دنیا کی محبت معاشرتی بگاڑ ، ایمان کی کمزوری اسباب اور علاج


مفتی قمر عالم قاسمی شہر قاضی رانچی کا بے باکانہ و جذباتی خطاب
پریس ریلیز: عادل رشید
آج کے پُرفتن اور انتشار بھرے دور میں ایمان کی حفاظت سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ انسان نے بظاہر ترقی کی نئی منازل طے کر لی ہیں، سہولتیں بڑھ گئی ہیں، مگر اس کے باوجود دلوں کا سکون ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گھروں میں بے چینی، معاشرے میں بے اعتمادی اور زندگی میں اضطراب عام ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان نے اللہ کی یاد اور دینی تعلیمات سے اپنا تعلق کمزور کر لیا ہے۔
اپنے تفصیلی اور مدلل خطاب میں مفتی محمد قمر عالم قاسمی خطیب حواری مسجد کربلا چوک رانچی و شہر قاضی رانچی نے اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا کہ قرآن کا پیغام آج بھی زندہ اور مؤثر ہے، لیکن ہم نے خود کو اس سے دور کر لیا ہے۔ جو شخص اللہ کی یاد سے دور ہو جاتا ہے، اس کی زندگی بے سکونی اور تنگی کا شکار ہو جاتی ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مال و دولت، شہرت اور آسائشوں کے باوجود انسان مطمئن نہیں، کیونکہ حقیقی سکون صرف اللہ سے تعلق میں ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں انسان دنیا کی محبت میں اس قدر گرفتار ہو چکا ہے کہ آخرت کی فکر پسِ پشت چلی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں اخلاقی گراوٹ، بے حیائی، جھوٹ، دھوکہ دہی، شادی و بیاہ میں فوٹو، ویڈیو گرافی، بینڈ باجے، آتش بازی پر اسراف و فضول خرچیاں، اور سود جیسے سنگین گناہ عام ہو چکے ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں تعلیم عام ہوئی ہے وہیں معاشرتی چیلنجز بھی بڑھ گئے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان لڑکیاں اور لڑکے ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں اختلاط، سوشل میڈیا اور جذباتی اثرات ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔ ایسے میں بعض واقعات سامنے آتے ہیں جہاں لڑکیاں غلط تعلقات میں مبتلا ہو جاتی ہیں، دھوکہ کھاتی ہیں، اور پھر ان کی زندگیاں شدید مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض نوجوان لڑکیاں جذباتی فیصلے کر بیٹھتی ہیں، اور بعد میں انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ کہیں انہیں دھوکہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے، کہیں ان پر ظلم ہوتا ہے، اور بعض اوقات ان کی زندگی تباہی کے دہانے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ واقعات نہ صرف ان خاندانوں کے لیے صدمہ ہوتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
سب سے پہلی ذمہ داری گھر کی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کریں، ان کی بات سنیں، ان کی رہنمائی کریں اور مکمل بے توجہی سے بچیں۔ اگر گھر میں محبت، اعتماد اور صحیح رہنمائی ہو تو بچے باہر غلط راستوں کی طرف کم مائل ہوتے ہیں۔
دوسری اہم چیز دینی اور اخلاقی تربیت ہے۔ جب دل میں اللہ کا خوف، حیا اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہو جائے تو انسان خود کو بہت سی برائیوں سے بچا لیتا ہے۔ محض معلوماتی تعلیم کافی نہیں، بلکہ کردار سازی ضروری ہے۔
تیسری بڑی حقیقت سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کا بے قابو استعمال ہے۔ آج بہت سے تعلقات وہیں سے شروع ہوتے ہیں، جہاں دھوکہ، جھوٹ اور فریب کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اس کے خطرات سے آگاہ کرنا اور ان کی نگرانی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
چوتھی بات تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں احترام، حدود اور اخلاقیات کا خیال رکھا جائے۔ اساتذہ صرف کتابی علم نہ دیں بلکہ کردار سازی میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی بچی یا نوجوان کسی مشکل میں پھنس جائے تو اسے مزید دھکیلنے کے بجائے اس کی مدد کی جائے۔ بہت سے معاملات میں لڑکیاں خود بھی مظلوم ہوتی ہیں، جنہیں دھوکہ دیا جاتا ہے یا استعمال کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایسے میں ان کے ساتھ ہمدردی، قانونی مدد اور سماجی تحفظ فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ صرف ایک فرد یا ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم اپنی نسلوں کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں گھر، مدرسہ، اسکول اور سماج سب سطحوں پر اصلاح کی سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی۔
اگر انسان اپنے دل کو دین سے جوڑ لے اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھال لے تو نہ صرف اس کی ذاتی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ اصلاح کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔
مفتی صاحب نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ آج ایک ایسا وقت آ چکا ہے جب دین پر قائم رہنا آسان نہیں رہا۔ نیکی کرنے والا اجنبی سمجھا جاتا ہے اور برائی کو معمول بنا لیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں صبر، استقامت اور مضبوطی کے ساتھ دین پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمان کی حفاظت کے لیے نماز کی پابندی، قرآن سے مضبوط تعلق، اور نیک لوگوں کی صحبت بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امت کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ دنیا کی محبت اور موت سے غفلت ہے۔ جب انسان کی ساری توجہ صرف دنیاوی فائدے، عہدے اور دولت پر مرکوز ہو جاتی ہے تو وہ آہستہ آہستہ اپنے اصولوں اور ایمان سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وہ بیماری ہے جس نے آج ہمیں اندر سے کمزور کر دیا ہے اور ہماری اجتماعی طاقت کو ختم کر دیا ہے۔ اپنے جذباتی اور سحر انگیز خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ آنے والے فتنوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اعمال کی اصلاح کرے، نیکیوں میں جلدی کرے اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ کیونکہ ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جہاں معمولی دنیاوی فائدے کے لیے انسان اپنے دین اور اصولوں کا سودا کر بیٹھے۔
مفتی محمد قمر عالم قاسمی نے اس بات کی وضاحت کی کہ ایک سچا مومن ہر حال میں کامیاب ہوتا ہے۔ اگر اسے خوشی ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور اگر مصیبت آتی ہے تو صبر کرتا ہے، اور دونوں صورتوں میں اس کے لیے بھلائی ہی ہوتی ہے۔ یہی وہ ایمان کی کیفیت ہے جو انسان کو مضبوط بناتی ہے۔
انہوں نے معاشرتی اصلاح کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر، اپنے بچوں اور اپنے ماحول کی اصلاح سے اس کام کا آغاز کرے۔ والدین اپنی اولاد کی دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیں، کیونکہ آنے والی نسلوں کا صحیح راستہ ہی معاشرے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ایک مسافر سمجھے، جو چند دن کے لیے یہاں آیا ہے اور پھر اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔ اگر ہم نے اپنے ایمان کو محفوظ رکھا، اللہ سے تعلق مضبوط کیا اور اپنی زندگی کو دین کے مطابق ڈھال لیا تو یہی ہماری حقیقی کامیابی ہے، ورنہ دنیا کی چمک دمک ہمیں دھوکے میں ڈال دے گی۔
آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو فتنوں سے محفوظ رکھے، ہمارے ایمان کو مضبوط کرے، ہمیں نیک اعمال کی توفیق دے اور ہمیں سیدھے راستے پر قائم رکھے۔ آمین۔








