Sunday, April 21, 2024
Jharkhand News

آہ ہم اہل جھارکھنڈ اس عظیم شخصیت مولانا اسلام سے محروم و یتیم ہو گئے

 

رانچی/ دھنباد:  وہ الم ناک حادثہ استاذ محترم مشفق و مربی کرم فرما حضرت مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی رحمۃ الله علیہ کی وفات پر ملال کا تھا جس نے پورے جسم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، زبان پر سکتہ طاری ہوگیا اور تھوڑی دیر کے لیے ہاتھ و پاوں نے کام کرنا بند کر دیا، آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور ایسا محسوس ہوا کہ مجھ پر بجلی کا قہر آ پڑا ہے، پھر دل کو دلاسا دیا کہ یہ قضائے الٰہی ہے اور ہم سب کو اس پر راضی رہنا چاہیے اور وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے، استاذ محترم بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے: جھارکھنڈ کے ایک گمنام بستی کے رہنے والے کا اتنے کمالات اور خوبیوں کا حامل ہونا ہم سب کے لیے بہت فخر کی بات ہے، آج ہم اہل جھارکھنڈ خصوصا ضلع جامتاڑا گریڈیہ اس عظیم شخصیت سے محروم و یتیم ہو گئے ہیں، حضرت الاستاذ طلبۂ کرام سے بے پناہ شفقت و محبت سے پیش آتے تھے، اور اگر مدد کی ضرورت پڑتی تو آپ مدد بھی کرتے اور علاقائی طلباء سے اتنی محبت تھی کہ جب بھی آپ بات کرتے تو اپنی مادری زبان ہی میں کرتے، قابل فخر بات یہ ہیکہ راقم نے حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مسلم شریف پڑھی ہے ان کا انداز درس لاجواب تھا جب مسند حدیث پر جلوہ افروز ہوتے تو محسوس ہوتا کہ وقت کے ابن حجر اور انور شاہ کشمیری ہیں اور جب تاریخ بیان کرنے پر آتے تو معلوم ہوتا کہ وقت کے ابن خلدون ہیں، تعلیم دارالعلوم کے دوران بارہا حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے قیام گاہ ( دار الثقافہ) پر حاضری ہوتی تھی، ایک دن ہم چند علاقائی ساتھی بیٹھے تھے حضرت فرمانے لگے کہ اللہ کا فضل ہے بندے نے فارسی سے لیکر دورۂ حدیث تک کی ساری کتابیں پڑھائی ہیں

 حضرت الاستاذ کا شمار وقت کے ادیبوں، جبال العلم علماء میں ہوتا تھا جس کی دلیل ایک درجن سے زائد کتابوں کی تصنیف و تالیف ہے جو مختلف علوم و فنون پر مشتمل ہے، حضرت نہایت ہی خوش اطوار، بااخلاق، ملنسار اور سلیقہ مند انسان تھے، گزشتہ سال یعنی شوال 1443 بمطابق 2022 عیسوی میں بغرض ملاقات و عیادت حضرت کے آبائی وطن راجہ بھیٹا میں بندہ اور استاد محترم حضرت مولانا سعید صاحب قاسمی کی حاضری ہوئی، تقریباً دو گھنٹے کی ملاقات رہی مختلف موضوعات پر گفت و شنید ہوئی ہم دونوں کی یہ حضرت سے آخری ملاقات تھی اور اس دن آپ نے ہم دونوں کو بے شمار محبتوں اور دعاؤں سے نوازا، میں بارگاہ ایزدی میں دعا گو ہوں: اللہ پاک مفتی صاحب کو غریقِ رحمت فرماۓ ان کی خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور ان کا علمی فیض تا قیامت جاری و ساری رکھے اور پسماندگان خصوصا آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور والد محترم کا حقیقی جانشیں اور علمی وارث بنائے آمین یا رب العالمین:
 شریک غم محمد آفتاب قاسمی بانکی خادم التدریس مدرسہ اصلاح المسلمین سرکارڈیہ دھنباد جھارکھنڈ ۲ذوالحجہ۱۴۴۴ھ مطابق 21جون2023

Leave a Response