Friday, July 12, 2024
Ranchi Jharkhand

بلقیس معاملے میں معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ ساز ، قصور واروں کو ملے پھانسی کی سزا۔

مولانا قطب الدین رضوی

رانجی : (نمائندہ) ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد قطب الدین رضوی نے گجرات کی بلقیس بانو گینگ ریپ اور تین سالہ بچی سمیت سات افراد کو بہیمانہ طور پر قتل کرنے کے 11 قصور والوں حکومت گجرات کے ذریعہ معافی دیکر چھوڑنے کے حکم کو معززسپریم کورٹ کے ذریعہ کالعدم اور بالکل رد و منسوخ کرنے کے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا ہے کہ معزز سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تاریخ ساز ہے ۔ مولانا محمد قطب الدین رضوی نے کہا کہ مبینہ طور پر فرقہ پرستوں نے گودھرا ٹرین میں آگ لگا کر دنگا بھڑ کا یا تھا اور پورے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا 2002 میں ہوئے بھیانک فساد میں پانچ ماہ کی حاملہ 21 سالہ بلقیس بانو کے ساتھ بجرنگ دل آر ایس ایس و شو ہندو پریشد اور دیگر دنگا ئیوں نے گینگ ریپ کیا تھا اس کے بعد اسے مردہ سمجھ کر بلقیس بانو کی تین سالہ بچی کو بے دردی سے قتل کیا اور خاندان کے سات لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے کے بعد انتہائی بہیمانہ کے ساتھ قتل کر دیا تھا اس سنگین جرم میں کل دو درجن فسادی شامل تھے مگر حکومت اور گجرات پولس نے قاتلوں کو بچایاتا ہم عدالت نے 11 قاتلین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔اور یہ سب جیل کی سلاخوں میں تھے لیکن گجرات حکومت نے مرکزی حکومت کی پشت پناہی میں سارے قانون کو بالائے طاق رکھ کر 10/ا گست 2022 کو سرکاری معافی دیکر رہا کر دیا تھا اور گجرات کے علاوہ پورے ملک میں پھیلے حشرات الارض کی طرح فرقہ پرستوں نے خوب خوشیاں منائی تھیں ۔
ناظم اعلی مولانا قطب الدین رضوی نے متاثرہ بلقیس بانو کے حوصلوں کو سلام کرتے ہوئےکہا کہ بے انتہا ظلم و زیادتی ہونے اور جان کا خطرہ ہونے کے باوجود بلقیس بانو نے ہار نہیں مانی اور پوری ہمت و حوصلہ کے ساتھ گجرات حکومت کے بہیمانہ فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں چنوتی دی جس
پر 8/ جنوری 2024کو معزز سپریم کورٹ کی معزز محترمہ جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اوجول بھوئیاں کے بینچ نے فیصلہ میں قصورواروں کو معافی دیکر چھوڑنےکا گجرات حکومت کے فیصلہ کورد اور منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ ہر خاتون کو عزت کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے گجرات سرکار نے قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی فیصلہ سنایا تھا، معزز سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ سی آرپی سی کا دفعہ 432( 7) اور 432 (1) (2)کے مطابق اس طرح کے سنگین جرم میں ہے گجرات سرکار کو معافی دینے کا حق نہیں ہے ۔
ناظم اعلی نے کہا کہ گجرات دنگا نے پوری دنیا میں ہندوستان کو شرمسار کر دیا تھا جس کے اصل
مجرمین ماسٹر مائنڈ آج مذہبی منافرت پھیلا کر جس اقتدار میں بیٹھے ہیں اسے دنیا جانتی ہے۔۔مولانارضوی نے کہاکہ بلقیس بانومعاملے کے 11/ مجرمین کوسرعام پھانسی دیدینی چاہئے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ معززسپریم کورٹ اس جانب خصوصی توجہ دیتے ہوے قصورواروں کو ضرور، پھانسی کی سزاماسٹرمائنڈدرندوں کوبھی عدالت کے کٹگھرے میں کھڑاکریگی، ناظم اعلی نے کہاکہ گجرات دنگے کے متاثرین کوریلیف پہونچانے کے لئے حضرت علامہ ارشدالقادری قدس سرہ کے حکم پر غازئ ملت علامہ غلام رسول بلیاوی، ناچیزقطب الدین رضوی اور مولاناڈاکٹرغلام جیلانی پرمشتمل مرکزی ادارہ شرعیہ کے ریلیف ٹیم نے گجرات میں فوری طور پر راحت رسانی کاکام کیا تھا اس لئے گجرات دنگے کے حالات کوبہت قریب سے دیکھاہے کہ کس طرح پوری گجرات سرکار نے مسلمانوں کاقتل عام کرایا، گودھراآگ زنی معاملے میں تفتیسی ایجنسیوں نے صاف کردیاہے کہ اس میں کسی بھی مسلم کاہاتھ نہیں بلکہ فرقہ پرستوں نے سیاسی فائدے کی خاطر گودھرااور گجرات دنگاکرایامگرافسوس کے سیکڑوں قاتلین آج اقتدارمیں ہیں اور ملک کی روح جمہوریت سسکتی رہی۔

Leave a Response