مرحوم شاعر نعیم بدایونی کی یاد میں کُل ہند مشاعرے کا انعقاد


نئی دہلی،گزشتہ شام فنکار کلچر گروپ اور اردو ہندی ایکتا انجمن کے مشترکہ زیر اہتمام معروف شاعر مرحوم نعیم بدایونی کی یاد میں کل ہند مشاعرے کا انعقاد ساہتیہ سدن،منگول پور
خورد،دہلی میں کیا گیا۔
مشاعرے کی صدارت استاد شاعر جناب خمار دہلوی نے کی جبکہ اعجاز انصاری مہمانِ خصوصی، صوفی کشش وارثی اور انا دہلوی مہمانِ مکرم اور جبار شارب(جھانسی) اور خرم نور مہمان شاعر کی حیثیت سے تشریف لائے۔مشاعرے کی نظامت اسلم بیتاب اور عاصم کرتپوری نے مشترکہ طور پر کی۔کنوینر احترام صدیقی اور جوائنٹ کنوینر تابش خیرآبادی نے سبھی مہمانوں کو شال اوڑھائی۔

مشاعرے سے قبل اعجاز انصاری نے کرشن بہاری نور کے مصرعہ”زندگی چھوڑ بھی دے موت کہاں چھوڑتی ہے” سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ابھی چار جولائی کو ایوان غالب میں خمار دہلوی کے مشاعرے میں ان سے ملاقات ہوئی اور چھے روز بعد فیس بک پر اچانک ان کےانتقال کی خبر نے میرے پیروں تلے زمین کھسکا دی۔انسان مرتا ہے لیکن ایک فنکار کبھی نہیں مرتا۔ان کا ایک ایک لفظ ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ محفوظ رہے گا اور وہ ہمارے دلوں میں ہمشہ زندہ رہیں گے۔ صوفی کشش وارثی نے مرحوم سے اپنے پرانے روابط کا ذکر کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
مرحوم کے بیٹے بلال الدین،اریب الدین اور ان کا بھتیجہ عارف انصاری نے اس موقع پر خصوصی طور پر شرکت کی۔قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں چند شعراء کا منتخب کلام۔

آپ تو ہشیار تھے یہ آپ نے کیا کر لیا
رات کی تاریکیوں سے دن کا سودا کر لیا
(خمار دہلوی)
رہبروں کے عمل میں کچھ بھی نہیں
جو بھی نعرہ ہے اشتہار میں ہے
(اعجاز انصاری)
آپ کو ہم سے عداوت ہے بہت
غالباً ہم میں شرافت ہے بہت
(صوفی کشش وارثی)
ہم دونوں زندگی کے اس موڑ پر کھڑے تھے
میں انہیں نہ دیکھ پائی وہ مجھے نہ دیکھ پائے
( انا دہلوی)
یادوں کا گلدان سجا کر رکھا ہے
آپ کو اپنی جان بنا کر رکھا ہے
(جبار شارب)
حق کا اگر سوال کیا،کیا برا کیا
ظالم کو پائمال کیا،کیا برا کیا
(خرم نور)
بادشاہوں سے کم نہیں ہوتے
وہ جو سچے فقیر ہوتے ہیں
(اسلم بیتاب)
اس کے علاوہ شہادت علی نظامی،حشمت بھاردواج،انور غازیہ آبادی،قاضی نجم الاسلام نجم،پنڈت پریم بریلوی، جاوید عباسی،ہاشم دہلوی،وفا اعظمی، رام شیام حسین،عارف دہلوی،معید رہبر لکھنوی ، محمد علی علوی، عاصم کرتپوری،عارف انصاری،گل بہار گل،انیکا ایم،چندرکانتا اور ہما دہلوی سمیت کئی شعراء و شاعرات نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔








