Blog

کلکتہ انتخابی تشدد میں ماخوذ 13مسلم نوجوانوں کو سپریم کورٹ سے ضمانت

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر وکلاء کی ایک ٹیم ملزمین کی پیروی کررہی ہے

نئی دہلی 4؍جنوری : سپریم کورٹ نے آج 2021 میں مغربی بنگال انتخابی تشدد کے دوران ایک شخص کے قتل کے سلسلے میں 13 ملزمان کو کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ضمانت دیدی ہے۔ 25 جون 2022 کو کلکتہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی سفارش پر بروئی پور ضلع مجسٹریٹ کی عدالت کے ذریعہ پیشگی ضمانت کو کالعدم کردیا تھا، جس کے بعد ملزمین کے لیے راحت کی امید ختم ہو گئی تھی۔ حالاں کہ یہ فساد دو سیاسی پارٹیاں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے کارکنان کی سیاسی عداوت کا نتیجہ تھا، لیکن فرقہ پرست عناصر نے اسے ہندو مسلم رنگ دے کر علاقے میں نہ صرف نفرت کی فضا ہموار کرنے کی کوشش کی، بلکہ اس کے نتیجے میں یک طرفہ طور پر غریب بے قصور مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ 02 مئی 2021 کی شام 8 بجے متوفی ہرن ادھیکاری کو سیاسی عداوت کے سبب ظالمانہ طور پر مارا پیٹاگیا، جس کی تاب نہ لاکر اس نے دم توڑ دیا۔ بعد میں پولس نے قربان، یونس، ہمایوں، رقیب ملا، عثمان ملا، معین الدین،ممریز ملا، ریشما ملا، سپریا بی بی، سراجل، سیف القاضی، داؤدعلی ملا سمیت 17 ملزمان کے خلاف مقدمہ دائر کیا، ان میں کچھ ملزمان نے ضلع عدالت سے پیشگی ضمانت لے لی تھی۔ بعد میں مقدمہ سی بی آئی کے حوالے کردیا گیا، جس کی سفارش پر ضلع عدالت کے ذریعہ دی گئی ضمانت کو کلکتہ ہائی کورٹ نے مسترد کردیا۔
13غریب ملزمین کے اہل خانہ کی گزارش پر صدرجمعیۃعلماء ہندمولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ کے مقرر کردہ وکلاء نے نومبر2022 میں سپریم کورٹ میں اسپیشل پٹیشن Appeal (Crl.) Nos.10830-10834/2022 داخل کی، سپریم کورٹ نے پہلی سماعت میں ہی ملزمین کو عارضی طور پر پروٹیکشن دے دیا تھا کہ سی بی آئی انھیں گرفتار نہیں کرے گی، لیکن حسب ضرورت پوچھ تاچھ کے لیے طلب کرے گی۔ آج بالآخر اپنے حتمی فیصلے میں سپریم کورٹ نے ملزمین کی مستقل ضمانت منظورکرلی ہے

معزز جج جسٹس جے کے مہیشوری، جسٹس سدھانشو دھولیہ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزمین سی بی آئی کا مکمل تعاون کررہے ہیں، اس لیے ان کو قید کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لہذا انھیں ضمانت دی جاتی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے عدالت میں سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ داوے،سید مہدی امام، ایڈوکیٹ محمد نور اللہ، تبریز احمد، ایڈوکیٹ عاطف سہروردی پیش ہوئے۔ جب کہ سی بی آئی کی طرف سے اے ایس جے ایشوریہ بھاٹی و دیگر نے نمائندگی کی۔ اس فیصلے پر جمعیۃ علماء ہند کے قانونی امور کے ذمہ دار مولانا نیاز احمد فاروقی، جمعیۃ علماء مغربی بنگال کے صدر مولانا صدیق اللہ چودھری نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

Leave a Response