All India NewsBlogfashionJharkhand NewsNewsRanchi JharkhandRanchi Jharkhand NewsRanchi News

بھارتی صوفی فاؤنڈیشن اور غزل اکادمی کےاشتراک سے ایوانِ غالب میںمشاعرہ منعقد

Share the post


جشنِ آپریشن سندور — ایک شام فوجیوں کے نام‘‘ کل ہند مشاعرہ منعقد

نئی دہلی: گزشتہ شام بھارتی صوفی فاؤنڈیشن اور غزل اکادمی کےاشتراک سے ایوانِ غالب،ماتا سندری روڈ، دہلی میں’’جشنِ آپریشن سندور — ایک شام فوجیوں کے نام‘‘ کے عنوان سے کل ہند مشاعرہ منعقد کیا گیا۔پروگرام کی صدارت درگاہ حضرت نظام الدین کے سجادہ نشین سید فرید احمد نظامی نے کی۔ اپنے صدارتی کلمات میں انہوں نے کہا کہ آج ہم ’’آپریشن سندور‘‘ کی سالگرہ کے موقع پر اُن بہادر جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی بہادری، قربانی اور حب الوطنی سے تاریخ میں ایک روشن باب رقم کیا۔مہمانِ خصوصی کے طور پر موجود جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ایم۔ افشار عالم نے کہا آپریشن سندور صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ یہ ملک کے عزم، اتحاد اور خودداری کی علامت تھی۔ ہمارے بہادر سپاہیوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وطن کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دی جا سکتی ہے۔ ان جوانوں نے مشکل حالات میں بھی حوصلے،نظم و ضبط اور بہادری کی اعلی مثال قائم کی۔مہمانان اعزازی میں مسجد حضرت قطب الدین بختیار کاکی کے امام و خطیب سید مختار اشرف،خانقاہِ جعفریہ کاظمیہ علامہ خاکی کے سید شاداب حسین رضوی اور دہلی یونیورسٹی کی سینئر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ببلی پروین شامل تھے

۔سید مختار اشرف نے کہا کہ یہ تقریب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن اور آزادی کی قیمت ہمیشہ قربانی سے ادا کی جاتی ہے۔ ہمیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ جبکہ سید شاداب حسین رضوی نے کہا کہ ہم سب کو مل کر یہ عہد کرنا چاہیے کہ ملک کی ترقی، اتحاد اور سلامتی کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔اس موقع پر منعقد مشاعرے کی صدارت اعجاز انصاری نے کی جبکہ نظامت کے فرائض معین شاداب نےانجام دئیے۔ مشاعرے میں ملک کے معروف شعرا نے اپنا کلام پیش کیا جن میں اعجاز انصاری، خورشید حیدر، شکیل جمالی،التمش عباس،شرف نانپاروی، کاشف رضا،وارث وارثی، اختر اعظمی،عمران رضا، درد فیض خاں،اسلم بیتاب ،فیروزخاں،ڈاکٹر انا دہلوی،نکہت امروہوی،صبا عزیز، شمع پروین،شارقہ ملک اور ڈاکٹر ببلی پروین شامل تھے۔پروگرام کے کنوینر کشش وارثی نے تمام مہمانوں اور شعرا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غزل اکادمی مرادآباد شہرکی وہ پہلی تنظیم ہے جس نے ملک کے دارالحکومت دہلی میں اتنے بڑے پیمانے پر آپریشن سندور کے موضوع پر مشاعرے کا انعقاد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ آئندہ بھی ملک کی یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے مشاعروں اور شعری نشستوں کا انعقاد کرتا رہے گا۔اس موقع پر معاون کنوینر نسیم وارثی، استقبالیہ صدر احمد مرادآبادی، سکریٹری مسعود ہاشمی، شمع پروین اور اسلم بیتاب نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا

۔مشاعرے میں پیش کیے گئے منتخب اشعار:

بھارت کی بیٹیوں کا ذرا دیکھیے کمال

پنے وطن کا شان سے ڈنکا بجا دیا

آتنکیوں نے آ کے اجاڑا تھا جو سندور

اس کا حساب گھر میں انہی کے چُکا دیا(اعجاز انصاری)

صوفیہ، ویومیکا سلام تمہیں

تم نے بنیادِ ظلم ڈھائی ہے

گھر میں گھس کر مارا ہے دشمن کو

شانِ بھارت یوں بڑھائی ہے(خورشید حیدر)

بغیر جذبۂ ایثار کچھ نہیں ملتا

فضا سے بوئے غلامی نہیں نکلتی ہے

لہو دیا ہے تو دیکھی ہے صبحِ آزادی

گلے سے خود کوئی رسی نہیں نکلتی ہے(شکیل جمالی)

بات سچی ہو تو چہرے پہ نکھار آتا ہے

موت آ جائے تو مرنے پہ بھی پیار آتا ہے

جشنِ سندور تو ہے ایسے سہاگوں کا عروج

جن کی قربانی پہ مٹی کو وقار آتا ہے(کشش وارثی)

بہایا جائے حفاظت میں سرحدوں کی جوہم

اُس لہو کا بہت احترام کرتے ہیں

جو دے کے جان بھی زندہ ہیں دل میں لوگوں کے

ہم اُن شہیدوں کو دل سے سلام کرتے ہیں(معین شاداب)

شہیدوں کی طرح ہم بھی یہ جسم و جاں لکھ دیں گے

وطن کے دشمنوں کے نام ہم شمشان لکھ دیں گے

ترنگے کی جو عظمت ہے وہ دھندلی ہو نہیں سکتی

لہو کے آخری قطرے سے ہندوستان لکھ دیں گے(انا دہلوی)

صوفیہ، ویومیکا جانبازِ وطن ہیں نکہتنیند دشمن کی شجاعت سے

اُڑا رکھی ہےآپریشن جو تھا سندور اُسے

یاد کرودیش کی بیٹیوں نے دھول چٹا رکھی ہے(نکہت امروہوی)

دشمنو! ناکام ہو جاؤ گے سببات یہ رکھنا ہمیشہ دھیان میںصوفیہ اور ویومیکا سی بیٹیاںجب تلک زندہ ہیں ہندوستان میں(وارث وارثی)ضرورت ہے وطن کو تو ابھی قربان ہو جائےہر اک بچہ مرا بھی اشفاق اللہ خاں ہو جائےوطن کو گھیر لیں دشمن تو لڑنے کے لیے ان سےوہ سینہ تان کر بریگیڈیئر عثمان ہو جائے(اختر اعظمی)خوف سے قدموں کو پیچھے نہ ہٹایا تم نےجنگ میں دیش کا سمان بڑھایا تم نےوہ جو دشمن تھے مرے دیش کے اُن ماتھوں پرگردنیں کاٹ کے سندور لگایا تم نے(التمش عباس)سامنے جب ہوں بھارتی سپاہیپست دشمن کا حوصلہ ہو جائےہو دوبالا سندور کی عظمتکاش ہر بیٹی صوفیہ ہو جائے(اسلم بیتاب)شاہد ہے صوفیہ کی شجاعت محاذ پراک شیرنی ہے کاغذی شیروں کے درمیاندشمن کو گھر میں گھس کے اتارا فنا کے گھاٹبیٹوں سے کم نہیں ہیں ہماری یہ بیٹیاں(شرف نانپاراوی)مٹ گیا دیش کے دشمن کا وہ سارا ہی غرورغازیوں نے مری دھرتی کو دیا ایسا شعوراب کوئی آنکھ اٹھا کر نہ اِدھر دیکھے گاسرحدوں پر بھی چمکتا ہے یہ جشنِ سندور(سلطان اظہر مرادآبادی)کچھ تو ہے کشش ایسی تیری اِن فضاؤں میںصرف چین ملتا ہے مجھ کو تیری چھاؤں میںاے وطن! تجھے تو میں مر کے بھی نہ چھوڑوں گاتیرے عشق کی بیڑی یوں پڑی ہے پاؤں میں(درد فیض خاں)جشنِ سندور ہم آئے ہیں منانے کے لیےشانِ بھارت کو زمانے میں بڑھانے کے لیےدشمنو! ہم تمہیں ماریں گے گھروں میں گھس کرہند کے لال یہ آئے ہیں بتانے کے لیے(فیروز خاں)جن کے جانے سے ہوئی ماؤں کی آنکھیں پتھراُن کے دکھ درد کو سینے سے لگایا جائےیاد آ جائے شہیدانِ وطن کا ایثارجشنِ سندور کچھ اس طرح منایا جائے(شمع پروین)وطن کے نام پہ جو جاں نثار کرتے ہیںوہی بلند وطن کا وقار کرتے ہیںبہاتے ہیں وہ شہیدوں کی یاد میں آنسوجو اپنے دیش کی دھرتی سے پیار کرتے ہیں(شارقہ ملک)۔

Leave a Response