All India NewsBlog

درسِ قرآن کی اہمیت اور اس کا طریقہ

Share the post

مفتی محمد طلحہ ندوی
امام وخطیب جامع مسجد، اپر بازار، رانچی
رابطہ:7970856639
1۔ درسِ قرآن کی اہمیت
قرآنِ مجید آخری آسمانی کتاب اور انسانیت کے نام اللہ کا آخری پیغام ہےاور اس لحاظ سے قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی اخروی سعادت و نجات اور دنیاوی صلاح و فلاح اسی سے وابستہ ہے۔یہ کتاب ہدایت ہے۔ تمام عقائد و تصورات، اخلاقی قدریں اور پیمانے ،اسی طرح عبادات، اعمال و آداب، قوانینِ شریعت، طریقۂ زندگی اور اسلامی شعار، ان تمام حقائق کا بنیادی تعلق قرآنِ کریم سے ہے۔یہ وہ صحیفۂ آسمانی ہے جس پر چل کر انسان ثریا کے اوجِ کمال تک پہنچ سکتا ہےاور اس پر نہ چلنے والا قعرِ عمیق میں اوندھے منہ گر سکتا ہے۔اسی لیے اس کی شرح و تفسیر، اس کے معانی و مطالب کا افہام و تفہیم، اس کے ابدی پیغام کی طرف دعوت اور اس کی تبلیغ ایک دائمی ضرورت ہے۔قرآنی تعلیمات کو عام کرنے، ہر خاص و عام کے رابطے کو اس چشمۂ صافی سے جوڑنے، اصلاحِ فرد اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے درسِ قرآن ایک بہترین ذریعہ ہے۔لیکن اس سے آج کل نہایت غفلت برتی جا رہی ہے، جس کا خمیازہ عوام کی دین سے دوری کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ علما ءکرام اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا ہو رہے ہیں اور نیم خواندہ، ڈاکٹر، پروفیسر اور انجینئر حضرات اس خلا کو پُر کرکے ضلّواوأضلّواکامصداق بنے ہوےہیں۔ ایسے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی تعلیمات کو عام کریں اور عوام کا تعلق قرآن و سنت سے مضبوط کریں۔
2۔ درسِ قرآن کا طریقہ
نمبر 1: بغور تلاوت
درس دی جانے والی آیات کی پوری توجہ سے تلاوت کریں۔نمبر 2: آسان ترجمہ
اس کے بعد ان آیات کا بالکل سادہ اور عام فہم ترجمہ کریں، تاکہ سامعین آیات کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکیں۔
نمبر 3: تفسیر کا صحیح طریقہ
آیات کی تفسیر میں پہلے آیات ،پھر احادیث، پھر سیرت اور اقوالِ صحابہؓ اور اخیر میں علماء کے اقوال سے مدد لیں، تاکہ قرآن کی تشریح مقصدِ قرآن کے دائرے میں ہو۔
نمبر 4: مخاطبین کے فہم کا لحاظ
مخاطبین کو قرآنِ کریم کے مطالب اور اسلوب سے روشناس کرائیں، جو ان کے فہم اور مستویٰ کے مطابق ہو۔
نمبر 5: غیر ضروری بحثوں سے اجتناب ایسی باتیں جو ان کے لیے کارآمد نہ ہوں، مثلاً اعراب و ترکیب کی باریکیاں یا بے فائدہ توجیہات و تاویلات وغیرہ، ان میں ہرگز نہ پڑیں۔
نمبر 6: قرآن کے اہم پہلوؤں پر توجہ
قرآنِ کریم کے اہم پہلوؤں پر اکتفا کرتے ہوئے اس کے مطالب و مقاصد کو عمدہ اور نفع مند اسلوب کے ساتھ واضح کریں؛ کیونکہ امت کے آخری لوگوں کی اصلاح کا بھی وہی طریقہ ہے جو طریقہ اوّل امت کی اصلاح کے لیے نبی کریم ﷺ نے اختیار فرمایا تھا۔
نمبر 7: عقائد و معاملات کی اصلاح
درس دینے والے کو چاہیے کہ درس کے دوران آیات کے ترجمہ و تفسیر کی مناسبت سے مخاطبین کے عقائد کی درستگی اور ان کے معاملات کی اصلاح کی طرف بھرپور توجہ کریں۔
مستفاد: مقالات و مضامین، محدث العصر حضرت بنوریؒ، بہ حوالہ مسنون امامت و خطابت، مفتی احمد نثار اللہ قاسمی۔
3۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ کے درسِ قرآن کا اندازعلامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے درسِ قرآن کا انداز یہ تھا کہ جو آیت زیرِ درس ہوتی، اس مفہوم کی تمام آیات کو جمع فرماتے، پھر تمام آیات کو سامنے رکھ کر سیاق و سباق کا لحاظ فرماتے ہوئے مفہوم متعین فرماتے اور اس کو سنت اور اقوالِ سلف سے مدلل فرماتے۔اس کا اثر یہ تھا کہ آپ کی گفتگو از دل خیزد، بر دل ریزد کا مصداق تھی۔ سامعین ایستادہ کھڑے یا بیٹھ کر درس سنتے اور آپ کے علمی انداز سے محظوظ ہوتے۔ دقیق اور عمیق مسائل چٹکیوں میں حل فرماتے۔حوالہ: علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے تفسیری نکات، صفحہ :55، مولانا فرمان ندوی۔
4۔ درسِ قرآن کے لیے کون سی تفسیر منتخب کی جائے؟
ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:ایک آخری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی تین تفاسیر منتخب کی جائیں تو آخر کون سی منتخب کی جائیں؟ یہاں آپ کو اپنے مخاطبین کو سامنے رکھنا پڑے گا۔فرض کیجیے کہ آپ کے مخاطبین اعلیٰ درجے کے تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر وہ اس قسم کے مسائل نہیں اٹھائیں گے جو قدیم تفاسیر میں ملتے ہیں، مثلاً اشاعرہ، ماتریدیہ اور معتزلہ کے مسائل سے نہ وہ باخبر ہیں اور نہ ان سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ تفاسیر آپ کے دائرے سے خارج ہو گئیں جن میں اس قسم کے مباحث آتے ہیں۔یہاں وہ تفسیر زیادہ کارآمد ہوگی جو جدید مفکرین کے اعتراضات اور شبہات کا جواب دیتی ہے، مثلاً مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیرِ ماجدی۔اس طرح اگر آپ مخاطبین کی سطح اور ان کا ذوق دیکھ کر تفسیر کا انتخاب کریں تو ان کے لیے زیادہ مفید اور آسان ہوگا۔ اس لیے اگر مقصد دین اور شریعت کی تعلیم ہے تو مخاطب کی ضرورت کا خیال رکھنا سنتِ نبوی ﷺ میں شامل ہے۔
حوالہ: محاضراتِ قرآنی، صفحہ: 402، ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ۔
5۔ درسِ قرآن کے لیے چند مفید تفاسیرمولانا الیاس گھمن صاحب دامت برکاتہم دروسِ قرآن میں فرماتے ہیں کہ درسِ قرآن دیتے وقت اس بات کا بہت زیادہ خیال کریں کہ کسی ملحد اور بدعتی کی تفسیر کو سامنے رکھ کر مطالعہ نہ کریں، بلکہ علمائے ربانیین کی تفاسیر سے استفادہ کریں۔
الف: اردو زبان میں مفید تفاسیر
نمبر 1: بیان القرآن
از حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ۔
نمبر 2: تفسیر عثمانی
ازعلامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ۔
نمبر 3: معارف القرآن
ازمفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ۔
نمبر 4: معارف القرآن
از مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ۔
نمبر 5: معالم القرآن فی دروس القرآن
ازصوفی عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ۔
ب: عربی زبان میں مفید تفاسیر
نمبر 1: احکام القرآن
از امام ابو بکر جصاص رحمۃ اللہ علیہ۔
نمبر 2: روح المعانی
ازعلامہ سید محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ۔
نمبر 3: مدارک التنزیل (تفسیر النسفی)
ازامام عبداللہ بن احمدالنسفی رحمۃ اللہ علیہ۔
نمبر 4: تفسیر ابن کثیر
ازعماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ۔
نمبر 5: احکام القرآن ازحکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ۔
ج: ترجمۂ قرآن کے لیے
ترجمۂ قرآن کے لیے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا آسان ترجمۂ قرآن زیادہ مفید ہے۔
حوالہ: دروس القرآن جلد، نمبر 1، صفحہ نمبر 23۔
6۔ عوامی درسِ قرآن دینے والوں کے لیے خصوصی مشورہ
مولانا فیصل احمد ندوی دامت برکاتہم لکھتے ہیں:عوام کے مجمع میں درس دینے والے کے لیے تفسیر ابن کثیر( اپنے فائدے کے لیے زیادہ اور عوام کے لیے کم اس لیے کم سے کم یہ پوری تفسیرماثورنظر سے گزر جائے، تاکہ بھٹکنے کے امکانات کم سے کم ہوں۔)معارف القرآن(مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ) اور تفسیر ماجدی سے بہتر تیاری کی جا سکتی ہے۔ عوام کی ضرورت اور ان کی سطح کے لحاظ سے بات کرنے میں ان تفاسیر سے اچھی مدد ملے گی۔
تفسیر مواہب الرحمن بہت تفصیل سے سلف کی تشریحات اور دروس و بصائر کا بہت کچھ سامان فراہم کردے گی ،اس کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ نیز قرآن کے سائنسی اعجاز پر لکھی ہوئی کتابوں سے بھی فائدہ اٹھائیں۔
حوالہ: تفسیر اور اصول تفسیر، صفحہ 243، مولانا فیصل احمد ندوی۔
7۔ مزید مفید تفاسیر اور تراجم
درج ذیل تفاسیر اور تراجم سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے:
ہدایت القرآن: مفتی سعید احمد پالنپوری رحمۃ اللہ علیہ۔
آسان تفسیرقرآن: فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم۔
آسان معانی قرآن: مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی برکاتہم۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کی رفعت و عظمت پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے، اس کے صحیح فہم کی دولت سے نوازے، اور اس کی تلاوت، اس پر عمل اور اس کی نشر و اشاعت کے جو حقوق ہم پر عائد ہوتے ہیں، انہیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Leave a Response