Sunday, April 21, 2024
Ranchi News

مدرسہ عزیزیہ کندی میں جلسہ دستار بندی میں علمائے کرام کا خطاب

 

اے لوگوں اپنی گھر کی عورتوں کو مہیلا منڈل اور سود جیسے کاموں سے دور رکھو: مفتی انور


کیا کیا حلال چیز ہے کیا کیا حرام ہے: دل خیرآبادی

 

رانچی :مدرسہ جامعہ عزیزیہ کندی کا چوتھا عظیم الشان جلسہ دستار بندی 21 میٔ  2023  منعقد ہوا۔ جس میں  مدرسہ کے فارغ حفاظ کرام کی دستار فضیلت باندھی گئی اور سرٹی فیکٹ،قرآن پاک،بیگ اور دیگر سامان دیکر نوازا گیا۔ جلسہ میں مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما جامعہ مرکزالعلوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ  دینی مدارس اسلام کے قلعے ہوا کرتے ہیں۔ جہاں امت مسلمہ کے نونہالوں کو دینی علوم سے آراستہ کیا جاتا ہے‌ مدرسوں سے محبت کرنی ہے، علماء سے محبت کرنی ہے۔ وہیں مقررین عظام میں امارت شرعیہ رانچی کے قاضی شریعت نیز جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کے رکن نیز راعین مسجد کے خطیب حضرت مولانامفتی انور قاسمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ اے لوگوں اپنی گھر کی عورتوں کو مہیلا منڈل اور سود جیسے کاموں سے دور رکھو۔ آپس میں اتحاد پیدا کرو۔ ہمارے مستقبل ہمارے نوجوان نشہ خوری کے طرف بڑھ رہے ہیں۔اسے بچانہ ہوگا۔ صرف شراب حرام نہیں ہے بلکہ ہر وہ چیز جو نشہ پیدا کرتی ہے حرام ہے۔ نکاح ٹوٹنے کی وجہ یہ کہ عورتوں کو سود مہیلا منڈل کا لت لگ جانا ہے۔ کل قیامت کے دن پوچھا جائے گا کہ بتاؤں تمہیں ذمہ داری دی گئی تھی بیٹا کا، بیٹی کا، بھائی، بہن کا، آس پڑوس کا

۔ وہیں مقرر خاص فاضل نوجواں حضرت مولانا مفتی عبداللہ سالم قمر چترویدی نے اپنے خطاب میں کہاکہ جس طرح ہماری جسم بیمار ہوتی ہے اسی طرح ہماری روح بھی بیمار ہوتی ہے۔اس بیمار روح کی دوا ہے اللہ کا ذکر،اللہ کی بڑائی۔ہمیں نفس کا غلام نہیں بننا ہے۔رسم ورواج کو چھوڑ کر سنت سے دوستی کرو۔وہیں رمضان کالونی مسجد کے خطیب حضرت مولانا اکرم الحق عینی نے اپنے خطاب میں کہاکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اگر تم شکر گزاری کروگے تو ہم اور دیں گے۔ اے لوگوں صبر اور شکر سے کام لو۔ صبر کرنے والا بھی جنتی اور شکر کرنے والا بھی جنتی۔ قبل ازیں مدرسہ اورآس پاس کے دیگر علمائے کرام نےبھی خطاب کیا۔19 حفاظ کرام  کے سروں پر دستار فضیلت علماء کرام کے ہاتھوں باندھی گئی۔ اور قرآن پاک، سند پیش کی گئی۔ آخر میں شیخ الحدیث کے دعائیہ کلمات پر جلسہ اختتام ہوا۔ جلسہ کا آغازتالی قرآن حضرت مولانا قارصہیب احمداستاذ مدرسہ عالیہ عربیہ کانکےکی تلاوتِ قرآن پاک اور شاعر اسلام شعبان دل خیرآبادی کے نعت رسول سے ہوا۔جلسہ کی صدارت حضرت مولانا محمد عبداللہ قاسمی  نے کی اور نظامت نوجوان اور بے باک ناظم مولانا سفیان حیدر رانچوی نے کیا۔ خطبہ استقبالیہ مدرسہ ہٰذا کے مہتمم حضرت مولانا زبیر اشرف رحیمی نے پڑھا۔ انہوں نے کہا کہ کہ ہمارے لیے بڑی خوشی اور شادمانی کا دن ہے کہ آج مدرسہ میں 19 حفاظ کرام کی  دستار فضیلت باندھی گئی۔  2006 میں اس مدرسہ کا قیام عمل میں آیا۔ اب تک 41 حفاظ کرام اس مدرسہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔ ہم آئے ہوئے سبھی مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ نوجوان کمیٹی، انجمن اسلامیہ کندی، اصلاح العراقین کمیٹی اٹکی، جمعیت المومنین اٹکی، اصلاحی تنظیم اٹکی، امن کمیٹی اور آس پاس کے جتنے بھی انجمن ہیں ہم ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ جلسہ کے ناظم حضرت مولانا منیر الدین نے تعلیم کی اہمیت اور آج کمپٹیشن کے دور میں تعلیم کتنی ضروری ہے اس پر روشنی ڈالی۔ وہیں جب اسٹیج پر شاعر اسلام نوجوانوں کے دلوں کے دھڑکن شعبان دل خیرآبادی پہونچے تو لوگ نعرہ تکبیر سے استقبال کیا۔ دل خیرآبادی نے جب پڑھا کہ، نافز ہوا نظام، نبی کو پتہ چلا، کیا کیا حلال چیز ہے کیا کیا حرام ہے۔ تو مجمع جھو اٹھا اور زندہ باد کے نعرے لگے۔ چاند پہ جانے والے تھے، جنت میں جانا بھول گئے، شہرت کی خواہش میں، ماں کا پاؤں دبانہ بھول گئے۔ ہم مظلوم مسلمان پر، اللہ کی ہوگی کیسے مدد، جان بچانے کی خاطر، ایمان بچانا بھول گئے۔ حافظ کا بے سبب نہیں اعلیٰ مقام ہے، سینے میں حافظوں کے خدا کا کلام ہے۔ موقع پر مدرسہ انوار صحابہ کے مہتمم حضرت قاری خورشید، محمد جاوید، نجم الحسن، قاری عبدالمنان یوپی، مولانا منظور قاسمی اٹکی، مولانا کمال الدین، مولانا عبدالرشید، مولانا کلیم الدین سمیت سینکڑوں لوگ موجود تھے۔

Leave a Response