مساجد پر بلڈوزر کارروائیاں بند ہوں، مدارس کو ہراساں کرنے کا سلسلہ رکے: مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند کا دوٹوک مطالبہ۔ جمعیۃ علماء ہند کی تمام اکائیاں ایک ہی دن متعلقہ حکام کو میمورنڈم پیش کریں گی۔


اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند شروع
نئی دہلی، 30 اکتوبر 2026: جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کا سالانہ اجلاس آج میوات کے ڈی ایل ایف اسپرنگ فیلڈ، سہسولا پٹی، پیپاکا، ضلع نوح (ہریانہ) میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کے ہاتھوں پرچم کشائی کے ساتھ شروع ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر سے تقریباً دو ہزار ارکانِ منتظمہ، مشاہیر اور نامور علماء شریک ہو رہے ہیں۔ اجلاس کے ابتدائی مرحلے میں مدارسِ اسلامیہ کے تحفظ اور ملک بھر میں مساجد، عیدگاہوں اور دیگر اسلامی شعائر کے خلاف انہدامی کارروائیوں کی روک تھام اور یکساں سول کوڈ سے متعلق ہم تجاویز منظور کی گئیں۔ اس موقع پر صدر جمعیۃ علماء ہند نے بہتر مختصر میں مسلمانوں کے حالات پر بھی روشنی ڈالی ، تفصیلی خطاب بعد میں ہوگا۔

منظور کردہ تجاویز میں مدارس کو منظوری اور جانچ کے نام پر ہراساں کرنے، ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے اور اقلیتی تعلیمی اداروں کو متنازع بنانے کی کوششوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ حکومتِ ہند اور متعلقہ قانونی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسی کارروائیوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے اور مدارس کو آئینِ ہند کے تحت حاصل حقوق و تحفظات کی ضمانت دی جائے۔اجلاس نے مدارس کے ذمہ داران کو بھی متوجہ کیا کہ وہ اپنے اداروں کی اراضی کے کاغذات، منظور شدہ نقشہ جات، ہاسٹل میں مقیم طلبہ کے شناختی کوائف اور مالیاتی کھاتوں کے آڈٹ کو مکمل شفافیت کے ساتھ مرتب اور محفوظ رکھیں۔
مساجد اور دیگر اسلامی شعائر کے تحفظ سے متعلق دوسری تجویز میں ملک بھر میں مساجد، عیدگاہوں، درگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تجویز میں واضح کیا گیا کہ مساجد محض عمارتیں نہیں بلکہ مسلمانوں کے عقیدے، اجتماعی شناخت اور آئینِ ہند کی دفعات 25 اور 26 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کی عملی علامت ہیں۔ پلیسز آف ورشپ (اسپیشل پروویژنز) ایکٹ 1991 کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت برقرار رکھنا اور تاریخی تنازعات کو دوبارہ کھولنے سے روکنا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے ایودھیا فیصلے میں بھی اس قانون کو آئین کے بنیادی سیکولر ڈھانچے کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ ماتحت عدالتوں کی جانب سے اس قانون کی روح کو نظر انداز کرتے ہوئے عبادت گاہوں کے سروے کے احکامات جاری کیے جانے پر تشویش ظاہر کی گئی۔ اس سلسلے میں سنبھل کی تاریخی جامع مسجد کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یک طرفہ سروے کے حکم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے امن و امان کو شدید متاثر کیا۔

مجلسِ منتظمہ نے حکومتِ ہند اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے 12 دسمبر 2024 کے عبوری حکم کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے اور 1991 کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ کے منافی نئے دعووں کو ابتدائی مرحلے ہی میں خارج کیا جائے۔ اسی طرح بلدیاتی، ریونیو اور ترقیاتی اداروں کی جانب سے مناسب قانونی کارروائی اور متاثرہ فریق کو منصفانہ موقع دیے بغیر مساجد کے انہدام کی کارروائیوں کو روکا جائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اجلاس کا ایک اہم فیصلہ یہ ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی تمام صوبائی، ضلعی اور تحصیلی اکائیاں مرکزی جمعیۃ کی جانب سے مقرر کردہ ایک ہی تاریخ اور وقت پر اپنے اپنے متعلقہ حکام کو میمورنڈم پیش کریں گی۔
اس کے ساتھ جمعیۃ کی تمام اکائیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کی معاونت کرتے ہوئے مساجد کی اراضی، خسرہ و کھتونی کے اندراجات، بلدیاتی ٹیکس اور دیگر قانونی دستاویزات کی جانچ و تکمیل کا کام آئندہ چھ ماہ میں مکمل کرائیں۔ یوسی سی سے متعلق تجویز میں یکساں سول کوڈ کو ہر طرح سے خارج کردیا گیا اور اس قانون کو خود میں ہی تفریق پر مبنی قرار دیا گیا ۔
مساجد پر پروفیسر نعمان شاہ جہاں پوری نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی نے تجویز پیش کی اور تائید ماسٹر احسان الہی ناظم اعلی جمعیۃ علماء اتراکھنڈ، مفتی جمیل الرحمن ناظم اعلی جمعیۃ علماء مشرقی یوپی زون نے کی ، مدارس سے متعلق تجویز مولانا شمس الدین بجلی نے پیش کی ۔تائید مفتی عبدالقوی صاحب صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃعلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش نے کی ، یوسی سی پر تجویز مولانا عبدالواحد کھتری ناظم اعلی جمعیۃ راجستھان نے پیش کی جب کہ مولانا اسلام الحق اسجد صدر جمعیۃ علماء وسط یوپی، مولانا محمود الحسن کھیروا رکن شوری دارالعلوم دیوبند، مولانا مفتی عبدالرزاق امروہوی نے تائیدا ت پیش کیں ۔
اس سے قبل 29 اکتوبر کو نئی دہلی میں مدنی ہال، مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند میں مجلسِ عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مجلسِ منتظمہ کے لیے مختلف تجاویز کے مسودوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ مجلسِ عاملہ کی منظور کردہ تجاویز آج مجلسِ منتظمہ میں پیش کی گئیں۔
اجلاس کی ابتدا میں مولانا محمد یحییٰ کریمی، ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ اس کے بعد ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کے ساتھ سکریٹری رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر معروف شاعر قاری احسان محسن نے اپنا کلام بھی پیش کیا۔ ناظم تنظیم جمعیۃعلماء ہند (شمالی ہند) مولانا مفتی ذاکر حسین قا سمی نے تجویز تعزیت پیش کی ۔اجلاس 31 اکتوبرکو دوپہر تک جاری رہے گا ، جس میں ملک کی موجودہ صورت حال، مسلمانوں کو درپیش سماجی، تعلیمی، ملی اور تنظیمی چیلنجز سے متعلق مزید اہم تجاویز پیش کی جائیں گی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا اہم خطاب بھی اجلاس کا اہم حصہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔








