چراغ علم بجھ گیا، چار دہائیوں پر محیط دینی و علمی خدمات کا روشن باب اختتام پذیر


محمد قمر عالم قاسمی شہر قاضی رانچی جھارکھنڈ سرکار
*معروف عالمِ دین، مایہ ناز ادیب اور مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ دربھنگہ بہار کے ناظمِ اعلیٰ کے انتقال سے علمی، دینی اور ادبی حلقوں میں غم کی لہر
مشرقی بہار کے معروف دینی و تعلیمی ادارے مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ، ضلع دربھنگہ کے ناظمِ اعلیٰ، معروف عالمِ دین، مایہ ناز ادیب اور ممتاز معلم حضرت مولانا قاری محمد شبیر احمد صاحبؒ کے انتقال کی خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ موصول ہوئی۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ آپ 2 اکتوبر 2026ء کو طویل علالت کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ آپ کی وفات سے علمی، دینی، تعلیمی اور ادبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی اور ایک ایسی علمی و ادبی شخصیت دنیا سے رخصت ہوگئی جس نے اپنی زندگی کے تقریباً چار عشرے دینِ اسلام کی خدمت، علومِ دینیہ کی اشاعت، طلبہ کی تعلیم و تربیت اور ایک عظیم دینی ادارے کی ترقی و استحکام کے لیے وقف کر رکھے تھے۔
حضرت مولانا قاری محمد شبیر احمد صاحبؒ کا شمار علاقے کے ان ممتاز اہلِ علم میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینی و تعلیمی خدمات کے لیے وقف کردی تھی۔ آپ گزشتہ تقریباً چالیس برس سے مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ سے وابستہ تھے اور ایک طویل عرصے تک ادارے کے ناظمِ اعلیٰ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ اس طویل مدت میں آپ نے جس اخلاص، محنت، لگن اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادارے کی خدمت کی، وہ آپ کے جذبۂ دینی اور تعلیمی ذوق کی روشن دلیل ہے۔ آپ کی زندگی کا بڑا حصہ مدرسے کی تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں کو منظم کرنے، اساتذہ کی رہنمائی، طلبہ کی تربیت اور ادارے کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں گزرا۔ آپ نے اپنی صلاحیتوں اور تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے مدرسے کی ترقی اور اس کے تعلیمی و دینی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔
حضرت مولانا قاری محمد شبیر احمد صاحبؒ کی شخصیت کئی علمی و ادبی خوبیوں کا حسین امتزاج تھی۔ آپ ایک باصلاحیت عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبِ ذوق ادیب بھی تھے۔ دینی علوم میں مہارت اور ادب و انشا سے گہری دلچسپی نے آپ کی شخصیت کو ایک منفرد شناخت عطا کی تھی۔ آپ کی علمی و ادبی صلاحیتیں اہلِ علم کے درمیان قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ آپ کا مطالعہ وسیع، فکر سنجیدہ اور اندازِ بیان شستہ و شگفتہ تھا۔ آپ کی ادبی دل چسپی اس بات کی غماز تھی کہ آپ علم کو محض درس و تدریس تک محدود نہیں سمجھتے تھے، بلکہ تحریر و قلم کے ذریعے بھی علمی و فکری ذوق کو پروان چڑھانے کے قائل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی شخصیت علمی و دینی حلقوں کے ساتھ ادبی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔
ایک کامیاب معلم کی بنیادی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف کتابوں کے اسباق ہی نہیں پڑھاتا، بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور عملی زندگی سے بھی طلبہ کی تربیت کرتا ہے۔ حضرت مولانا قاری محمد شبیر احمد صاحبؒ کی طویل تدریسی و انتظامی زندگی اسی جذبے کی عکاس تھی۔ آپ طلبہ کی علمی ترقی کے ساتھ ان کی اخلاقی اور عملی تربیت کو بھی اہمیت دیتے تھے۔ آپ کی نگرانی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے آپ کی شفقت، رہنمائی اور تجربات ایک قیمتی سرمایہ تھے۔ مدارس کی زندگی میں ایک منتظم کی ذمہ داری صرف انتظامی امور کی انجام دہی نہیں ہوتی، بلکہ ادارے کے علمی ماحول کو برقرار رکھنا، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم رکھنا اور دینی مقاصد کے حصول کے لیے سازگار فضا پیدا کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔ آپ نے تقریباً چار دہائیوں تک ان ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ مدرسے اور اس سے وابستہ افراد کی خدمت میں صرف کیا۔مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ مشرقی بہار کا ایک معروف دینی و تعلیمی ادارہ ہے، جس کی خدمات علاقے میں دینی تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں۔ حضرت مولانا قاری محمد شبیر احمد صاحبؒ کی طویل وابستگی اس ادارے کی تاریخ کا ایک نمایاں حصہ ہے۔ کسی ادارے کے ساتھ چار دہائیوں تک مسلسل وابستہ رہنا، اس کی ذمہ داریوں کو نبھانا اور اس کی تعلیمی و انتظامی ترقی کے لیے سرگرم رہنا غیر معمولی استقامت، اخلاص اور وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی ادارے کے نام کردیا تھا۔ آپ کی وفات یقیناً مدرسے کے اساتذہ، طلبہ، منتظمین اور تمام متعلقین کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے، کیوں کہ ایک طویل عرصے تک ادارے کی رہنمائی کرنے والی شخصیت کا بچھڑ جانا ایک ایسا خلا پیدا کرتا ہے جسے پُر کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حضرت مولانا قاری محمد شبیر احمد صاحبؒ گزشتہ تقریباً دو ماہ سے علیل تھے۔ اس دوران آپ کا علاج جاری رہا اور اہلِ خانہ، مدرسے کے اساتذہ، طلبہ، متعلقین اور عقیدت مند آپ کی صحت یابی کے لیے دعاگو رہے۔ ہر ایک کو امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے گا اور آپ دوبارہ اپنی دینی و تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے، لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کے سامنے انسان بے بس ہے۔ بالآخر 2 اکتوبر کو آپ کی وفات کی خبر نے تمام متعلقین کو غم زدہ کردیا۔ آپ کی رحلت نہ صرف آپ کے اہلِ خانہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی ایک بڑا صدمہ ہے جنہوں نے آپ سے علم حاصل کیا، آپ کی سرپرستی میں وقت گزارا یا آپ کی علمی و ادبی صلاحیتوں سے استفادہ کیا۔علماء، اساتذہ اور اہلِ قلم کی زندگی کا اصل سرمایہ ان کی علمی خدمات، ان کے شاگرد اور وہ دینی و تعلیمی اثرات ہوتے ہیں جو ان کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔ حضرت مولانا قاری محمد شبیر احمد صاحبؒ کی زندگی بھی اسی حقیقت کی ایک مثال تھی۔ آپ نے اپنی عمر عزیز کا بڑا حصہ دین کی تعلیم و اشاعت، طلبہ کی تربیت اور ایک دینی ادارے کی خدمت میں گزارا۔ آپ کی چار دہائیوں پر محیط خدمات، آپ کی محنت اور ادارے سے وابستگی یقیناً آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ قدر مثال ہیں۔ آپ کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا محض ایک عہدے کے خالی ہونے کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک تجربہ کار عالم، مخلص منتظم، شفیق استاد اور صاحبِ ذوق ادیب کی جدائی کا غم ہے۔
حضرت مولانا قاری محمد شبیر احمد صاحبؒ کی وفات اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ دنیا میں انسان کی زندگی عارضی ہے، لیکن اس کے نیک اعمال، علمی خدمات اور دینی جدوجہد اس کے لیے صدقۂ جاریہ بن سکتے ہیں۔ خصوصاً دینی علوم کی تعلیم و تدریس اور طلبہ کی تربیت ایسا عمل ہے جس کے اثرات نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ امید ہے کہ مرحوم کی دینی و تعلیمی خدمات، ان کی علمی کاوشیں اور ان کے زیرِ تربیت رہنے والے طلبہ ان کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہوں گے۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو اہلِ علم اور دینی مدارس سے وابستہ افراد کے لیے قابلِ توجہ ہے کہ خلوص، استقامت اور مسلسل محنت کے ذریعے انسان اپنے ادارے اور معاشرے پر دیرپا اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
راقم الحروف حضرت مولانا قاری محمد شبیر احمد صاحبؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی، علمی، تدریسی، انتظامی اور ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ اس غم کی گھڑی میں مرحوم کے اہلِ خانہ، مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کے اساتذہ و طلبہ، متعلقین، احباب اور تمام سوگواروں کے ساتھ دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی تمام دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی حسنات کو قبول فرمائے، سیئات سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ رب العزت ان کے پسماندگان اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل، حوصلہ اور اجرِ عظیم عطا فرمائے اور مدرسے کو ان کے لیے بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔








