latest posts

All India NewsBlog

دارالتحفیظ امارت شرعیہ کے دو طلبہ کی تکمیل حفظِ قرآن کے موقع پر دعائیہ تقریب کا انعقاد

Share the post

(پریس ریلیز : پھلواری شریف)   

امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ، پھلواری شریف، پٹنہ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک عظیم مشترکہ ملی سرمایہ ہے، جو ایک صدی سے زائد عرصے سے دین و شریعت کی حفاظت، احکامِ اسلام کی تنفیذ اور ملت کی دینی و سماجی رہنمائ کے ساتھ مکاتب، مدارس، افتاء اور قضاء کے وسیع نظام کے ذریعے نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے، اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی امارت شرعیہ کے احاطے میں قائم شعبہ حفظ ہے، جہاں سے اب تک 150 سے زائد طلبہ حفظِ قرآن کریم کی سعادت حاصل کر چکے ہیں،پھلواری شریف اور اس کے اطراف میں قرآن کریم کی تعلیم و حفاظت کو فروغ دینے کے مقصد سے 1990ء میں حضرت امیر شریعت رابع، مولانا منت اللہ رحمانیؒ کے حکم پر امارت شرعیہ کے اکابر و ذمہ داران نے قائم کیا تھا۔ اس وقت پھلواری شریف میں حافظِ قرآن کی تعداد نہایت محدود تھی اور صرف ایک حافظ موجود تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور امارت شرعیہ کی اس مبارک کاوش کے نتیجے میں آج پھلواری شریف اور اس کے گرد و نواح میں بڑی تعداد میں حفاظِ کرام موجود ہیں،

اسی مبارک سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج دو خوش نصیب اور ہونہار طلبہ، عزیزی عبدالصمد ولد منور عالم، ساکن فیڈرل کالونی، پھلواری شریف، پٹنہ، اور عزیزی محمد عرفان ولد محمد فاروق، ساکن غیاث نگر، پھلواری شریف، پٹنہ نے امارت شرعیہ کے اکابر و ذمہ داران کے سامنے حفظِ قرآن کریم کا آخری سبق سنا کر تکمیلِ حفظ کی سعادت حاصل کی، اس موقع پر شعبۂ حفظ کا ماحول مسرت، شکرگزاری اور دعاؤں سے معمور رہا،اس بابرکت تقریب کی صدارت شعبۂ کے نگران اور امارت شرعیہ کے نائب ناظم حضرت مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کی، جب کہ مجلس سے امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم حضرت مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نے خطاب کیا،اپنے خطاب میںانہوںنے کہا کہ حفظِ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا ہونے والی عظیم سعادت اور بہت بڑی نعمت ہے اس موقع پر طلبہ کے ساتھ ان کے اساتذہ اور والدین بھی مبارک باد کے مستحق ہیں، جن کی محنت، تربیت، توجہ اور دعاؤں کے نتیجے میں بچوں کو یہ عظیم شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے امارت شرعیہ کی ہمہ جہت دینی و ملی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دار التحفیظ کا قیام ایک ایسی مبارک کوشش ہے جس کے اثرات پھلواری شریف اور اس کے اطراف میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، اس ادارے کے ذریعے اب تک 150 سے زائد طلبہ قرآن کریم حفظ کر چکے ہیں۔ یہ ان بزرگوں کی دور اندیشی اور دینی فکر کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس کارِ خیر کی بنیاد رکھی۔ اس عظیم دینی خدمت کا اجر اللہ تعالیٰ کے یہاں ان شاء اللہ اساتذہ، معاونین اور ان اکابر کو بھی ملے گا جنہوں نے اس سلسلے کو شروع کیا اور آگے بڑھایا۔حضرت قائم مقام ناظم نے مزید کہا کہ اج حاضرین کی دعائیں ان طلبہ کو مل رہی ہیں.

چند دنوں میں حضرت امیر شریعت مفکر ملت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہم اور عمرہ کے سفر سے واپس آنے پر حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی ناظم اعلی امارت شرعیہ کی دعائیں بھی ان خوش نصیبوں کو ملیں گی، اس موقع پر حضرت مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے طلبہ اور اساتذہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ حفظِ قرآن کی تکمیل منزل کا اختتام نہیں، بلکہ ایک نئی ذمہ داری کا آغاز ہے۔ قرآن کریم کو یاد کرنے کے ساتھ اس کی تلاوت، اس پر عمل اور اس کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے تکمیلِ حفظ کے موقع پر پڑھی جانے والی دعا کی جامعیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اس دعا میں قرآن کریم کی شب و روز تلاوت کی توفیق، اس پر عمل کی سعادت، اس کے ساتھ تعلق کو ہمیشہ قائم رکھنے اور اسے زندگی کی شاہراہِ عمل بنانے کی درخواست شامل ہے، اس میں قبر کی تاریکی میں قرآن کریم کو باعثِ انس و رحمت بنانے اور اسے اپنے لیے امام، رہنما اور ذریعۂ ہدایت بنانے کی دعا بھی کی جاتی ہے، اس لیے حفاظِ کرام کو چاہیے کہ وہ قرآن کریم کو محض یاد رکھنے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ اس کے احکام و تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی سنواریں،اسی موقع پر حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ کے قریبی رشتہ مندجناب جاوید اقبال صاحب( عرف گڈو ) ہریوہ ،سمری بختیار پور جن کا کل سانحہ ارتحال پیش آیا ان کی تعزیت میں بزرگوں نے تعزیتی کلمات کہے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی،مجلس کا اختتام قاضی شریعت حضرت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی کی دعا پر ہوا، اس بابرکت مجلس میں امارت شرعیہ کے دیگر ذمہ داران میں حضرت مولانا مفتی محمد احتکام الحق قاسمی،قائم مقام مفتی دارالافتاء امارت شرعیہ، امارت شرعیہ کےمعاون ناظم حضرت مولانا احمد حسین قاسمی مدنی، نیز دار التحفیظ کے فعال اساتذہ جناب قاری مجیب الرحمن صاحب اور جناب مولانا قاری شمس الزماں کے علاوہ تکمیلِ حفظ کرنے والے طلبہ کے سرپرست اور دیگر متعلقین موجود تھے،یہ تقریب نہ صرف دو طلبہ کی تکمیلِ حفظ کی خوشی کا موقع تھی، بلکہ امارت شرعیہ کی اس دیرینہ دینی جدوجہد کی یاد دہانی بھی تھی جس کے ذریعے قرآن کریم کی تعلیم و حفاظت اور نئی نسل کے دلوں میں اس کی محبت راسخ کرنے کا کام مسلسل انجام دیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ دونوں طلبہ کو قرآن کریم کا سچا خادم بنائے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، ان کے والدین و اساتذہ کی محنتوں کو قبول فرمائے اور امارت شرعیہ کے اس دینی و تعلیمی نظام کو مزید ترقی و استحکام عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Response