All India NewsBlog

مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، سورج ڈوبتا ہے تو نکلتا بھی ہے: مولانا حکیم الدین قاسمی

Share the post

جمعیۃ علماء جھارکھنڈ کی ایک روزہ تربیتی ورکشاپ سمیت چار اہم پروگرام منعقد، تنظیم کو مضبوط بنانے اور مکاتب کے نظام پر زور

رانچی، 9 اگست: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ کی جانب سے اتوار کے روز دارالحکومت رانچی میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ سمیت چار اہم دینی، تنظیمی اور اصلاحی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ ان پروگراموں میں جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی اور مختلف پروگراموں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے تنظیم کو مضبوط بنانے، بچوں کی تربیت، مکاتب کے نظام کو مستحکم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال پر زور دیا۔


جامعہ حسینیہ، کڈرو میں منعقدہ ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کی صدارت جمعیۃ علماء جھارکھنڈ کے صدر حضرت مولانا عبد القیوم قاسمی نے کی۔ صبح 9 بجے پرچم کشائی کے ساتھ پروگرام کا آغاز ہوا۔ قاری سہیب احمد نے ترانۂ جمعیت پیش کیا، جبکہ قاری ندیم نے تلاوتِ کلامِ پاک سے پروگرام کا آغاز کیا۔ ابتدائی خطاب حاجی شاہ عمیر، مولانا رضوان اللہ اور مولانا اصغر مصباحی نے کیا۔

oplus_3145728


اپنے خصوصی خطاب میں حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، سورج ڈوبتا ہے تو نکلتا بھی ہے۔ ہمیں امید اور حوصلے کے ساتھ اپنے کام کو آگے بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے مکاتب کے نظام کو مضبوط کرنا بے حد ضروری ہے۔ نئی نسل کی دینی اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ تربیت بہت ضروری ہے، اچھی تربیت کے بغیر بچہ آگے چل کر ایک بہتر انسان نہیں بن سکتا۔ اس لیے بچوں کو تعلیم کے ساتھ اچھے اخلاق، نظم و ضبط اور سماجی ذمہ داریوں کا احساس دلانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کی صحیح تربیت اور رہنمائی کے ذریعے ہی معاشرے کو مضبوط بنیاد فراہم کی جاسکتی ہے۔
موبائل اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ موبائل بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں ہے، اس سے صحیح طریقے سے فائدہ اٹھایا جائے تو اس کے ذریعے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موبائل اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال مثبت اور تعمیری کاموں کے لیے کیا جائے۔


انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کی تاریخی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی کی جدوجہد میں جمعیۃ علماء ہند نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے علماء نے ملک اور معاشرے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء آج بھی معاشرے کے مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ جمعیۃ سے وابستہ ہوکر اس کی خدمات سے فائدہ اٹھائیں۔
ورکشاپ کے دوران جمعیۃ علماء کا تعارف مولانا شمس تبریز، مفتی سلمان، مفتی قمر عالم اور قاری انصار اللہ نے پیش کیا۔ دوسرے سیشن کی صدارت جمعیۃ علماء جھارکھنڈ کے نائب صدر حضرت مولانا رضوان صاحب نے کی۔ اس سیشن میں جمعیۃ اسٹڈی سینٹر، سدبھاؤنا منچ اور مختلف کارکنان کے تاثرات و تجربات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ تیسرے سیشن کی صدارت مولانا منہاج قاسمی اور چوتھے سیشن کی صدارت مولانا نعمت اللہ، دمکا نے کی۔
ورکشاپ میں جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع سے جمعیۃ کے عہدیداران، علماء، وکلاء، دانشوروں اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔ چترا، لوہردگا، سمڈیگا، دمکا سمیت مختلف اضلاع سے آئے نمائندوں نے تنظیمی سرگرمیوں اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر اپنے خیالات اور تجربات پیش کیے۔
اس موقع پر حاجی شاہ عمیر، مولانا عبد القیوم، مولانا رضوان اللہ، مولانا منہاج، مولانا نعمت اللہ، مولانا صابر، مختار خان، ایڈووکیٹ خورشید حسن رومی، مولانا طلحہ ندوی، وکیل احمد رضوی، حسیب اختر، شجاع الدین پرویز، حاجی عارف، جنید انور، مفتی قمر عالم، ندیم خان، ساجد عمیر، فیروز رائن، نوشاد عالم، حافظ ابوبکر، مولانا شہاب الدین، مفتی ابو داؤد، ڈاکٹر طارق احمد، ایڈووکیٹ اظہر خان، ایڈووکیٹ صابر، غلام شاہد، اسد اللہ، مولانا رضوان دانش ندوی، حافظ زبیر، سیف الحق، ایس۔ علی، مولانا نجم الدین، مولانا عبد المجید، مولانا ایوب، مولانا پرویز، مولانا جاوید، قاری ندیم، فضل علی، حافظ عارف، مولانا منصور اور قاری خورشید سمیت بڑی تعداد میں علماء، دانشور اور کارکنان موجود تھے۔ پروگرام کے دوران حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی کا جمعیۃ علماء جھارکھنڈ کے صدر مولانا عبد القیوم قاسمی، جنرل سکریٹری الحاج شاہ عمیر، مولانا منہاج قاسمی، مولانا اسحاق اور نائب صدر مولانا رضوان اللہ قاسمی سمیت دیگر عہدیداران نے استقبال کیا۔ رانچی کے مختلف مقامات پر بھی ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس کے علاوہ کربلا چوک واقع جمعیۃ العراقیین بلڈنگ کے گلشن میرج ہال میں پروفیشنلز میٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈاکٹر، انجینئر، وکلاء، اساتذہ، تاجر اور مختلف شعبوں سے وابستہ پروفیشنلز نے شرکت کی۔

oplus_3145728

ظہر کی نماز کے بعد ہندپیڑھی واقع مدینہ مسجد میں عام جلسہ منعقد ہوا، جس میں مولانا حکیم الدین قاسمی نے خصوصی خطاب کیا۔ وہیں شام کے وقت کربلا چوک واقع ہوٹل شاہ ریزیڈنسی میں خواتین کا دینی و تربیتی اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں خواتین، طالبات، اساتذہ اور مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ خواتین نے شرکت کی۔
جمعیۃ علماء جھارکھنڈ کے عہدیداران نے کہا کہ ان پروگراموں کا مقصد معاشرے میں دینی بیداری کو فروغ دینے کے ساتھ تنظیم کو مضبوط بنانا، نئی نسل کی بہتر تربیت کرنا اور معاشرے کے مختلف طبقات کو مثبت سماجی سرگرمیوں سے جوڑنا ہے۔ پروگراموں میں بڑی تعداد میں علماء، دانشور، پروفیشنلز، خواتین اور عام لوگوں نے شرکت کی۔

Leave a Response