All India NewsBlogJharkhand News

مستقبل کے معماروں نے تاریخ رقم کر دی

Share the post

نوجوانوں کی استقامت کو سلام
محمد قمر عالم قاسمی

آج کا دن ہندوستان کے لاکھوں نوجوانوں، بالخصوص NEET کے طلبہ، کے لیے ایک تاریخی دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے تک ملک کے مختلف حصوں میں ہزاروں طلبہ نے امتحانی بے ضابطگیوں، مبینہ پیپر لیک، شفافیت کے فقدان اور اپنے مستقبل سے متعلق خدشات کے خلاف مسلسل آواز بلند کی۔ انہوں نے شدید گرمی برداشت کی، سڑکوں پر دھرنے دیے، سینکڑوں طلبہ اور طالبات نے لاٹھیاں کھائیں آنسو گیس کی تکلیفیں جھیلیں پلیٹ گن کی گولیاں کھائیں مختلف شہروں میں احتجاج کیا، پولیس کارروائیوں کا سامنا کیا، لاٹھیاں کھائیں، مقدمات کا سامنا کیا، مگر اپنے حق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اگر آج ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچی ہے تو یہ ان کے اتحاد، صبر، استقامت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
ہم ان تمام نوجوانوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ یہ مبارک باد صرف کسی سیاسی پیش رفت یا ایک وزیر کے استعفے پر نہیں، بلکہ اس شعور، حوصلے اور عزم پر ہے جس نے یہ ثابت کر دیا کہ جب نوجوان اپنے حق کے لیے پُرامن، آئینی اور منظم انداز میں کھڑے ہوتے ہیں تو ان کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔
یہ نوجوان صرف اپنے والدین کی امید نہیں بلکہ ہندوستان کے مستقبل کے معمار ہیں۔ یہی طلبہ کل کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، اساتذہ، جج، وکیل، منتظمین اور ملک کی قیادت کرنے والے افراد بنیں گے۔ اگر ان کے امتحانات میں شفافیت نہ ہو، اگر ان کی برسوں کی محنت ایک پیپر لیک کی نذر ہو جائے، اگر ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے، تو نقصان صرف چند لاکھ طلبہ کا نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا ہوتا ہے۔نیٹ امتحان سے متعلق پیدا ہونے والے بحران نے صرف ایک امتحان پر سوال نہیں اٹھایا بلکہ پورے امتحانی نظام کی شفافیت، جواب دہی اور اعتماد کو بھی موضوعِ بحث بنا دیا۔ لاکھوں طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے کی ذہنی اذیت، غیر یقینی صورتِ حال، مالی نقصان اور مستقبل کے بارے میں پیدا ہونے والی تشویش کو صرف ایک انتظامی فیصلہ یا ایک فرد کے استعفے سے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اس پورے معاملے میں متعدد طلبہ کے جان گنوانے کی خبریں، بے شمار خاندانوں کی ذہنی اذیت، والدین کی پریشانی اور نوجوانوں کے مستقبل پر چھا جانے والی بے یقینی نے پورے ملک کو غمزدہ کیا ہے۔ احتجاج کے دوران دہلی کے جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر طلبہ کے ساتھ پولیس کارروائی، لاٹھی چارج، آنسو گیس اور دیگر سخت اقدامات کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جنہوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا۔ ایک جمہوری ملک میں اختلافِ رائے رکھنے والے طلبہ کے ساتھ ایسا برتاؤ ہر حساس شہری کے لیے باعثِ تشویش ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا صرف اُس وقت کے وزیرِ تعلیم کے استعفے سے تمام ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے؟ کیا اتنے بڑے بحران کی جواب دہی صرف ایک وزارت تک محدود رہنی چاہیے، یا پورے نظام کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے؟ جمہوریت میں حکومت کے ہر درجے سے سوال کرنا عوام کا آئینی حق ہے، اور جواب دہی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں، ذمہ دار افراد خواہ کسی بھی عہدے پر ہوں، قانون کے مطابق ان کا احتساب کیا جائے، اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور قابلِ اعتماد نظام قائم کیا جائے۔ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مساوات، انصاف، شفافیت اور اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے۔ یہی آئینی اصول ہماری قومی یکجہتی اور جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ جب نوجوان انہی اصولوں کی روشنی میں اپنے مستقبل کے تحفظ، امتحانی شفافیت اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کی آواز کو سننا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ ایک صحت مند جمہوری معاشرے کی علامت سمجھا جانا چاہیے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی ایک شخصیت کا استعفیٰ کسی بھی بحران کا مکمل حل نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پورے امتحانی نظام کو جدید، محفوظ، شفاف اور جواب دہ بنایا جائے، پیپر لیک جیسے منظم جرائم کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی ہو، بدعنوان عناصر کو عبرتناک سزا دی جائے، اور ہر طالب علم کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ اس کی کامیابی صرف اس کی محنت، قابلیت اور دیانت دارانہ مقابلے کی بنیاد پر ہوگی، نہ کہ سفارش، بدعنوانی یا دھاندلی کی بنیاد پر۔آج ان نوجوانوں کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کے لیے اٹھنے والی آواز اگر صبر، اتحاد، نظم و ضبط اور آئینی دائرے میں رہ کر بلند کی جائے تو وہ بالآخر اثر دکھاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز ان کے نوجوانوں میں پوشیدہ ہوتا ہے، اور جو قوم اپنے طلبہ کے مستقبل کو محفوظ نہیں رکھتی، وہ اپنے مستقبل کو خود خطرے میں ڈال دیتی ہے۔
ہمارے ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، شفافیت، دیانت داری اور انصاف کا نظام مزید مضبوط ہونا چاہیے، ہر طالب علم کی محنت محفوظ رہنا چاہیے ہر امتحان غیر جانبدارانہ طریقے سے منعقد ہو، اور مستقبل میں بھی نوجوان کے حقوق کی حفاظت کی ضمانت ملنی چاہۓ ۔
سلام ہے ان نوجوانوں کو جنہوں نے ثابت کر دیا کہ حق کی خاطر دی گئی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی، اور انصاف کی آواز اگرچہ کبھی دیر سے سنی جائے، مگر اسے ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

Leave a Response