دعا کے ساتھ جامعہ رشید العلوم چترا کے نئے تعلیمی سال کا باضابطہ آغاز، تعلیمی و تربیتی معیار کو بلند کرنے پر زور


چترا (نمائندہ)۔جھارکھنڈ کی قدیم ترین و معروف دینی درس گاہ جامعہ رشید العلوم چترا میں نئے تعلیمی سال کا باضابطہ آغاز جامعہ کے مہتمم و شیخ الحدیث مفتی نذر توحید المظاہری کی دعا کے ساتھ نہایت روحانی اور سنجیدہ ماحول میں عمل میں آیا۔ اس موقع پر اساتذۂ کرام کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں ادارے کے تعلیمی و تربیتی نظام کو مزید مستحکم بنانے، اساتذہ کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرنے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
مہتمم صاحب نے اپنی مختصر گفتگو میں اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تدریس محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک عظیم امانت اور بھاری ذمہ داری ہے، جس کا تقاضا ہے کہ اسے پوری دیانت داری، اخلاص اور احساسِ جواب دہی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ انہوں نے حضرت اشرف علی تھانویؒ کے اس فکر انگیز قول کا حوالہ دیا کہ “نورانی قاعدہ پڑھانا بھی بخاری شریف پڑھانے کے برابر ہے”، جس کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کے ہر مرحلے اور ہر درجے کو یکساں اہمیت دی جائے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ کسی بھی کتاب یا مضمون کو معمولی نہ سمجھیں بلکہ ہر سبق کو مکمل توجہ، تیاری اور محنت کے ساتھ پڑھائیں تاکہ طلبہ کی بنیاد مضبوط ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کے درمیان علمی و فکری تبادلۂ خیال نہایت ضروری ہے، اس کے لیے آئندہ باقاعدہ طور پر “مجالسِ مذاکرہ” کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں اساتذہ اپنے تجربات، طریقۂ تدریس اور مسائل پر گفتگو کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف تدریسی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ باہمی ہم آہنگی اور تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔
اس موقع پر جامعہ کے صدر المدسین و استاذ حدیث مفتی شعیب عالم قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ رشید العلوم چترا ایک قدیم، معتبر اور معروف ادارہ ہے، جس کی علمی و دینی خدمات ایک روشن تاریخ رکھتی ہیں۔ ایسے ادارے سے وابستہ ہونا اپنے آپ میں ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری تعلیم و تربیت بھی اسی معیار اور وقار کی حامل ہو، جس کے لیے یہ ادارہ جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو تلقین کی کہ وہ جہاں طلبہ کے تعلیمی نظم و ضبط کو یقینی بنائیں، وہیں ان کی اخلاقی، روحانی اور عملی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں، کیونکہ ایک اچھا طالب علم صرف علم ہی نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کا بھی حامل ہوتا ہے۔
مفتی شعیب عالم قاسمی نے موجودہ معاشی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حالات جس نہج پر جا رہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ ایسی صورت میں ادارے کی مالی حالت کو مستحکم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ مالیات کسی بھی تعلیمی ادارے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سلسلے میں پیشگی منصوبہ بندی اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ ادارہ ہر طرح کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کی تدریسی و تربیتی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً تربیتی نشستوں اور مذاکروں کا انعقاد بے حد ضروری ہے۔ ان مجالس کے ذریعے مختلف النوع صلاحیتوں کے حامل اساتذہ ایک دوسرے سے افادہ و استفادہ کر سکیں گے، نئے طریقۂ تدریس سیکھیں گے اور درپیش مسائل کا حل تلاش کر سکیں گے، جس کے نتیجے میں مجموعی تعلیمی معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
نشست کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جامعہ رشید العلوم چترا اپنے روشن علمی و تربیتی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے نئے تعلیمی سال میں مزید ترقی و استحکام کی جانب گامزن ہوگا، اور اساتذہ و طلبہ باہمی تعاون، اخلاص اور محنت کے ساتھ اس مقصد کو حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
اس دعائیہ نشست میں جامعہ کے اساتذہ مفتی ثناء اللہ مظاہری،مفتی غلام سرور مظاہری،مفتی محمد دلشاد مظاہری،مولانا محمد اقبال نیر مظاہری،مولانا اسامہ صادق مظاہری،مولانا محمد احرار قاسمی،مولانا آفاق عالم مظاہری،مفتی احمد،مفتی عباد اللہ مظاہری،مفتی محمد دل شاد مظاہری،مولانا محمد رشیدی،مولانا عبد الغفور رشیدی،مفتی وصی اللہ مظاہری،مولانا جسیم الدین مظاہری،مفتی عمران رشیدی،مولانا وقاری انعام الحق قاسمی،مولانا قاری محمد سہیل مظاہری،ماسٹر شاہ فیصل،مولانا وقاری محمد توصیف رشیدی،مولانا و حافظ محم محفوظ ندوی،مولانا عبد العلیم رشیدی،حافظ محمد اسلام رشیدی،ماستر محمد دانش انصاری ودیگر عملہ میں مولانا محمد ابدال مظاہری،ماسٹر سنجیر،مولانا محمد خالد مظاہری،حافظ محمد عزیر رشیدی،محمد مرشد رشیدی،حافظ افروز رشیدی سمیت ادارے کے جمع ملازمین کے علاوہ علاقے کے متعدد ذمہ داران و بہی خواہان نے بھی شرکت کی۔








