All India NewsBlog

نئی دہلی۔۔۔گزشتہ شب بھارتیہ صوفی فاؤنڈیشن اور غزل اکیڈمی کے مشترکہ زیرِ اہتمام بعنوان”جشنِ ترقی یافتہ بھارت” کل ہند مشاعرہ و سیمینار،حکیم عبدالحمید آڈیٹوریم،دہلی میں ممنعقد کیا گیا۔

Share the post

مہمان خصوصی محترمہ ایس. منوری بیگم،نائب صدر، قومی اقلیتی کمیشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا”ترقی یافتہ بھارت کا عزم آج ہر طبقے اور ہر مذہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیرِ اعظم کی قیادت میں اقلیتی سماج کو تعلیم، روزگار اور تحفظ میں برابر کا موقع مل رہا ہے۔ یہ ترقی یافتہ بھارت صرف معیشت نہیں، بلکہ سماجی انصاف اور ہم آہنگی کی بھی علامت ہے۔ ہم سب مل کر اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کریں گے۔سیمینار کے صدر ڈاکٹر ایم. افشار عالم،سابق وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد نے اپنی صدارتی تقریر میں خطاب کرتے ہوئے کہا “ترقی یافتہ بھارت 2047 کا ویژن ہمارے نوجوانوں اور تعلیمی دنیا کے لیے ایک نئی تحریک ہے۔جامعہ ہمدرد جیسے ادارے اس ویژن میں ہنر،تحقیق اور جدت کے ذریعے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔جب تعلیم مضبوط ہوگی،تبھی بھارت خود کفیل بنے گا۔ یہ امرت کال بھارت کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔سید مہدی حسین قطبی نظامی،سجادہ نشین، حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ نے اس طرح سے اپنی رائے کا اظہار کیا کہا”ترقی یافتہ بھارت کا تصور صوفیاء کے پیغام،امن، محبت اور بھائی چارے سے جڑا ہوا ہے۔ ملک تبھی ترقی کرتا ہے جب دل جڑے ہوں اور نیت نیک ہو۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارا ملک دنیا میں ترقی اور انسانیت دونوں کی مثال بن رہا ہے”۔
ڈاکٹر ببلی پروین نے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت کا تصورخواتین کی طاقت کے بغیر ادھورا ہے انہوں نے مزید کہا آج بیٹیوں کو ہر میدان میں آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔ تعلیم سے لے کر سائنس، اسٹارٹ اپ سے لے کر قیادت تک،خواتین کا بااختیار ہونا اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔یہ نیا بھارت بیٹیوں کے خوابوں کو پر عطا کر رہا ہے اور یہی سچے معنوں میں ترقی یافتہ بھارت کی پہچان ہے۔


پروفیسر ایم. ڈی.قطب الدین،چیئرپرسن،مرکزِ عربی و افریقی مطالعات، جے این یو نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے یوں کہا، ترقی یافتہ بھارت کا عزم ہماری قدیم علمی روایت اور جدید ترقی کا حسین امتزاج ہے۔ یہ صرف معاشی ترقی نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر، خود کفیل اور اقدار پر مبنی قوم کی تعمیر کا عظیم الشان نظریہ ہے۔مشاعرے کے صدر اعجاز انصاری نے کہا کہ کشش وارثی ایک تحریک،جدوجہد اور کرانتی کا نام ہے اور وہ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ایسی پر مقصد محفلیں آراستہ کر رہے ہیں۔


مشاعرے کی نظامت کے فرائض نیر عباس جلالپوری نے بخوبی انجام دیئے۔انہوں نے اپنی افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے عزیزو! آج کا ہندوستان اب صرف خواب نہیں بلکہ تعبیر بن رہا ہے۔اس موقع پر کلام بابر اور دبئی سے آئے مہمان صلاح الدین نے بھی مہمان ذی وقار کی حیثیت سے شرکت فرمائی۔صوفی فاؤنڈیشن کے قومی صدر اور کنوینر کشش وارثی نے تمام مہمانوں کا استقبال گلدستے اور شال پیش کرکے کیا۔نسیم وارثی، اسلم بیتاب، شمع خان، انس فیضی،عبدالوارث، مسعود ہاشمی اور عدنان وارثی نے اس پروگرام کو میزبان کی حیثیت سے کامیاب بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔
ترقی یافتہ بھارت کے عنوان سے منعقدہ اس مشاعرے کے چند شعراء کا کلام قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔
فٹ پاتھ پر نہیں رہے گا اب کوئی
سب کا ایک گھر ہوگا وکِسِت بھارت میں
دنیا والے سورگ کہیں گے،کل جس کو
ایسا منظر ہوگا وِکسِت بھارت میں
(شبینہ ادیب)
یہ مت پوچھو ہم سے کیا کیا دیکھ رہے ہیں
سپنا پورا ہوتا اپنا دیکھ رہے ہیں
دنیا دیکھ رہی ہے یہ وکِسِت بھارت
وِکسِت بھارت میں ہم دنیا دیکھ رہے ہیں
(سویتا اسیم)
آن بڑی ہے شان بڑی ہے
بھارت کی پہچان بڑی ہے
علم و ہنر کے میدانوں میں
شانِ ہندوستان بڑی ہے
(کشش وارثی)
بچہ بچہ سِکشِت ہے
ہر کوئی سُرکشِت ہے
چاروں اور اجالا ہے
اپنا بھارت وِکسِت ہے
(اسلم بیتاب)
ان کے علاؤہ اعجاز انصاری، جوہر کانپوری، ڈاکٹر ضیاء ٹونکوی،ابراہیم علی ذیشان، انس فیضی،عمر اظہار، نوشاد انگھڑ۔ شاعرات میں ڈاکٹر انادہلوی، نکہت امروہوی،زرین صدیقی اور مسکان ماجد۔
آخر میں کنوینر کشش وارثی نے تمام مہمانوں،شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشاعرے کے اختتام کا اعلان کیا۔
اس موقع پر تعلیمی،سماجی شخصیات کے علاؤہ کثیر تعداد میں یونیورسٹی کے طلباءنے بھی شرکت کرکے مشاعرے کو کامیاب بنایا۔

Leave a Response