فاطمہ اکیڈمی (گرلز اینڈ بوائز) اٹکی رانچی جھارکھنڈ کا یومِ تاسیس: علمی ویژن اور مخلصانہ قیادت کا سفر


رانچی:8 جنوری 1998 وہ تاریخی دن تھا جب اٹکی، رانچی کی سرزمین پر فاطمہ اکیڈمی (گرلز اینڈ بوائز)اٹکی رانچی جھارکھنڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ محض ایک اسکول کا قیام نہیں تھا، بلکہ بانی و ڈائریکٹر *جناب نسیم انور ندوی* کے اس عظیم وژن کا آغاز تھا جس نے خطے میں تعلیم کے روایتی تصور کو بدل کر رکھ دیا۔1998 کا وہ دور تھا جب جھارکھنڈ میں دینی اور دنیاوی تعلیم کے درمیان ایک خلیج حائل تھی اور ان دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے کا کوئی باقاعدہ تصور موجود نہ تھا۔ ایسے میں مولانا نسیم انور ندوی نے “Dual Education Concept” (دینی و عصری تعلیم کا امتزاج) متعارف کروا کر ایک انقلابی مثال قائم کی۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے لوگوں کو یہ سوچ دی کہ ایک بچہ بہترین ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بننے کے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی اور اخلاقی اقدار سے بھی جڑا رہ سکتا ہے۔ آج یہ ادارہ اسی وژن کی بدولت علم و شعور کی ایک مضبوط علامت بن چکا ہے۔ادارے کی اس شاندار ترقی کے پیچھے بانیِ اکیڈمی کی فکری رہنمائی اور شریک بانی و پرنسپل ۔محترمہ تبسم فاطمہ۔ کی غیر معمولی قائدانہ صلاحیتیں کارفرما ہیں۔ محترمہ تبسم فاطمہ نے اپنی انتظامی بصیرت اور انتھک محنت سے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ ان کی قیادت کی خاصیت نظم و ضبط اور علمی معیار کے ساتھ ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت پر گہری توجہ ہے۔ انہوں نے اپنی بہترین “لیڈرشپ” کے ذریعے ادارے کو ایک ایسے سانچے میں ڈھالا ہے جہاں ہر طالب علم کی انفرادی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے۔فاطمہ اکیڈمی (گرلز اینڈ بوائز)اٹکی رانچی جھارکھنڈ کی اصل طاقت یہاں کے انتہائی مخلص اور جفاکش اساتذہ ہیں۔ ان اساتذہ نے تعلیم کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس مشن سمجھ کر اپنایا ہے۔ ان کی پوری توجہ طلباء کی علمی پیاس بجھانے، ان میں قائدانہ صفات پیدا کرنے اور انہیں اعلیٰ انسانی اوصاف سے آراستہ کرنے پر مرکوز رہتی ہے۔ اساتذہ کی ٹیم کا یہ مخلصانہ تعاون اور ان کی شب و روز کی محنت ہی وہ بنیادی ستون ہے جس پر فاطمہ اکیڈمی (گرلز اینڈ بوائز)اٹکی رانچی جھارکھنڈ کی کامیابیوں کی عمارت کھڑی ہے۔در حقیقت 8 جنوری 1998 سے شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ مولانا نسیم انور ندوی کی انقلابی فکر، محترمہ تبسم فاطمہ کی مخلصانہ قیادت اور اساتذہ کی بے لوث قربانیوں نے اس ادارے کو علم کا وہ مرکز بنا دیا ہے جو نہ صرف بہترین نتائج فراہم کر رہا ہے، بلکہ معاشرے کو باکردار اور باصلاحیت شہری بھی دے رہا ہے۔








