Ranchi Jharkhand

ابو ذر عثمانی تجھے زمانہ یاد رکھے گا(ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی)

مولانا آزاد کالج رانچی میں رانچی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور بعد میں ونوبابھاوے یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر نیز اردو ادب کے عملی نقاد جناب ابوذر عثمانی صاحب مرحوم کی یاد اور ان کے اعزاز میں ایک تعزیتی نشست شعبہ اردو کے صدر اورمولانا آزاد کالج کے انٹر انچارج مولانا ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی صاحب کی صدارت میں ہوئی جس میں کالج کے تمام اساتذہ نے شرکت کی, کالج کے وائس پرنسپل و شعبہ کامرس کے صدر پرویز اختر صاحب نے کہا کہ پروفیسر ابوذر عثمانی صاحب مرحوم کی ذات اور ان کی خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا ہے وہ اپنے آپ میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے مولانا آزاد کالج کے شعبہ اردو کے جناب ڈاکٹر اشرف حسین نے کہا کہ پروفیسر ابوذر عثمانی صاحب مرحوم ایک عہد ساز شخصیت کا نام ہے آج وہ ہمارے بیچ نہیں رہے لیکن ان کا ادبی کارنامہ اور ان کے ہزاروں شاگرد ملک کے مختلف حصوں میں آج بھی موجود ہیں جنہیں عثمانی صاحب کا عکس کہاجائے تو غلط نہ ہوگا, وہیں شعبہ اردو کی ہی ڈاکٹر فردوس جبیں نے عثمانی کی سانحہ ارتحال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے انتقال کے سالوں بعد بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ آج بھی ہمارے موجود ہیں عثمانی صاحب کا شمار بھی انہیں شخصیتوں میں ہوتا ہے, شعبہ تاریخ کے صدر جناب ڈاکٹر محمد الیاس مجید صاحب نے کہا کہ پروفیسر ابوذر عثمانی صاحب مرحوم ایک عہد ساز شخصیت کا نام ہے آج وہ ہمارے بیچ نہیں رہے لیکن ان کا ادبی کارنامہ اور ان کے مختلف کارناموں کا مجموعہ آج بھی پاس موجود ہے,شعبہ تاریخ کے ہی پروفیسر محمود عالم صاحب نے کہا کہ پروفیسر ابوذر عثمانی صاحب مرحوم کو عملی نقاد کہا جاتا ہے اسی طرح انہیں صرف استاذ نہ کہہ کر عملی اور مربی استاذ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا,مولانا آزاد کالج کی لائبریرین گل فرح نے کہا کہ پروفیسر ابوذر عثمانی صاحب مرحوم کو بچپن سے جانتی ہوں کیوں کہ میرے والد محترم غلام غوث صاحب سابق پرنسپل مولانا آزاد کالج سے ان کے گہرے روابط تھے ,طالب علمی کے دور میں ابو ذر عثمانی صاحب مرحوم کو پڑھنے کا بھی موقع ملا اور بعد میں ان کی ادبی خدمات اور اردو تحریک سے ان کی وابستگی سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں بھی دیکھنے اور سننے کو ملا,
اخیر میں مولانا ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی صاحب نے شرکاء کی تمام گفتگو اور تاثرات کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ میں ابو ذر عثمانی صاحب مرحوم کا براہ راست شاگرد رہا ہوں جس پر مجھے فخر اور یہ فخر یقیناً اوروں کو بھی ہوگا ,انہوں نے کہا کہ پروفیسر ابوذر عثمانی صاحب مرحوم کی ذات اور ان کی شخصیت ایسی تھی کہ انہیں زمانہ یاد رکھے گا, عام انسان تو پیدا ہوتا ہے اور مرجاتا ہے لیکن تاریخ کے اوراق میں انہیں کو جگہ ملتی ہے جو کسی پہلو سے بھی کوئی یادگار کام کر جاتے ہیں, پروفیسر ابوذر عثمانی صاحب مرحوم اپنی ادبی و تحریکی خدمات کی بنیاد پر ہی یاد رکھے جائیں گے,
مولانا قاسمی ابوذر عٹمانی صاحب کے ایصال ثواب کیلئے تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر ان کی مغفرت کی دعا کرائی اور ان لواحقین سے اظہار ہمدردی کا اظہار کیا, اس تعزیتی نشست میں شعبہ فلسفہ کے صدر جناب ڈاکٹر انور علی, شعبہ انگریزی کی فردوس ولی, شعبہ سائیکالوجی کے ڈاکٹر اعجاز احمد, شعبہ جغرافیہ کی عائشہ فاطمہ, محمد پرویز عالم حیدر علی, سمیع اللہ, ٹناءاللہ, محمد رمضان ,محمد ریاض وغیرہ موجود تھے
مذکورہ جانکاری ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے مولانا آزاد کالج کے ہیڈ کلرک پرویز احمد نے دی,

Leave a Response