All India NewsBlogNewsPatna NewsRanchi News

اتحادِ امت وقت کی اہم ضرورت، علماء کا متحد ہونا ضروری ہے: آیت اللہ ڈاکٹر حکیم مجید الٰہی

Share the post

امارت شرعیہ پٹنہ میں ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندہ کی آمد، ناظم امارت شرعیہ نے کیا پرتپاک استقبال؛ ادارے کی ملی، سماجی اور فلاحی خدمات کو سراہا

رانچی: پٹنہ: امارت شرعیہ پٹنہ میں ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندہ آیت اللہ ڈاکٹر حکیم مجید الٰہی کی آمد ہوئی۔ اس موقع پر ناظم امارت شرعیہ حضرت مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن نے نہایت خلوص و محبت کے ساتھ مہمان کا استقبال کیا اور انہیں گلدستہ پیش کیا۔


اس موقع پر نائب ناظم امارت شرعیہ مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نے امارت شرعیہ کے مختلف شعبوں، انتظامی امور اور ملی و سماجی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
آیت اللہ ڈاکٹر حکیم مجید الٰہی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اور انجینئر بننا آسان ہے، لیکن مفتی اور عالم بننا مشکل ہے۔ امارت شرعیہ ایسے اہم امور انجام دے رہی ہے جو اسلام کی بنیاد اور تعلیمات کا حصہ ہیں۔ اس ادارے کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ نہ صرف غریبوں اور مسکینوں کی مدد کر رہی ہے بلکہ قوم میں تعلیم کو فروغ دینے، بیماروں کا علاج کرانے اور بے سہارا لوگوں کو سہارا دینے جیسے اہم کام بھی انجام دے رہی ہے۔ یہی اسلام کا حقیقی پیغام ہے۔ اس تاریخی ادارے میں آکر مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ اس کی خدمات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے.


انہوں نے ملت اسلامیہ میں اتحاد و اتفاق کی فضا کو برقرار رکھنے اور اسے مزید مضبوط بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کے اغراض و مقاصد میں اتحاد و وحدت بھی شامل ہے۔ اس فضا کو قائم کرنا اور اسے فروغ دینا ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
مولانا تقی حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اتحاد ہی ہماری اصل قوت ہے اور اس قوت کو حاصل کرنے کے لیے علماء کا متحد ہونا بے حد ضروری ہے۔
اس موقع پر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا احمد حسین قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ، مولانا محمد ابوالکلام شمسی معاون ناظم امارت شرعیہ، ڈاکٹر سید یاسر حبیب سیکریٹری مولانا سجاد میموریل اسپتال، مولانا ارشد رحمانی حافظ سیکریٹری، مولانا محمد شارق رحمانی معاون آفس سیکریٹری، مولانا محمد نیاز عالم قاسمی، ایڈوکیٹ جاوید اقبال ٹرسٹی امارت شرعیہ اور مجلس علماء و خطباء بہار کے جنرل سیکریٹری مولانا سید امانت حسین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مقررین نے امارت شرعیہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، کیونکہ یہاں مسلک کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پر لوگوں کی مدد کی جاتی ہے۔


چیئرمین شیعہ پرسنل بورڈ جھارکھنڈ مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے بھی امارت شرعیہ کی خدمات کی تعریف کی اور ادارے سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ ایک ایسا مرکز ہے جو بہار، جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے مسلمانوں کو متحد کرکے ایک بڑی طاقت بنا سکتا ہے۔
اجلاس میں شرکاء نے کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے مسلمانوں کو اتحاد کے ایک نئے احساس سے جوڑنے کا کام کیا ہے۔ یہ ایسی شہادت ہے جس پر صرف شیعہ برادری ہی نہیں بلکہ تمام فرزندانِ توحید غمزدہ ہوئے۔ علماء نے کہا کہ رہبر کی قربانی کے نتیجے میں جو اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا ہوئی ہے، اسے فراموش کرنے کے بجائے مزید پروان چڑھانا چاہیے۔ یہی شہید کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ ایران کی کامیابی کے لیے ہر مسلمان دعاگو تھا اور مسلمانوں کی دعاؤں نے ایران کو فتح سے ہمکنار کیا۔ اس پر آیت اللہ ڈاکٹر حکیم مجید الٰہی نے کہا کہ ملت اسلامیہ نے صرف دعائیں ہی نہیں کیں بلکہ ایران کی عملی مدد بھی کی۔ تاہم بعض مسلم ممالک نے اسلام کا ساتھ دینے کے بجائے عیسائیت اور صیہونیت کا ساتھ دیا، جو افسوسناک ہے۔ کاش مسلمان ان حقائق کو سمجھ پاتے تو آج امت مسلمہ بلندیوں پر ہوتی اور غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوتی۔ اگر مسلمان غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ باطل قوتوں کے ہاتھوں بک چکے ہیں۔
واضح رہے کہ امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی اس موقع پر بنفسِ نفیس موجود نہیں تھے، تاہم وہ مسلسل اس ملاقات کی تفصیلات حاصل کرتے رہے۔ ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ ہماری دلی خواہش ہے کہ آیت اللہ ڈاکٹر حکیم مجید الٰہی دوبارہ بھی اس ادارے میں تشریف لائیں، تاکہ باہمی تعلقات اور اتحاد کی فضا مزید مستحکم ہو۔
آخر میں دعائیہ کلمات کے ساتھ یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔

Leave a Response