All India NewsBlog

 حضرت مولانا قاضی مفتی نذر توحید صاحب المظاہری کی عیادت

Share the post

جامعہ رشید العلوم، چترا میں حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب کا ایمان افروز خطاب

چترا (جھارکھنڈ)،4/ اگست 2026ء:
جامعہ رشید العلوم، چترا (جھارکھنڈ) میں امیرِ شریعت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب (کارگزار صدر، آل انڈیا ملی کونسل، نئی دہلی) کی آمد کے موقع پر علمی و روحانی فضا قائم رہی۔ نمازِ فجر کے بعد جامعہ کی مرکزی مسجد میں حضرت مولانا نے طلبہ کرام سے نہایت بصیرت افروز، علمی اور ایمان افروز خطاب فرمایاکہ اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع ہے۔ مسلمان کی پوری زندگی سنت کے مطابق ہونی چاہیے۔ صبح بیدار ہونے سے لے کر رات سونے تک ہر عمل میں مسنون دعاؤں اور سنتوں کا اہتمام کیا جائے اور زندگی کے ہر شعبے کو سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔حضرت مولانا نے طلبہ کو تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز کی پابندی کرنے اور اللہ تعالیٰ سے علمِ نافع، اخلاص اور عملِ صالح کی مسلسل دعا کرنے کی تلقین فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ صحابہئ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین اور امت کے تمام اکابر و اسلاف نے سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کا شعار بنایا، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں علم، عمل، اخلاص، عزت اور قبولیت سے نوازا۔حضرت مولانا نے اکابر و اسلاف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سبق کو کئی کئی مرتبہ دہراتے، اس کے دقائق و نکات پر غور کرتے اور مکمل اطمینان کے بعد ہی آگے بڑھتے تھے۔

یہی مسلسل محنت، تکرار اور استقامت انہیں علمی رفعتوں تک لے گئی۔آپ نے طلبہ کو اپنے اوقات کی منظم تقسیم کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ

علم، ادب کے بغیر بے نور ہے۔ اس لیے طالبِ علم اپنے اساتذہ، کتابوں، مدرسے، ساتھیوں اور تعلیمی ماحول کا بھرپور ادب و احترام کرے کیونکہ ادب ہی علم کی برکت، ترقی اور قبولیت کا اصل سبب ہے۔اس موقع پر حضرت مولانا نے علومِ دینیہ کی اہم کتابوں کا بھی ذکیاکہ تفسیرِ جلالین اپنی جامعیت، اختصار اور علمی افادیت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتی ہے، جبکہ صحیح بخاری کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے فقہی بصیرت کے ساتھ احادیث سے بہترین استدلال فرمایا ہے، جس سے طالبِ علم کو حدیث کے ساتھ فقہ و اجتہاد کا ذوق بھی حاصل ہوتا ہے۔یہی حال فقہ کی مشہورکتاب ”ہدایہ“کاہے بہت ہی اہم کتاب ہے،مولانا نے مزید فرمایا کہ درسی علوم صرف امتحان پاس کرنے کے لیے حاصل نہ کیے جائیں، بلکہ صحیح فہمِ دین، اپنی اصلاح اور امت تک دین کی امانت داری کے ساتھ ترسیل کی نیت سے حاصل کیے جائیں۔ یہی علمِ نافع دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔خطاب کے اختتام پر آپ نے فرمایا کہ کامیابی کا کوئی مختصر راستہ نہیں، بلکہ محنت، اخلاص، استقامت، تکرار، ادب اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی مضبوط اتباع ہی انسان کو بلندیوں تک پہنچاتی ہے،

اس موقع پر آل انڈیا ملی کونسل بہار کے جنرل سکریٹری حضرت مفتی محمد نافع عارفی صاحب، مفتی محمد جمال الدین قاسمی صاحب اور دیگر علماء کرام بھی موجود تھے۔جب کہ اس سے قبل یکم اگست 2026ء بروز سنیچر بعد نمازِ مغرب حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے آل انڈیا ملی کونسل بہار کے جنرل سکریٹری مفتی محمد نافع عارفی صاحب اورمفتی محمدجمال الدین قاسمی اور دیگر رفقاء کے ہمراہ جامعہ رشید العلوم کے مہتمم و شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی مفتی نذر توحید صاحب المظاہری کی عیادت فرمائی۔ اس موقع پر جامعہ کے ذمہ داران اور اساتذہ کرام نے معزز وفد کا نہایت محبت اور خلوص کے ساتھ استقبال کیا۔حضرت مولانا نے حضرت مفتی نذر توحید صاحب کی مزاج پرسی کرتے ہوئے ان کی جلد، کامل اور دائمی صحت یابی کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

Leave a Response