تحریکِ مکاتبِ اسلامیہ کے تحت دینی تعلیمی بورڈ جھارکھنڈ کے زیر اہتمام جامع مسجد دودھانی، ڈمکا میں یک روزہ تربیتی ورکشاپ بحسن و خوبی اختتام پذیر


مورخہ: ١٧ ربیع الثانی ١٤٤٨ھ مطابق ٣٠ ستمبر ٢٠٢٦ء
مقام: جامع مسجد، دودھانی، ڈمکا، جھارکھنڈ
دینی تعلیمی بورڈ جھارکھنڈ کے زیر اہتمام جامع مسجد دودھانی، ڈمکا میں ایک انتہائی اہم یک روزہ دینی تعلیمی و تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی۔ یہ باوقار اجتماع دینی تعلیمی بورڈ جھارکھنڈ کے صدر حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب دامت برکاتہم کی پُروقار صدارت اور دینی تعلیمی بورڈ جھارکھنڈ کے ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا ڈاکٹر اصغر مصباحی صاحب کی بہترین نظامت میں انتہائی کامیابی کے ساتھ انجام پایا۔

اس تربیتی اجلاس میں صوبے کے مختلف اضلاع سے تشریف لانے والے آئمہ کرام، اساتذہ اور ذمہ داران نے شرکت کی، اور ذمہ داران نے اس دینی تعلیمی نظام کو ایک تحریک کے طور پر اختیار کرتے ہوئے گہری دل چسپی کا مظاہرہ کیا۔
کلیدی خطابات حضرت مولانا محمد عمر صاحب قاسمی( ناظمِ تنظیم، جمعیۃ علماء ہند )مہمانِ خصوصی نے اپنے جامع اور پُراثر خطاب میں جھارکھنڈ کے مختلف 6 اضلاع سے آئے ہوئے آئمہ اور ذمہ داران سے مکاتب کا تفصیلی جائزہ لیا۔ آپ نے اس تحریک کو زمینی سطح پر مضبوط کرنے کے لیے تحصیل اور ضلعی یونٹوں کا قیام عمل میں لایا، باقاعدہ ماہانہ مشوروں کی ترتیب بنائی، اور ضلعی علماء و ذمہ داران کے حلقے تشکیل دے کر عزائم اور ذمہ داریاں تفویض فرمائیں۔
نصاب، طریقۂ تعلیم حضرت مولانا محمد ظفر مسعود صاحب قاسمی: آپ نے مکاتب کے لیے منتخب نصاب اور طریقۂ تعلیم پر مفصل اور جامع روشنی ڈالی۔ آپ نے واضح فرمایا کہ آنے والی نسلوں کو ارتداد اور فکری گمراہیوں سے بچانے کے لیے بچوں کی فکری تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
منظم مکاتب کا نظام حضرت مولانا فہد صاحب قاسمی (مرکزی معاون دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند)
آپ نے منظم مکتب کے پورے نظام کو انتہائی واضح اور مفصل انداز میں پیش کیا۔
سروے کی اہمیت مولانا رفعت جاوید صاحب -(صوبائی معاون، دینی تعلیمی بورڈ جھارکھنڈ) آپ نے علاقائی سروے کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے اغراض و مقاصد کو بیان کیا۔
الحمدللہ شرکاء نے اگلے ایک ماہ میں
66 مثالی مسجد ۔
59 منظم مکتب ۔
33 بالغان مکاتب ۔
6 مستورات مکاتب ۔
17 اسکول ٹیوشن ۔
یہ باوقار اجلاس حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب دامت برکاتہم صدر دینی تعلیمی بورڈ ضلع گڈا کی رقت آمیز دعا پر بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔








