انڈمان میں عظیم مجاہدِ آزادی علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کے مزار پر جمعیت علماء ہند کے وفد کی حاضری، ایصال ثواب اور خراجِ عقیدت

جب تک ہندوستان ہے، علماء کی قربانیون کی یاد زندہ رہے گی : مولانا محمود اسعد مدنی

پورٹ بلیئر / انڈمان و نکوبار، 14 اپریل:
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے ہمراہ جمعیۃ علماء ہند کے صوبائی صدور اور نظمائے اعلیٰ کے ایک وفد نے آج عظیم مجاہدِ آزادی، جلیل القدر عالم، امامِ منطق و فلسفہ حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کے مزار پر حاضری دی۔ اس موقع پر ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی گئی اور ان کی بے مثال علمی، دینی اور ملی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کا آٹھواں مرکزی مشاورہ انڈمان و نکوبار میں جاری ہے۔ صدر جمعیۃ علماء ہند نے اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر نمازِ عصر کے بعد حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کے مزار پر حاضری دی۔
حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ 1857 کی جنگِ آزادی کے ان عظیم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے انگریز استعمار کے خلاف فتویٰٔ جہاد جاری کیا اور قوم کو آزادیِ وطن کے لیے آمادہ کیا۔ اسی جرأت مندانہ اقدام کے باعث انہیں گرفتار کیا گیا، ان پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا ہوا اور سخت ترین سزا سنائی گئی۔ تاریخی روایات کے مطابق انہیں سزائے موت اور پھانسی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری، صدر مجلسِ قائمہ مولانا رحمت اللہ میر، ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی، مولانا نیاز فاروقی اور دیگر مرکزی ذمہ داران بھی موجود تھے۔
اس تاریخی موقع پر صدر جمعیۃ علماء ہند کو “باغی ہندوستان” کے عنوان سے ایک کتاب بھی پیش کی گئی۔
مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ صرف ایک مجاہدِ آزادی ہی نہیں، بلکہ اپنے عہد کے ممتاز عالم، فلسفی اور علمی دنیا کے روشن ستارے تھے۔ ملک کی آزادی کے لیے ان کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ جب تک ہندوستان قائم ہے، اس عظیم مجاہدِ آزادی اور علماء کی قربانیوں کی یاد زندہ رہے گی۔”
انہوں نے مزید فرمایا کہ انڈمان میں حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کو جو مقام اور قومی سطح پر جو اعتراف ملنا چاہیے تھا، وہ اب تک پوری طرح نہیں مل سکا، اور اس جانب سنجیدگی سے توجہ دیے جانے کی ضرورت ہے۔
آخر میں جمعیۃ علماء ہند کے تمام ذمہ داران نے حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کے درجات کی بلندی، مغفرت اور ان کی علمی، دینی اور ملی خدمات کے اعتراف میں خصوصی دعا کی۔








