ریا ستی سطح کی علمی و ادبی تنظیم جھارکھنڈ ساہتیہ سنگم نے ڈاکٹر بشیر بدر کی وفات پر تعزیتی نشست کا انعقاد کیا ۔


رانچی ۔ پی آر ۔ ریاستی سطح کی علمی و ادبی تنظیم جھارکھنڈ ساہتیہ سنگم کے زیر اہتمام جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کے کربلا چوک واقع گلشن ہال میں 30 مئی بروز سنیچر شام چار بجے سے عصر جدید کی اردو شاعری کے شہنشاہ سمجھے جانے والے دنیا بھر میں مشہور ، معروف و مقبول شاعر پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر کے عین عید الاضحی ، 28 مئی کی دوپہر انتقال ہو جانے پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت سنگم کے بانی سرپرست محترم جناب نصیر افسر صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض جنرل سیکرٹری محترم جناب ڈاکٹر اوم پرکاش نے بحسن خوبی انجام دیے ۔ اس موقع پر چار گھنڈ کے مشہور شاعر و ناظم مشاعرہ محترم جناب سہیل سعید صاحب نے کہا کہ دنیا بھر میں مشہور اور ہر دل عزیز شاعر پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر صاحب کا اس دار فانی سے کوچ کر جانے سے اردو ادب اور مشاعروں کا بڑا خسارہ ہوا ہے ۔ انہوں نے رانچی کے بہترین شعرائے کرام کے گزر جانے سے پیدا ہونے والے خلاء کا بھی ذکر کیا ۔
سنگم کے سرپرست ڈاکٹر باسو دیو پرساد نے کہا کہ اجھے کوی اور شاعر کبھی مرتے نہیں بس وہ اپنا شریر تیاگ کر بھی لوگوں کے ذہن میں محفوظ رہتے ہیں ۔ مشہور مترنم شاعرہ شالنی نایک صبا نے ڈاکٹر بشیر بدر کے اس دنیا سے کوچ کر جانے کی بھرپائی کو عنقریب مشکل بتایا اور انکے چند اہم اشعار پیش کئے ۔ سنگم کے سکریٹری و عراقیہ اردو گرلس ہائی اسکول کے سکریٹری محترم جناب سیف الحق صاحب نے کہا کہ اردو کے ہردلعزیز اور عطیم شاعر کی وفات سے دل بہت ہی ملول اور رنجیدہ ہے ۔ اپنے صدارتی خطبہ میں محترم جناب نصیر افسر صاحب نے بڑی تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر کی پیدائش اتر پردیش کے فیض آباد ضلعے میں 15فروری 1935 میں ہوئی تھی ۔ انکا اصلی نام سید محمد بشیر تھا ۔ انہوں نے اپنی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں پوری کی اور وہیں سے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی تفویض کی گئی تھی ۔
ان کے کئی شعری مجموعہ منظر عام پہ آئے جن میں بطور خاص آہٹ ، آمد ، امکان ، کلیات بشیر بدر اور اجالے اپنی یادوں کے شامل ہیں ۔ میرٹھ میں 1987 میں ہوئے ذبردست فرقہ وارانہ فساد میں انکا مکان جلا کر خاک کر دیا گیا تھا جس میں انکی غیر مطبوعہ شاعری بھی جل گئی ۔ وہ اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ انہیں مع اہل و عیال مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال ہجرت کرنی پڑی ۔ بالآخر 91 سال کی عمر میں عین عید الاضحی کے دن 28 مئی 2026 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ اپنے صدارتی خطبہ کے اخیر میں محترم جناب نصیر افسر نے پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر صاحب کے بہترین چنندہ 20 ،اشعار پیش کئے ۔ ڈاکٹر اوم پرکاش صاحب کے اظہار تشکر کے ساتھ ہی تعزیتی نشست کا اختتام ہوا ۔








