Tuesday, June 18, 2024
Jharkhand News

ملت اسلامیہ کے مسیحا کا نام ابراہیم رئیسی تھا: مولانا تہذیب الحسن

ایرانی صدر کی شہادت پر مسجد جعفریہ میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد

رانچی: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مولانا سید ابراہیم رئیسی سمیت ایران کے تمام شہداء کی یاد میں آج 26 مئی 2024 کو دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک مسجد جعفریہ، رانچی میں ایک تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ جھارکھنڈ کے چیئرمین نیز مسجد جعفریہ رانچی کے امام و خطیب حضرت مولانا الحاج سید تہذیب الحسن رضوی نے کی اور نظامت شاعر سید نہال حسین سریاوی نے کیا۔

تمام مقررین نے صدر ابراہیم رئیسی کے کام کو یاد کیا۔ مولانا تہذیب الحسن رضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ابراہیم رئیسی ملت اسلامیہ کے مسیحا کا نام تھا۔ دشمن یہ سوچ رہا ہے کہ ابراہیم رئیسی کو مار کر ہم جیت گیے۔ لیکن اب تو کءی ابراہیم رئیسی پیدا ہوں گے۔ مولانا نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں قرآن پر حملے ہو رہے تھے، اس وقت سید ابراہیم رئیسی نے اقوام متحدہ میں قرآن لہراتے ہوئے کہا کہ اللہ نے اس قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ اسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔

پروگرام کے مہمان خصوصی اقلیتی کمیشن کے وائس چیئرمین شمشیر عالم نے کہا کہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی پورے عالم اسلام کے ستون تھے۔ ہم اسے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مفتی عبداللہ ازہر قاسمی نے کہا کہ ابراہیم رئیسی نے پوری امت مسلمہ کو ایک چٹائی پر لانے کا کام کیا۔ آج علمائے کرام کی قیادت کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ مولانا یاسین قاسمی نے کہا کہ رئیسی صاحب عالم اسلام کے قائد تھے۔

وہیں مولانا ضیاء الہدا اصلاحی نے کہا کہ ابراہیم رئیسی سے میری ملاقات ہے۔ وہ حسن اخلاق کے علمبردار تھے۔ وہیں مولانا شریف احسن مظہری نے کہا کہ ابراہیم رئیسی کی شہادت پوری دنیا کا نقصان ہے۔ میری ان سے مئی 2017 میں ملاقات ہوئی تھی۔ ایک ملک کا صدر ہمارے وفد سے لپک کر ملا۔ گھنٹوں تک بات چیت ہوئی۔ سید ابراہیم رئیسی کو امت کی فکر تھی۔ آج پوری دنیا میں امت مسلمہ کے لیے اگر کوئی فلاحی کام کر رہا ہے تو وہ ایران ہے۔

جبکہ ڈاکٹر وکیل احمد رضوی نے کہا کہ سید ابراہیم رئیسی ایک سچے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سچے سپاہی بھی تھے۔ رمضان قریشی نے کہا کہ ہم صرف گنتی کے لیے مسلمان ہیں، ہمیں صرف ایمان والے 313 مسلمان چاہیے۔

ان کے علاوہ سرفراز سڈو، سعید احسن، حاجی فیروز جیلانی، مولانا باقر رضا دانش، مولانا صابر موہن پوری، مولانا مشرف جمال قاسمی، نوشاد لوک سیوا سمیتی، محمد اقبال، سہیل سعید، بچہ بابو، مستقیم عالم نے بھی جلسے کو خطاب کیا۔ جلسے کا آغاز حافظ و قاری توحید کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔

اس موقع پر اشرف حسین رضوی، سید حسنین زیدی، عطا امام رضوی، حافظ دانش ایاز، سید فراز عباس، قاسم علی، عمود عباس، مولانا مشرف، عبدالرزاق، سید مہندی امام، صحافی عادل رشید سمیت سینکڑوں لوگ موجود تھے۔ اخیر میں مولانا سید تہذیب الحسن رضوی امام و خطیب مسجد جعفریہ کی دعا پر مجلس اختتام ہوی۔

Leave a Response