Saturday, April 20, 2024
Ranchi Jharkhand

کیا ہمارا زندہ رہنا باعث شرمندگی ہے؟

کیا ہم نے اہل غزہ کو فراموش کر دیا؟


محمد قمر عالم قاسمی خادم التدریس والافتاء مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی جھارکھنڈ
خطیب حواری مسجد کربلا چوک
شہر قاضی جھارکھنڈ سرکار

اسرائیل، اسرائیل نواز حکومتوں اور اسرائیلی فوجوں کے مظالم بے گناہ نہتے مسلمانوں،جوانوں، عورتوں، مردوں مریضوں، بے کس وبے سہارا بچوں پر پوری دنیا اور عالمی اسلام کے سامنے عیاں و ظاہر ہیں اس کے باوجود ان کی خاموشی قابل افسوس ہی نہیں بلکہ باعث شرمندگی اور انسانیت کو شرمسار کرنے والی ہے ۔ دو ارب مسلمانوں نے گویا اسرائیل امریکہ اور برطانیہ و دیگر یورپین ممالک کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ جب چاہے جس طرح چاہے جیسے چاہے جس طرف سے چاہے زمینی ہو فضائی ہو بحری ہو بری ہو مشین گن سے ہو توپ سے ہو بکتر بند گاڑیوں سے ہو فاسفورس بم ہو کلسٹر بم ہو ڈرٹی بم ہو یا ہائڈروجن بم ہو(اگرچہ ہائڈروجن بم کا استعمال نہیں ہوا ہے) خواہ سو کلو ہو دوسوکیلو ہو پانچ سو کیلو ہو یا ایک ٹن( ہزار کلو ہو 10 کونٹل) کے بم ہو گرا سکتے ہیں جیسا کہ ایک اخبار نے صہیونی حکومت کی طرف سے اہل غزہ کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ٹن وزنی بموں کے استعمال کا ذکر کیا ہے۔
نیویارک ٹائم نے المیادین نیوز چینل کا حوالہ دیتے ہوئے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ نہتے اہل غزہ کے خلاف اسرائیلیوں نے جو بم استعمال کیے ان میں سے 90 فیصد سیٹلائٹ کے ذریعے چلائے گئے نیز ان بموں میں سے کچھ کا وزن ایک تن تھا۔ 26 نومبر بروز اتوار تک اسرائیلی قابض و غاصب فوجیوں نے اہل غزہ کو نیست و نابود کرنے کے لیے ان کے گھروں مکانات اسکولوں ہاسپٹلوں ریفیوجی کیمپوں ایمبولنسوں پر سات اکتوبر سے 40 ہزار ٹن بم برسا یا ہے۔ یہ بیچارے فلسطینی جائیں تو کہاں اگے موت پیچھے سمندر اوپر سے بموں کی بارش نیچے قبرستان، اسپتال پہنچے تو قیامت کی سی سماں یہی تو ہوا وہاں کے تمام ہسپتالوں میں نہ دوا نہ علاج نہ اکسیجن نہ مرہم نہ پٹی نہ پانی نہ کھانا نہ بستر نہ بیڈ پس صرف موت ہی موت، موت کے پروانے اور موت کے ویزے کے سوا کچھ بھی نہیں، موت ہی موت، موت ہر جگہ پر ہر وقت حاضر اور سرپر سوار ہے، دو چار دن کا معاملہ ہو تو چلو صبر کر لیں یہاں تو اج کل کرتے کرتے دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا چند دنوں کے لیے جنگ بندی ہوئی توقع کی جا رہی تھی کہ یہ یا تو طویل المدتی ہوگی یا ہمیشہ کے لیے ہوگی ایسا نہیں ہوا بلکہ طرہ یہ کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو خطرناک حد تک ہتھیاروں کی فراہمی میں اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے جنگ بندی کی کوششوں کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے۔
6 دسمبر 2023 بدھ کے دن امریکہ سے ہتھیاروں سے بھرے 200 جہاز اسرائیل پہنچ چکے ہیں، اقوام متحدہ اور نام نہاد چند اسلامی ممالک کی طرف سے سوائے مذمتی قراردادوں کے ایک بھی اقدام نہیں کیا گیا اور فلسطینی مظلوم مسلمانوں کو اپنے ہم مذہب ہم زبان نام نہاد مسلم حکمرانوں سے شاید جو توقعات و امیدیں وابستہ رہی ہوں گی وہ بھی کافور ہو گئیں ایک جانب صہیونی و طاغوتی طاقتیں جس کے کھلم کھلا ساتھ تقریبا یورب کے سارے طاقتور و دولت مند ممالک اور پس پشت اکثر نام نہاد اسلامی ممالک، دوسری جانب بظاہر واہ رے دنیا کی سب سے مظلوم مقہور کمزور بے بس بے سہارا صرف زبانی فضول خرچیوں سے پیٹ بھرنے والی اپنی ازادی کی قیمت جان و مال گھر مکان عزت و ابرو ہر طرح ظلم و بربریت سہنے والی فلسطینی قوم جسے جذبہ ازادی کی خواہش وہ للک نے زبان پہ شکوہ اور جذبہ کو سست ہونے نہیں دیا یہی وہ عمل ہے جس نے طاقتور قوموں کو پریشان کر رکھا ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی شبانہ روز کی دعاؤں میں فرض نمازوں میں تنہائیوں میں ان مظلومین کے لیے اللہ کی بارگاہ میں اہ و زاری کے ساتھ دعا کریں اللہ تبارک و تعالی ان مظلومین کی خصوصی مدد فرمائے انہیں فتح و نصرت سے سرفراز و ہم کنار کرے آمین۔ظالموں کے مقدر میں اگر ہدایت اور ایمان نہیں ہے تو ان بدبخت
بدطینت احسان فراموش یہودیوں اور صہیونیوں کو اللہ نیست و نابود تباہ و برباد کر دے آمین

Leave a Response