں رازدہ خانم،ڈاکٹر محمد مکمل حسین،اورنگ زیب خان،دانش ایاز،محمد سالم وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

Leave a Response